نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کسی کی تیس چالیس سال کی نماز قضا ہوئی تو کیسے اداکریں

*🌹اگر کسی کی تیس یا چالیس سال تک کی نمازیں قضاء ہیں وہ کیسے ادا کریں؟🌹*

*اگر کسی کی تیس یا چالیس سال تک کی نمازیں قضاء ہیں وہ کیسے ادا کریں گے  حساب کر کے ایک ایک نماز پڑھنی ہوگی کیا*

*🌹الستفتى🌹مولانا عبد الحكيم صاحب باڑمير راجستهان*
◆ـــــــــــــــــ▪💠▪ــــــــــــــــــ◆
*✍الجـواب بعـون المـلـك الـوهـاب،*

*📄 جس نے کبھی نَمازیں ہی نہ پڑھی ہوں اور اب توفیق ہوئی اورقضا ئےعمری پڑھنا چاہتا ہے وہ جب سے بالِغ ہوا ہے اُس وَقت سے نَمازوں کا حساب لگائے اور تاریخ بُلُوغ بھی نہیں معلوم تو اِحتیاط اِسی میں ہے کہ ہجری سِن کے حساب سے عورت نو سال کی عُمر سے اور مَرد بارہ سال کی عُمر سے نَمازوں کا حساب لگائے۔*

*♦قَضا پڑھنے میں ترتیب*

*قَضائے عُمری میں یوں بھی کر سکتے ہیں کہ پہلے تمام فجر یں ادا کرلیں پھر تمام ظُہر کی نَمازیں اسی طرح عصر ،مغرِب اور عشاء ۔*

*🔰قَضا ہر روز کی بیس رَکْعَتیں ہوتی ہیں ۔ دو فرض فجرکے، چار ظہر، چار عصر، تین مغرِب ، چار عشاء کے اور تین وِتر ۔نیّت اِس طرح کیجئے،مَثَلاً: ’’ سب سے پہلی فَجرجو مجھ سے قَضا ہوئی اُس کو ادا کرتا ہوں۔ ‘‘ ہرنَماز میں اِسی طرح نیّت کیجئے ۔جس پر بکثرت قَضانَمازیں ہیں وہ آسانی کیلئے اگر یُوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رُکوع اور ہرسَجدے میں تین تین بار ’’سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم ‘سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘کی جگہ صرف ایک ایک بار کہے ۔ مگر یہ ہمیشہ اور ہر طرح کی نَماز میں یاد رکھنا چاہئے کہ جب رکُوع میں پوراپَہنچ جائے اُس وقت سُبحٰن کا ’’سین ‘ ‘ شُروع کرے اور جب عظیم کا ’’ میم‘‘ ختم کر چکے اُس وقت رُکوع سے سر اٹھا ئے ۔ اِسی طرح سَجدے میں بھی کرے۔ ایک تَخفیف(یعنی کمی) تویہ ہوئی اور دوسری یہ کہ فرضوں کی تیسری اور چوتھی رَکْعَت میں اَلحَمْد شریف کی جگہ فَقَط’’ سُبْحٰنَ اللہِ‘‘ تین بار کہہ کر رُکوع کر لے ۔ مگر وِتر کی تینوں رَکْعَتوں میں اَلحَمْدشریف اور سُورت دونوں ضَرور پڑھی جائیں ۔ تیسری تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ قعدئہ اَخیرہ میں تَشَھُّد یعنی اَلتَّحِیّات کے بعددونوں دُرُودوں اور دعا کی جگہ صِرْف ’’ اللہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ‘‘کہہ کر سلام پھیر دے ۔چوتھی تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ وِتْر کی تیسری رَکْعت میں دعائے قُنُوت کی جگہ اللہُ اکبر کہہ کر فَقَط ایک بار یا تین بار’’ رَبِّ اغْفِرْ لِی‘ ‘ کہے ۔* 
*(📙مُلَخَّص اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ ص۱۵۷)*

*♦ یاد رکھئے! تَخفیف یعنی کمی)کے اس طریقے کی عادت ہر گز نہ بنائیے،معمول کی نمازیں سنّت کے مطابِق ہی پڑھئے اور ان میں فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سُنَن اور مُستَحَبّات وآداب کی بھی رِعایت کیجئے۔*

*🔹نمازِ قَصر کی قَضا*

*اگر حالتِ سفر کی قَضانَماز حالتِ اِقامت میں پڑھیں گے تو قَصر ہی پڑھیں گے اور حالتِ اِقامت کی قَضا نَمازحالتِ سفر میں پڑھیں گے تو پوری پڑھیں گے یعنی قصر نہیں کریں گے۔*

*📘(عالمگیری ج۱ص۱۲۱)*

*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب؛*
◆ـــــــــــــــــ▪💠▪ــــــــــــــــــ◆
*✍كتـبــہ:- حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*بتاريخ، ❼ رَجَبُ الْمُرَجَّبْ ٠۴۴١؁ھ*
*♦الحـلـقـتـہ العـلـمـيـہ گــروپ؛♦*
*رابطــہ؛ +919918562794)*
◆ـــــــــــــــــ▪💠▪ــــــــــــــــــ◆
*المشتــــہر؛*
*منجانب؛ منتظمين الحلقـتـہ العلـمـيـہ گروپ؛ اسيـر تاج الشريعه غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى انڈيا؛*
◆ـــــــــــــــــ▪💠▪ــــــــــــــــــ◆
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.