نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نکاح پڑھانے کے بعد اجرت لینا کیساہے

*🌹نکاح پڑھانے کے بعد اجرت لینا کیسا،؟🌹*



*السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ ۔۔ایک امام ‌صاحب    نے ایک لڑکی کا نکاح پڑھایا اور لڑ کا والے سے کہا ں کہ* *مزدوری مجھے تین ہزار روپے دیجئے لڑکے والے نے کہا قرآن وحدیث میں کہا لکھا ہوا ہے لہٰذا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا*

*🌹المستفتی  محمد نسیم صاحب  مظفر پور بہار🌹*


    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب :*
*رجسٹری کے بغیر محض نکاح پڑھانے پر اجرت لینا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے :*

*🏷(۱)۔۔نکاح پڑھانا،کسی کاحق نہ سمجھاجائے ،بلکہ فریقین کی مرضی ہو کہ وہ کسی سے بھی نکاح پڑھوالیں۔*

*📿(۲)۔۔اجرت کی کسی خاص مقدار پر اصرار اور زبردستی نہ کی جائےبلکہ جانبین باہمی رضامندی سے کوئی اجرت طے کرلیں ۔اور اجرت کا مستحق بھی نکاح پڑھانے وا لا ہوگا ۔*

*🍢(۳)۔۔کوئی شخص اپنے آپ کو اس کا مستحقِ خاص نہ سمجھے یعنی اگر کوئی دوسرا شخص یہی کام کرنے لگے تو ناگواری کا اظہار نہ کرے ۔*

*📤(۴)۔۔لڑکے یالڑکی والوں میں سے جو بھی نکاح خواں کو بلائے ،اجرت وہی اداکرے دوسرے فریق سے جبراً اجرت دلواناجائز نہیں ۔*

*🏷بعض اکابر علماء رحمہم اللہ نے جو مطلقاً نکاح پڑھانے کی اجرت لینے سے منع کیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر ان شرائط کی پابندی نہیں کی جاتی۔تاہم اگر کوئی مذکورہ بالا شرائط کی پابندی کرتے ہوئے نکاح پڑھائے تو اس کیلئے اجرت لینے کی گنجائش ہے۔*

*📿نکا ح کو رجسٹرڈ کروانے  اور فارم کی خانہ پُری جو نکاح پڑھانے سے زائد کام ہے اس کی اجرت لینا درست ہے ،بشرطیکہ اجرت پہلے ہی باہمی رضامندی سے طے کرلی جائے یا حکومت کے وضع کردہ قانون کے اعتبار سے جو اجرت متعین ہو وہ طے مان لی جائے۔البتہ باہمی رضامندی کے ساتھ حکومت کی مقررکردہ اجرت سےزیادہ لینا بھی جائز ہے ،بشرطیکہ نکاح پڑھوانے والے کو کسی قسم کا دھوکہ نہ دیا جائےاور اس کو بتادیا جائے کہ رجسٹری کا اصل خرچہ اتنا ہے اس سے زائد میں اپنی محنت کی اجرت لونگا ،لیکن زبردستی کچھ لینا شرعاً گناہ اور ناجائز ہے ۔ایسی اجرت جو دینے والے کی رضامندی اور خوشدلی سے نہ ہو شرعاً حلال نہیں ۔*

*📕الفتاوى الهندية - (3 / 345)*

 *🏷وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه كذا في المحيط واختلفوا في تقديره والمختار للفتوى أنه إذا عقد بكرا يأخذ دينارا وفي الثيب نصف دينار ويحل له ذلك هكذا قالوا كذا في البرجندي*

*📚البحر الرائق - (5 / 263)*

*🍢قال في البزازية من كتاب القضاء وإن كتب القاضي سجلا أو تولى قسمة وأخذ أجرة المثل له ذلك ...وذكر عن البقالي في القاضي يقول إذا عقدت عقد البكر فلي دينار وإن ثيبا فلي نصفه أنه لا يحل له إن لم يكن لها ولي فلو كان ولي غيره يحل بناء على ما ذكروا*

*🔰الفتاوى الهندية - (3 / 345)*

 *📿وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه كذا في المحيط واختلفوا في تقديره والمختار للفتوى أنه إذا عقد بكرا يأخذ دينارا وفي الثيب نصف دينار ويحل له ذلك هكذا قالوا كذا في البرجندي*

*📕البحر الرائق - (5 / 263)*

 *📤قال في البزازية من كتاب القضاء وإن كتب القاضي سجلا أو تولى قسمة وأخذ أجرة المثل له ذلك ...وذكر عن البقالي في القاضي يقول إذا عقدت عقد البكر فلي دينار وإن ثيبا فلي نصفه أنه لا يحل له إن لم يكن لها ولي فلو كان ولي غيره يحل بناء على ما ذكروا*

