نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جب سورج پچھم سے نکلے گا توبہ قبول نہیں ہوگی

محمد اسماعیل خاں امجدی گونڈہ:
👉🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀👈
*جب سورج پچھم سے نکلے گا تو توبہ قبول ہوگی یا نہیں*_؟۔

*🥀الســـلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🥀*
 *👈🌺<><>< الســـــــوال ><><>🌺👉*
 *کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کی جب سورج پچھم سے نکلے گا تو اس کے بعد کسی شخص کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں چاہے وہ بالغ ہو یا نہ بالغ آپ حضور والا  کی بارگاہ میں عریضہ ہے کہ اس کا جواب عنایت فرمائیں*

*🌻سائل🌺محمد علیم خان بستی یوپی🌻*
=============================
🌹👇🌹👆🌹👇🌹👆🌹👇🌹
  *🌹وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌹*
      *🌹الجـواب بعـون المــلـک الوھـاب🌹*

*آفتاب کا مغرب سے طلو ع ہونا  اِس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا،اُس وقت کا اسلام معتبر نہیں*
*📚 بہارشریعت حصہ اول*
 *عن صفوان بن عسال قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إنّ من قبل مغرب الشمس باباً مفتوحاً، عرضہ سبعون سنۃ، فلا یزال ذلک الباب مفتوحاً للتوبۃ حتی تطلع الشمس من نحوہ، فإذا طلعت من نحوہ لم  ینفع نفساً إیمانھا لم تکن آمنت من قبل أو کسبت في إیمانھم خیراً*
*📚(’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب طلوع الشمس من مغربھا، الحدیث: ۴۰۷۰، ج۴، ص۳۹۶)۔*
 *📚مشکوٰۃ شریف*
*قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں اور دجال کا ذکر*
*باب جب آفتاب کو مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کا حکم ملے گا*
*وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين غربت الشمس أين تذهب ؟ . قلت الله ورسوله أعلم . قال فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن فيؤذن لها ويوشك أن تسجد ولا يقبل منها وتستأذن فلا يؤذن لها ويقال لها ارجعي من حيث جئت فتطلع من مغربها فذلك قوله تعالى ( والشمس تجري لمستقر لها )   قال مستقرها تحت العرش . متفق عليه .*
*تـــرجـــمـــہ: حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جب کہ آفتاب غروب ہو رہا تھا رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے، جانتے ہو یہ آفتاب کہاں جار ہا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا یہ آفتاب جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرتا ہے، پھر حضور رب العزت میں حاضری کی اجازت مانگتا ہے، اس کو اجازت عطا ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مشرق کی طرف لے جائے اور وہاں سے طلوع کرے اور یاد رکھو وہ وقت جلد ہی آنے والا ہے جب آفتاب (اپنے معمول کے مطابق سجدہ کرے گا لیکن اس کا سجدہ قبول نہیں ہوگا اور اجازت چاہے گا لیکن اس کو اجازت عطا نہیں ہوگی اور یہ حکم دیا جائے گا کہ جس طرف سے آیا ہے اسی طرف لوٹ جا چناچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اور یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے کہ والشمس تجری لمستقرلھا (یعنی آفتاب اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ﷺ نے (آفتاب کے مستقر کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ آفتاب کا مستقر یعنی اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔*
  *📗(بـــــــخـــــاری)*
 *تشریح:بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث میں فانہا تذہب حتی تسجد تحت العرش کے الفاظ قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں ہیں جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حتی بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمیۃ کیونکہ اس آیت کی مراد اصل حد نظر کو بیان کرنا ہے، جب کہ یہاں حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سورج ڈوبنے کی جو بات فرمائی گئی ہے اس کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آفتاب عرش کے نیچے پہنچ کر مستقر ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے مستقر ہونے کی کیفیت و حقیقت کیا ہوتی ہے تو اس کا ادراک اظہار انسانی علم کے احاطہ سے باہر ہے۔  لفظ تستاذن میں استیذان سے مراد  حضور حق میں حاضری کی اجازت چاہنا۔  لیا گیا ہے، لیکن اس لفظ کا زیادہ واضح مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ آفتاب عرش کے نیچے سجدہ ریز ہونے کے بعد اپنے معمول کے مطابق طلوع کرنے کی اجازت چاہتا ہو اور اس کو وہ اجازت ہوتی ہے۔  آفتاب کا مستقر عرش کے نیچے ہے  کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد عرش کے نیچے جاتا ہے اور وہاں سجدہ کرتا ہے پھر وہ اجازت طلب کرتا ہے جس پر اس کو اجازت دی جاتی ہے واضح رہے کہ مذکورہ آیت (وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَ قَرٍّ لَّهَا) 36 ۔ یس  38) کی تفسیر میں بیضاوی نے مستقر  کے کئی معنی بیان کئے ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے  مستقر  کی اس وضاحت کو قطعًا ذکر نہیں کیا ہے جو بخاری ومسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں بیان ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور جس سے یہ متعین ہوجاتا ہے کہ  مستقر  سے کیا مراد ہے۔*
 _*وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ (لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا)طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ»*
*📗رَوَاهُ مُسلم*
*روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم ن

