محمد اسماعیل خاں امجدی گونڈہ:
🕋🕋🕋🕋7⃣8⃣6⃣🕋🕋🕋🕋
*💚فون پر طلاق کا حکم 💚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*حضور عالی اس طرح کا کوٸی ہوتو ارسال فرمادیں۔*
*فون پر طلاق کے سلسلے میں*
*🌹فقیر تسنیم رضوی*
🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ برکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ*
*طلاق واقع ہونے کے لئے زبان سے کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ تحریر سے بھی طلاق ہو جاتی ہے فقہ کی تمام کتب میں مذکور ہے کہ تحریر گفتگو اور خطاب ہی کے حکم میں ہے ۔*
*چنانچہ علامہ مرغینانی نے فرمایا الکتاب کالخطاب ہدایہ جلد 3 صفحہ نمبر 2*
*اور ایس ایم ایس بھی تحریر ہے لہذا اسے طلاق ہوجائے گی صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں تحریر سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے جب کہ مرسوم یا نسبت طلاق ہو*
*📚فتاویٰ امجدیہ جلد 2 صفحہ نمبر 172*
*اور طلاق واقع ہونے کیلئے اپنی بیوی کی طرف نسبت ضروری ہے نسبت خواہ لفظ میں ہو مثلا تجھ کو یا تجھے طلاق ہے یا بیوی کا نام لے کر کہا کہ اسے طلاق ہے یا نسبت لفظوں میں نہ ہو مگر شوہر کی نیت اور مراد میں ہو بغیر اضافت اور نسبت طلاق واقع نہیں ہوگی درمختار میں ہے و لم لعرکہ الاضافۃ الیھا اور رد المحتار میں ہے ولا یلزم کون الاضافۃ صریحہ فی کلامہ لما فی البحر او قال طالق فقیل لہ من الاخ لہذا اگر کسی نے صرف لفظ طلاق کہا اور اس کہنے سے اس کی مراد اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں*
*📚فتاویٰ علیمیہ جلد دوم صفحہ نمبر 148*
*اگر کسی نے فون پر طلاق دی تو واقع ہو گئی کہ طلاق کے لیے عورت کا موجود ہونا یا شہادت کا ہونا ضروری نہیں اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں طلاق ہو گئی طلاق کے لیے عورت کا وہاں حاضر ہونا کچھ شرط نہیں فانہ ازالۃ لا عقد کما لا یخفی یعنی یہ ازالئہ نکاح ہے نکاح نہیں تاکہ حاضری ضروری ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں*
*📚فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلدی 5 صفحہ نمبر 618*
*📚تحقیقی فتاوی طلبہ جامعہ صمدیہ صفحہ نمبر 132*
*اور ایسے ہی سوال کے جواب میں مفتی اختر حسین صاحب قبلہ ارشاد فرماتے ہیں کہ فون کے اوپر طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے*
*📚 فتوی علیمیہ جلددوم صفحہ نمبر 145*
*اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تسریح باحسان پھر فرماتا ہے فان طلقہا فلا تحل لہ الاخ*
*اس آیت سے معلوم ہوا کہ دو طلاق ہو تو رجوع کا حکم ہے تین میں نہیں اور مرتان کے اطلاق سے معلوم ہوا کہ الگ الگ دینا سر نہیں جس کے بغیر طلاق واقع ہی نہ ہو ایک دم دے یا الگ الگ حکم یہی ہوگا چنانچہ*
*تفسیر صاوی میں اس آیت کے تحت ہے فان طلقہا الی طلقۃ ثلثۃ سواء وقع الاخ یعنی آیت کا مقصد یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں دے تو واقع ہو جائیں گی اور ایک بارگی دے یا الگ الگ عورت حلال نہ رہے گی آگے فرماتے ہیں کہ اذا قال لھا انت طالق ثلاثا الاخ یعنی اگر کوئی شخص یوں کہندے کی تجھے تین طلاقیں ہیں تو تینوں واقع ہو جائیں گی اس پر علماء کا اتفاق ہے صحاح ستہ کی مشہور کتاب ابن ماجہ شریف باب من طلق فی مجلس واحد میں ہے کہ فاطمہ بنت قیس فرماتی ہیں کہ مجھے میرے شوہر نے یمن جاتے وقت تین طلاقیں ایک دم دے دیں ان تینوں کو حضور نے جائز رکھا عبارت یہ ہے قالت طلقنی زوجی ثلاثا الاخ 145*
*محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ 3 طلاقیں دے دیں آقا سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا لوگ کتاب اللہ سے کھیل کرتے ہیں حالانکہ میں تمہارے درمیان ابھی موجود ہو*
*📚 نسائی جلد 2 صفحہ 181*
*حضرت سہل بن سعید سے مروی ہے کہ حضرت عو یمر نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دے تو آقائے دوجہاں نے ان تین طلاقوں کو نافذ کر دیا*
*📚 ابو داؤد جلد 1صفحہ نمبر 306 ۔*
*اسی طرح سنن دارقطنی میں ہے کہ حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دیں تو نبی سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کردیا اسی میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد موجود ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جو اپنی بیوی کو تین طلاق دے خواہ ہر طہر میں الگ الگ یا ہر ماہ کے شروع میں ایک ایک یا ایک ساتھ تین طلاق دے اسکی بیوی حلال نہیں ہو گی جب تک کسی دوسرے سے نکاح نہ کرے*
*📚 دارقطنی جلد 4 صفحہ نمبر 31*
*حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ایک شخص نے عرض کیا میں نے اپنی بیوی کو 100 طلاقیں دے دیں آپ نے فرمایا اسے تین طلاقیں ہوگئی اور 97 طلاقوں سے تو نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا*
*موطا امام مالک صفحہ نمبر 510*
*حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی بھی یہی ہے کہ جو ایک مجلس میں
اپنی بیوی کو تین طلاق دے تو اس کے لیے حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی*
*عمدۃ الرعایہ میں ہے کہ ان الثلاث تقع بایقاعہ سواء کانت الاخ یعنی ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں خواں عورت مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ یہی مذہب جمہور صحابہ تابعین اور ائمہ اربع مجتہدین اور ان کے متبعین کا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو آپ نے فرمایا اس پر تین طلاقیں پڑ گئیں عبارات بالا سے یہ امر ظاہر و باہر ہوگیا کہ ایک مجلس میں بیک زبان تین طلاقیں دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں*
*📚فتاوی مرکز تربیت یافتہ جلد اول صفحہ نمبر 207*
*مذکورہ بالا مسئلے میں عورت دوبارہ اپنے شوہر سے سوال کرتی ہے کہ کیا آپ نے مجھ کو طلاق دیا تو شوہر بیوی کو جواب دیتا ہے کہ دو بار نہیں ہزار بار تجھ کو طلاق اس عبارت کو آیات و احادیث و تفاسیر علماء کرام کے اقوال کی رو سے دیکھا جائے تو عورت پر تین طلاق واقع ہوگی اور باقی 997 طلاقوں سے اس آدمی نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اس کے متعلق حضرت ابن عباس کا قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ایک شخص نے عرض کیا میں نے اپنی بیوی کو 100 طلاقیں دے دیں آپ نے فرمایا اسے تین طلاقیں ہوگئی اور 97 طلاقوں سے تو نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا*
*📚موطا امام مالک صفحہ نمبر 510*
*حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی بھی یہی ہے کہ جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے تو اس کے لیے حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔*
*صدر شریعہ حضرت علامہ امجد علی صاحب قبلہ رحمتہ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کہا تجھے ہزاروں طلاق یا چند بار طلاق تو تین طلاق واقع ہونگی*
*📚 بہارشریعت جلد 1 صفحہ نمبر 699*
*خلاصہ کلام یہ ہے کہ زید کی بیوی ہندہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اب بغیر حلالہ وہ زید کے لئے حلال نہ ہوگی حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرے وہ شخص اس کے ساتھ وطی کرے پھر اگر وہ مر جائے یا طلاق دے دے تو دوبارہ عدت گزرنے کے بعد زید ہندہ کی رضا سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اگر دوسرے شخص نے بغیر ہمستری کیے اسے طلاق دے دی تو شوہر اول زید اس سے نکاح نہیں کر سکتا بلفظ دیگر صحت حلالہ کے لئے دوسرے شوہر کا وطی کرنا ضروری ہے*
*اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ پارہ نمبر2 سورہ بقرہ آیت نمبر 23*
*فتاویٰ ہندیہ میں ہے ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیح الاخ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 473*
*در مختار میں ہے لا یلحق البائن البائن اذا امکن جعلہ اخبارا عن الاول الاخ جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 308*
*اور حضور صدر شریعہ رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں اگر تین طلاق واقع ہوگئیں تو بغیر حلالہ اس کی نکاح میں وہ عورت نہیں آ سکتی*
*📚فتاویٰ امجدیہ جلد 2 صفحہ نمبر 206*
*اللہ تبارک وتعالی ہم تمامی حضرات کو اہلسنت والجماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رکھے آمین*
*♦واللـــہ تـعالـــیٰ اعلــم باالصــواب♦*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆*
*✍🏼ازقـــــلــم حضـــرت علامــــہ ومولانـــا*
*محمـــد اسمــاعیـل خـان امجـدی صاحـب*
*قبلــــہ مدظلــــہ العـــالــٰـی والنـــــورانــــی*
*دولـھـــــــاپورضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــــــــ https://wa.me/+919918562794
*جولائی 07/08/2019 عیسوی بروز بدھ*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆*
*🖥الـمــرتــب،محمد اسراءالحق قادری بہـار*
*رابطہ*
https://wa.me/+918425086470
*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*
*👈🏻میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👆🏻👆🏻*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
تبصرے