*🍥پیاز اور لہسن کھانا جائز یا نہیں*🍥
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماۓ ذوی الاحترام اس مسئلہ میں کہ آج کچھ لوگوں میں مسئلہ مشہورہے کہ کچی پیاز اورکچالہسن کہاناحرام ہے*
*اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیجۓ*
*رہنمائ فرماۓ علماۓ ذوی الاحترام*
*🌹سائل ســـــلمان رضا*🌹
*ـــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــــ*
*الجواب..... کچّی پیاز کھانے سے بھی مُنہ بد بُودار ہو جاتاہے*
*کچّی مُولی، کچّی پیاز،کچّا لہسن اور ہر وہ چیز کہ جس کی بُو نا پسند ہو اسے کھا کر مسجِد میں اُس وقت تک جانا جائز نہیں*
*جب تک کہ ہاتھ مُنہ وغیرہ میں بو باقی ہو کہ فِرِشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔*
*حدیث شریف میں ہے،اللہ کے محبوب، دانائےغیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے فرمایا:*
*جس نے پیاز، لہسن یاگِندَنا) لہسن سے مِلتی جُلتی ایک ترکاری(کھائی وہ ہماری مسجِدکےقریب ہرگز نہ آئے ۔)*
*📚مُسلِم،کتاب المساجد،باب نہی من اکل۔۔۔الخ،ص۲۸۲، حدیث۵۶۴*
*اور فرمایا: اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو*
*📚ابوداوٗد،کتاب الاطعمۃ،باب فی اکل الثوم،۳/۵۰۶، حدیث:۳۸۲۷*
*مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پیازولہسن کھانا حرام نہیں بلکہ کھاکر بدبودارمنہ لئے مسجد میں آنا حرام ہے۔*
*خواہ وہاں نمازی ہوں یا نہ ہوں کیونکہ فرشتے ہروقت رہتے ہیں۔’’*
*اگرکھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو‘‘*
*کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:*
*تا کہ ان کی بوجاتی رہے کیونکہ بدبو ہی ممانعت کی وجہ ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ حکم ہر مسجد کا ہے،بلکہ ہر دینی مجلس میں اس کا خیال رکھا جائے۔*
*📚مراٰۃ المناجیح،*
*صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں:*
*مسجِد میں کچّا لہسن پیاز کھانایا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک بوباقی ہوکہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جس میں بدبو ہو جیسے گِندَنا)*
*یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے*
*(مُولی ، کچا گوشْتْ،مِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کوگندہ دَہنی کا عارِضہ)*
*یعنی منہ سے بد بوآنے کی بیماری*
*(یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع)*
*یعنی ختم(نہ ہو اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔*
*📚بہارِ شریعت ،*
*🌹واللہ اعلم*🌹
*ـــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*📞+917800878771*
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماۓ ذوی الاحترام اس مسئلہ میں کہ آج کچھ لوگوں میں مسئلہ مشہورہے کہ کچی پیاز اورکچالہسن کہاناحرام ہے*
*اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیجۓ*
*رہنمائ فرماۓ علماۓ ذوی الاحترام*
*🌹سائل ســـــلمان رضا*🌹
*ـــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــــ*
*الجواب..... کچّی پیاز کھانے سے بھی مُنہ بد بُودار ہو جاتاہے*
*کچّی مُولی، کچّی پیاز،کچّا لہسن اور ہر وہ چیز کہ جس کی بُو نا پسند ہو اسے کھا کر مسجِد میں اُس وقت تک جانا جائز نہیں*
*جب تک کہ ہاتھ مُنہ وغیرہ میں بو باقی ہو کہ فِرِشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔*
*حدیث شریف میں ہے،اللہ کے محبوب، دانائےغیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے فرمایا:*
*جس نے پیاز، لہسن یاگِندَنا) لہسن سے مِلتی جُلتی ایک ترکاری(کھائی وہ ہماری مسجِدکےقریب ہرگز نہ آئے ۔)*
*📚مُسلِم،کتاب المساجد،باب نہی من اکل۔۔۔الخ،ص۲۸۲، حدیث۵۶۴*
*اور فرمایا: اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو*
*📚ابوداوٗد،کتاب الاطعمۃ،باب فی اکل الثوم،۳/۵۰۶، حدیث:۳۸۲۷*
*مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پیازولہسن کھانا حرام نہیں بلکہ کھاکر بدبودارمنہ لئے مسجد میں آنا حرام ہے۔*
*خواہ وہاں نمازی ہوں یا نہ ہوں کیونکہ فرشتے ہروقت رہتے ہیں۔’’*
*اگرکھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو‘‘*
*کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:*
*تا کہ ان کی بوجاتی رہے کیونکہ بدبو ہی ممانعت کی وجہ ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ حکم ہر مسجد کا ہے،بلکہ ہر دینی مجلس میں اس کا خیال رکھا جائے۔*
*📚مراٰۃ المناجیح،*
*صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں:*
*مسجِد میں کچّا لہسن پیاز کھانایا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک بوباقی ہوکہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جس میں بدبو ہو جیسے گِندَنا)*
*یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے*
*(مُولی ، کچا گوشْتْ،مِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کوگندہ دَہنی کا عارِضہ)*
*یعنی منہ سے بد بوآنے کی بیماری*
*(یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع)*
*یعنی ختم(نہ ہو اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔*
*📚بہارِ شریعت ،*
*🌹واللہ اعلم*🌹
*ـــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*📞+917800878771*
تبصرے