ے کہ تین چیزیں جب نمودار ہوں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لائی تھی  یا اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی تھی سورج کا اپنے پچھم سے نکلنا  اور دجال اور زمین کا جانور*
 *📗(مــســـلـم شــــــریــــف)*
 *چونکہ ان علامات کے ظہور پر قیامت کا سب کو یقین ہوجاوے گا اس لیے اب قیامت غیب نہ رہے گی بلکہ شہادت بن جاوے گی اور ایمان بالغیب معتبر ہے اس لیے اب نہ ایمان معتبر ہوگا نہ اس وقت کی توبہ قبول ہوگی۔خیال رہے کہ توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے نکلنے پر بند ہوگا۔یہاں ثلاث فرمانا ایسا ہے جیسے قرآن کریم فرماتاہے:*
*"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"*
*کہ موتی مونگے کھاری سمندر سے نکلتے ہیں نہ میٹھے سے مگر فرمایا دونوں سے نکلتے ہیں،ایسے ہی توبہ قبول نہ ہونے کو تغلیبًا ان تینوں علامتوں کی طرف نسبت فرمایا گیا۔*
  *سورج کا یہ طلوع دجال اور دابۃ کے بعد ہے مگر چونکہ دروازہ توبہ بند اسی پر ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔*
*📚مراة المناجیح شرح مشکوة المصابیح جلد 7 ص 216📚*
============================
🌹👇🌹👆🌹👇🌹👆🌹👇🌹
*🌿✍ شـــــــــــرف قـــــــــلــم 🌿👉*
 *حــضــــرت عـــلامــہ ومـــــولانـــا مـحــمــد*
*اســمـاعــیـل خــان رضوی امجدی صاحب قبلہ*
   🌴 *مدظلہ العالی و النورانی🌴*
 *خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور ضلع گونڈہ یوپی :*

 *🌼 بائی گروپ اعلیٰ حضرت زندہ باد* 🌼
      📖 *صرف اہل علم کے لئے* 📖

 *رابطہ نمبر 👇 ( 9918562794📞*
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
*•📱المـرتـب📱👈 گـدائے گلزار ملــت👇•*
  *•محمــــــدتـــــوصــیـــــف رضـــا اسمٰعـیـلی•*
    *•اسلام پور اتر دیناجپور ویسٹ (بنگال)•*
*رابطہ نمبر 👈   918240910663+*
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*
*👈🏻میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇🏻👇🏻*
*https://wa.me/+919918562794*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*ٹیلی گرام گروپ 🔗لنک:👇*
  https://t.me!/AalahzratZindabadGroup*

*گوگل میں پڑھنے کے لنک پر کلک کریں👇🏻👇🏻*
https://amjadigroup.blogspot.com/

*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.