نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عورتوں کو رسول اللہ کے مزار پر جانے کی اجازت کیوں ہے

محمد اسماعیل خاں امجدی گونڈہ:
*🌹عورتوں کو رسول اللہ ﷺ کے مزار مقدس پر جانے کی اجازت ہے اولیاء کرام کے مزار پر جانے کی اجازت کیوں نہیں؟🌹*

*☪فخر ازهر گروپ؛ ٹیلى گرام*
*لنک:* t.me/Fakhr_e_Azhar

السلام علیکم ورحمة اللہ برکاتہ
ایک شحص کا کہنا ہے کہ عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم  کے مزار مقدس پر جانے کی اجازت ہے
اولیاء کرام کے مزار اقدس پر جانے کی اجازت کیوں نہیں 
وہاں اجازت کیوں ہے
یہاں کیوں نہیں
رہنمائی فرمائیں

🌹سائل🌹 محمد شمیم اختر کٹیہار

◆ــــــــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــــــــــ◆
*وعليكم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📿بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ📿*
*اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّابِ اللّٰھُمَّ ھِدَایَةَالْحَقّ وَالصّوَابِ*

زیارت سراپا طہارت حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بالقطع والیقین باجماع مسلمین افضل قربات واعظم حسنات سے ہے جس کی فضیلت وخوبی کا انکار نہ کرے گا مگر گمراہ بد دین یا کوئی سخت جاہل، سفیہ غافل، سخرہ شیاطین
(والعیاذ باللہ رب العالمین۔)
 اس قدر پر توا جماع قطعی قائم ، اور کیوں نہ ہو، خود قرآن عظیم اس کی طرف بلاتا اور مسلمانوں کو رغبت دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
_(ولو انھم اذظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا ﷲ واستغفر لھم الرسول لوجدوﷲ توابا رحیما)_
یعنی اگر ایسا ہو کہ وہ جب اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ وجرم کریں تیری بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہو پھر خدا سے مغفرت مانگیں اور مغفرت چاہے ان کے لیے رسول، تو بیشک اللہ عزوجل کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں،
(القرآن)       

*📙امام سبکی شفاء السقام اور شیخ محقق جذ ب القلوب میں فرماتے ہیں:*
علماء نے اس آیت سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حال حیات وحال وفات دونو ں حالتوں کو شمول سمجھا اور ہر مذہب کے ائمہ مصنفین مناسک نے وقت حاضری مزار پُر انوار اس آیت کی تلاوت کو آدابِ زیارت سے گنا

*📗علامہ سمہودی شافعی وفاء الوفاء میں فرماتے ہیں:*
حنفیہ زیارت شریف کو قریب بہ واجب کہتے ہیں، اور اسی طرح مالکیہ وحنبلیہ نے تصریح کی

*وفاء الوفاء الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ الخ            *داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۳۶۶)*

ہماری کتب مذہب میں مناسک فارسی وطبرابلسی وکرمانی واختیار شرح مختار وفتاویٰ ظہیریہ و فتح القدیر وخزانۃ المفتین ومنسک متوسط ومسلک متقسط ومنح  الغفارو مراقی الفلاح وحاشیہ طحطاویہ علی المراقی و مجمع الانہر وسنن الہدیٰ وعالمگیری وغیرہ میں اس کے قریب واجب ہونے کی تصریح کی بلکہ خود صاحب مذہب سیدنا امام اعظم سے اس پر نص منقول، جذب القلوب میں ہے
زیارت آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نزد ابی حنیفہ از افضل مندوبات واوکد مستحبات است قریب بہ درجہ واجبات
زیارت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل مندوبات واعلیٰ مستحبات سے ہے درجہ واجبات کے قریب۔

*📙(جذب القلوب باب پانزدہم دربیان حکم زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم    نولکشورلکھنؤ ص۲۱۰)*

اور بعض ائمہ مالکیہ وشافعیہ تو صاف صاف واجب کہتے ہیں اور یہی مذہب ظاہریہ سے منقول۔ امام ابن الحاج مکی مالکی مدخل اور امام سبکی شافعی تہذیب الطالب امام عبدالحق بن محمد سے نقل فرماتے ہیں:
امام ابو عمران فاسی مالکی نے فرمایاقبر شریف حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت واجب ہے