*🌹واللہ اعلم.باالصواب🌹*

    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی  خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*۲ نومبر بروز جـمـعـہ ۲۰۱۸*

*رابطہ* *919918562794+📞*

 *🌹فــخـــر ازھــــر  گــروپ میں ایڈکے لئے🌹*👇

*📞+917800878771*
    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*🖥المـرتـب     گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


https://t.me/joinchat/EWNabFGHnQru0sQhWbJphA

تبصرے

Iqrar Raza Nomani نے کہا…
لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کی خدمت میں ایک سوال عارض ہوں۔۔۔

بعض گھروں ہیں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر جمعرات کو غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نام کا چراغ یا غیرہ کسی اور بزرگ کے نام کا چراغ جلایا جاتا ہے عند الشرع اس کا کیا حکم ہے؟؟؟؟
کیا چراغ جلانا جائز ہے؟؟؟؟
مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی!

سائل۔ اقرار نعمانی بھیرپورہ (رچھا) بہیڑی بریلی شریف یوپی انڈیا
Amjadi نے کہا…
*🌹کسی بزرگ کے نام کا چراغ جلانا کیسا ہے🌹*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*کیا فرماتے ہیں علماۓ ذوی الاحترام اس مسئلہ میں کہ پرانے زمانے سے لوگ اپنے گھروں میں بروز جمعرات کے دن چراغ جلاتے ہیں اور اس چراغ کوغوث پاک کی طرف منسوب کرتے ہیں*
کیاکسی بزرگ نے فرمایاہے کہ میرے نام سے چراغ جلاؤ
بزرگوں کے نام سے چراغ جلاناکہاں سے ثابت ہے
کیونکہ میں نے ایک ذمہ دارعالم سے سناہے کہ چراغ کے کالے دھوے سے جنات پیداہوتے ہیں
کیا صحیح ہے کیا غلط ہے
رہنمائ فرماۓ علماۓ ذوی الاحترام

*🌹سائل امیر الحسن رضوی🌹*

ا___________💠⚜💠___________
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب :*
*⚡آج کل اس کا کافی رواج ہو گیا، کسی بزرگ کے نام کا چراغ جلا کر اس کے سامنے بیٹھتے ہیں یہ غلط ہے ہاں اگر چراغ جلانے کا کوئی مقصد ہو -*
اس سے کسی راہ گیر وغیرہ کو فائدہ پہونچے یا دینی تعلیم حاصل کرنے پڑھنے پڑھانے والوں کو راحت ملے یا کسی جگہ ذکر و شکر عبادت و تلاوت کرنے والوں کو اس سے نفع پہونچے تو ایسی روشنیاں کرنا بلا شبہ جائز بلکہ ثواب ہے اور جب اس میں ثواب ہے تو اس سے کسی بزرگ کی روح پاک کو ثواب پہونچانے کی نیت بھی کی جا سکتی ہے -
*اعمال اور ظائف کی کتابوں میں جو آسیب وغیرہ کے علاج کے لیے چھوٹا چراغ اور بڑا چراغ روشن کر نے کے لیے رکھا ہے وہ الگ چیز ہے کسی بزرگ کے نام سے نہیں روشن کیا جاتا -*
*⚜خلاصہ یہ ہے کہ یہ حضور غوث پاک وغیرہ کسی بزرگ کے نام کے چراغ جلا کر اس کے سامنے بیٹھنے کا معمول یہ بے سند بے ثبوت بے مقصد ہے اور بے اصل ہے -*
🎗حدیث پاک میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا
جو ہمارے دین میں کوئی ایسی بات نکالے جس کی اس میں اصل نہ ہوتو وہ مردود ہے -
                              *📚( ابن ماجہ٣/١حدیث ١٧*

*📕( غَلط فہمیَاں اَور اُن کی اصلاح )   ( صفحہ .١٩٧.١٩٨ )*
*🌈اور رہی بات کالے دھوئیں سے جنات کی پیدائش تو اس طرح کی کوئی بات میری نظر سے نہیں گزری آپ اس ذمہ دار عالم سے کہیں کوئی معتبر کتاب دیکھاو جس میں لکھا ہو کہ دھوں سے جنات پیدا ہوتے ہیں*

*🔸واللہ تعالیٰ اعلم🔸*
ا___________💠⚜💠___________
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*🗓 ۲ فروری بروز سنیچر ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* *919918562794+📞*

*✅ الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ مولانا محمد فداءالمصطفی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی و النورانی*
ا___________💠⚜💠___________
*🔸فیضـان غوث وخواجہ گروپ ایڈ کے لئے🔸*
*رابطہ*
+91 78 00 878 771
ا___________💠⚜💠___________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضـان غـوث و خـواجہ گـروپ؛ مـحمـد ایـوب خان علوی*
ا__________💠⚜💠____________
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.