*🌸کسی آدمی کا جسم ملا اور سر نہ ملا تو اسکی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کہ نہی*🌸
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع کہ*
*اگر کسی آدمی کا صرف جسم پایا جائے اور سر نا پایا جائے تو اس کی نماز جنازہ ہوگی یا نہی مدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی*
*🌸سائل خان بھائی🌸*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*وعلیـکم الســـلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*کسی مسلمان کا آدھے سے زیادہ دھڑ ملا تو غسل و کفن دیں گے اور جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور نماز کے بعد وہ باقی ٹکڑا بھی ملا تو اس پر دوبارہ نماز نہ پڑھیں گے اور آدھا دھڑ ملا تو اگر اس میں سر بھی ہے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر سر نہ ہو یا طول میں سر سے پاؤں تک داہنا یا بایاں ایک جانب کا حصہ ملا تو ان دونوں صورتوں میں نہ غسل ہے، نہ کفن، نہ نماز بلکہ ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں*
*📚 (عالمگیری، درمختار وغیرہما)*
* مُردہ مِلا اور یہ نہیں معلوم کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں کے محلّہ میں ملا تو غسل دیں اور نماز پڑھیں ورنہ نہیں ۔*
*📚 (عالمگیری)*
* مسلمان مُردے کافر مُردوں میں مل گئے تو اگر ختنہ وغیرہ کسی علامت سے شناخت کر سکیں تو مسلمانوں کو جُدا کر کے غسل و کفن دیں اور نماز پڑھیں اور امتیاز نہ ہوتا ہو تو غسل دیں اور نماز میں خاص مسلمانوں کے لیے دُعا کی نیت کریں اور اُن میں اگر مسلمان کی تعداد زیادہ ہو تو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن کریں ورنہ علیحدہ۔*
*📚(ردالمحتار)*
*📚بہارشریعت حصہ چہارم*
*🌸واللہ اعلم*🌸
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غوث وخواجہ ورضا حامدو مصطفیٰ محمــــــد ایــوب رضـا خان*
*فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے*🍥👇👇
*📞+917800878771*
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع کہ*
*اگر کسی آدمی کا صرف جسم پایا جائے اور سر نا پایا جائے تو اس کی نماز جنازہ ہوگی یا نہی مدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی*
*🌸سائل خان بھائی🌸*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*وعلیـکم الســـلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*کسی مسلمان کا آدھے سے زیادہ دھڑ ملا تو غسل و کفن دیں گے اور جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور نماز کے بعد وہ باقی ٹکڑا بھی ملا تو اس پر دوبارہ نماز نہ پڑھیں گے اور آدھا دھڑ ملا تو اگر اس میں سر بھی ہے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر سر نہ ہو یا طول میں سر سے پاؤں تک داہنا یا بایاں ایک جانب کا حصہ ملا تو ان دونوں صورتوں میں نہ غسل ہے، نہ کفن، نہ نماز بلکہ ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں*
*📚 (عالمگیری، درمختار وغیرہما)*
* مُردہ مِلا اور یہ نہیں معلوم کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں کے محلّہ میں ملا تو غسل دیں اور نماز پڑھیں ورنہ نہیں ۔*
*📚 (عالمگیری)*
* مسلمان مُردے کافر مُردوں میں مل گئے تو اگر ختنہ وغیرہ کسی علامت سے شناخت کر سکیں تو مسلمانوں کو جُدا کر کے غسل و کفن دیں اور نماز پڑھیں اور امتیاز نہ ہوتا ہو تو غسل دیں اور نماز میں خاص مسلمانوں کے لیے دُعا کی نیت کریں اور اُن میں اگر مسلمان کی تعداد زیادہ ہو تو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن کریں ورنہ علیحدہ۔*
*📚(ردالمحتار)*
*📚بہارشریعت حصہ چہارم*
*🌸واللہ اعلم*🌸
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غوث وخواجہ ورضا حامدو مصطفیٰ محمــــــد ایــوب رضـا خان*
*فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے*🍥👇👇
*📞+917800878771*
تبصرے