*(وفاء الوفاء  بحوالہ عبدالحق    الفصل الثانی فی بقیہ ادلۃ الزیارۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۶۴)*

امام قاضی عیاض مالکی شفا شریف میں امام ابو عمرو سے ناقل
قبر اقدس حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سفر کرکے جانا واجب ہے

*(کتاب الشفا قاضی عیاض    فصل فی حکم زیارۃ قبر     مطبوعہ شرکت صحافیۃ فی البلادالعثمانیہ ۲ /۷۵)*

اسی طرف امام قسطلانی شارح صحیح بخاری شافعی وامام ابن حجر مکی شافعی و علامہ علی قاری حنفی وغیرہم علماء کا میلان ہے بلکہ بعض کلمات امام سبکی بھی اسی طرف نا ظر، شفا شریف میں فرمایا:
زیارت قبر میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور نبی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم واجب

*(شفاء السقام الباب الخامس فی تقریر کون الزیارۃ قربۃ            مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ص۸۳)*

اسی طرح مواہب لدنیہ شریف میں ہے، او ر شک نہیں کہ ظاہر دلیل اسی کو مقتضی ۔ ابن عدی وغیرہ کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
(من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی)
جو حج کرے اور میری زیارت کو حاضر نہ ہو بیشک اس نے مجھ پر جفا کی۔

*(کامل ابن عدی ترجمہ النعمان شبلی الباہلی  دارالفکر بیروت ۷ /۲۴۸۰)*

علامہ علی قاری شرح لباب میں اس کی سند کو حسن اور وہی شرح شفاء ودرہ مضیہ اور امام ابن حجر جوہر منظم میں محتج بہ فرماتے ہیں، انہی دونوں کتابوں میں فرمایا:
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جفا حرام ہے توزیارت نہ کرنا متضمنِ جفا ہے حرام

ہوا

*(الجوہر المنظم ابن حجر مکی    فصل اول مطبعہ خیریہ مصر    ص۸)*

📗مدارج النبوۃ میں ہے:
صاحب مواہب گفتہ ایں ظاہر است در حرمتِ ترکِ زیارت زیرا کہ دریں جفا واذائے اوست و جفاء واذائے آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرام ست باجماع پس واجب باشدازالہ جفا وآں بزیارت خواہد پس زیارت واجب باشد
صاحب مواہب نے فرمایا کہ زیارت نہ کرنے کی حرمت پر یہ ظاہر ہے کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے جفا ہے اور آپ کو ایذا ہے جبکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جفا اور ایذاء بالاجماع حرام ہے، تواس جفا کے ازالہ کے لیے زیارت واجب ہے۔

*(مدارج النبوۃ  وصل درذکر غم والم مفارقت آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۴۴۴)*

امام قسطلانی اس عبارت کے بعد فرماتے ہیں بالجملہ جوباوجود قدرت کے ترک زیارت کرے اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جفا کی اور حضور کا ہم پر یہ حق نہ تھا

*(المواہب اللدنیہ مقصد عاشرفصل ثانی الترغیب فی زیارتہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم المکتبہ الاسلامی بیروت    ۴ /۵۷۱)*

اسی طرح ترک زیارت کے موجب جفا ہونے میں متعدد حدیثیں آئیں کہ حضرت والد علام قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں ذکر فرمائیں اور شک نہیں کہ افراد میں اگر چہ کلام ہو مجموع حسن تک مترقی، اور حسن اگر چہ لغیرہٖ ہو محل احتجاج میں کافی، اور اسی کے مناسب قصہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ امام ابن عساکر وغیرہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور امام سبکی نے شفاء اور علامہ سمہودی نے وفا اور امام ابن حجر نے جوہر میں اس کی سند کو جید کہا کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام میں سکونت اختیار فرمائی خواب میں حضور پر نور سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سے شرفیاب ہوئے کہ ارشاد فرماتے ہیں:
(ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما آن لک ان تزورنی یا بلال!)
اے بلال! یہ کیا جفا ہے، اے بلال! کیاابھی تجھے وہ وقت یاد نہ آیا کہ میری زیارت کو حاضر ہو۔
بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین وترساں وہراساں بیدار ہوئے اورفوراً قصدِ مزار پرانوار جانب مدینہ شد الرحال فرمایا، جب شرف حضور پایا قبر  انور کے حضور رونا اور منہ اس خاک پر ملنا شروع کیا،دونوں صاحبزادے حضرات حسین وحسن رضی اللہ تعالٰی علٰی جد ہما وعلیہما وبارک وسلم تشریف لائے، بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ انھیں گلے لگا کر پیار کرنے لگے، شہزادوں نے فرمایا ہم تمھاری اذان کے مشتاق ہیں یہ  سقفِ مسجد انور پر جہاں زمانہ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے، جس وقت
اللہ اکبر اللہ اکبر
کہا تمام مدینہ میں لرزہ پڑگیا، جب
اشہد ان لا الٰہ الا اللہ
کہا مدینہ کا لرزہ دوبالا ہوا، جب اس لفظ پر پہنچے کہ
اشھدان محمدرسول اللہ
کنواری نوجوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں اور لوگوں میں غل پڑگیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے، انتقالِ حضور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مرد وزن میں وہ رونا نہ پـڑا تھا جو اس دن ہوا

*(شفاء السقام  الباب الثالث                مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص۵۳)*

درنمازم خم  ابروئے تو بریاد آمد    حالتے رفت کہ محراب بفریاد آمد
 (جب آپ کی کمانِ ابرو، مجھے نماز میں یاد آئی، تو بیخودی کی حالت میں مسجد آہ وبکا میں مصروف ہوگئی)
اور نیز وہ حدیث بھی مؤید وجوب ہوسکتی ہے جسے امام  ابن عساکر اور امام ابن النجار نے کتاب الدرۃ الثمینہ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن احد من امتی لہ سعۃ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر
میرا جو امتی باوصف مقدرت میری زیارت نہ کرے اس کے لیے کوئی عذر نہیں۔

*(المواہب اللدنیہ مقصد عاشر فصل ثانی    الترغیب فی زیارۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    المکتب الاسلامی بیروت    ۴/۵۷۱)*

حتی کہ بعض ائمہ شافعیہ زیارت شریفہ کو مثل حج فرض بتاتے ہیں، علامہ عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس چشتی گنگوہی قدس سرہ شاگر امام علامہ ابن حجر مکی رحمہم اللہ تعالیٰ سنن الہدیٰ میں فرماتے ہیں:
میں نے اپنے استاذ ابن حجر
 (ایّد اللہ الاسلام ببقائہ)
کو فرماتے سنا کہ زیارت شریفہ ہمارے بعض اصحاب شافعیہ کے نزدیک مثل حج واجب ہے اور ان کے نزدیک واجب فرض میں کچھ فرق نہیں
سنن الہدٰی عبدالغنی بن احمد

*📕(بحوالہ فتاوی رضویہ جلد دہم کتاب الزکوة ص 721)*

سواے روضہ رسول کے کسی بھی مزار پرجانے کی اجازت نہیں
اسلئے کہ وہاں کی حاضری سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے
اور قران کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایا ہے

*واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب۔*
◆ــــــــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــــــــــ◆
*✍کتـبــــــہ؛ حضـرت عـلامـہ مـولانـا محمـد اسمـاعیل خان امجدی صاحب قبـلـہ مـدظلـہ العـالـی والنـورانـی دارالعـلـوم شہـیـد اعظــم دولھــاپــور پہـــــــاڑی انٹـــیـــــاتھـــــــوک بـــــ

ازار ضلـع گـونـڈہ یـوپـی*
*مورخہ، ٢٣ محرم الحرام ١۴۴١ھ*
*🔹فخـر ازهـر فقہـى گـروپ؛🔹*
*رابطــہ؛ 9918562794*
◆ــــــــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛*
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــــــــــ◆
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.