*اصحاب کہف کتنے ہیں*
*🌸سائل شکیل نظامی*🌸
*ــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*
*اصحابِ کہف کی تعداد میں جب لوگوں کا اختلاف ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ*
*:۔قُل رَّبِّیۡۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعْلَمُہُمْ اِلَّا قَلِیۡلٌ )*
*📖پ15، سورہ کہف:22*
*(ترجمہ قرآن:۔ تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتاہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔*
*📄حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں انہی کم لوگوں میں سے ہوں جو اصحابِ کہف کی تعداد کو جانتے ہیں۔ پھرآپ نے فرمایا کہ اصحاب ِ کہف کی تعداد سات ہے اور آٹھوں اُن کا کتاہے*
*📚تفسیرصاوی، ج ۴ ،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*📖(قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا حال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔)*
*📙پ15،الکہف:9۔13*
*🏷(ترجمہ قرآن:۔کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا پھر ہم نے انہیں جگایا کہ دیکھیں دو گرہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جو ان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔اس سے اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِ کہف کا پورا پورا حال بیان فرمایا ہے ۔*
*اصحابِ کہف کے نام:۔*
*ان کے ناموں میں بھی بہت اختلاف ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے نام یہ ہیں۔*
*🏷یملیخا، مکشلینا، مشلینا، مرنوش،دبرنوش، شاذنوش اور ساتواں چرواہا تھا جو ان لوگوں کے ساتھ ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُس کا ذکر نہیں فرمایا۔ اور ان لوگوں کے کتے کا نام'' قطمیر ''تھا اور ان لوگوں کے شہر کا نام ''افسوس''تھا اور ظالم بادشاہ کا نام ''دقیانوس''تھا۔)*
*📕مدارک التنزیل ،ج ۳، ص ۲۰۶،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*(اور تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ اصحاب ِ کہف کے نام یہ ہیں۔ مکسملینا، یملیخا، طونس، نینوس، ساریونس، ذونوانس، فلستطیونس۔*
*یہ آخری چرواہے تھے جو راستے میں ساتھ ہو لئے تھے اور ان لوگوں کے کتے کا نام ''قطمیر'' تھا۔)*
*📚صاوی،ج۴،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*(اصحابِ کہف کتنے دنوں تک سوتے رہے:*
*۔جب قرآن کی آیت وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَازْدَادُوۡا تِسْعًا*
*📕 ﴿۲۵﴾ )پ۱۵،الکھف:۲۵(*
*)اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے تو کفار کہنے لگے کہ ہم تین سو برس کے متعلق تو جانتے ہیں کہ اصحاب ِ کہف اتنی مدت تک غار میں رہے مگر ہم نو برس کو نہیں جانتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ شمسی سال جوڑ رہے ہو اور قرآن مجید نے قمری سال کے حساب سے مدت بیان کی ہے اور شمسی سال کے ہر سو برس میں تین سال قمری بڑھ جاتے ہیں۔)*
*📚صاوی،ج۴،ص۱۱۹۳،پ۱۵،الکہف:۲۵(*
*🌸واللہ اعلم*🌸
*ــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــ*
*🌸✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🌸👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🌸🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*🌸👇
*📞+917800878771*
*🌸سائل شکیل نظامی*🌸
*ــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*
*اصحابِ کہف کی تعداد میں جب لوگوں کا اختلاف ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ*
*:۔قُل رَّبِّیۡۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعْلَمُہُمْ اِلَّا قَلِیۡلٌ )*
*📖پ15، سورہ کہف:22*
*(ترجمہ قرآن:۔ تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتاہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔*
*📄حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں انہی کم لوگوں میں سے ہوں جو اصحابِ کہف کی تعداد کو جانتے ہیں۔ پھرآپ نے فرمایا کہ اصحاب ِ کہف کی تعداد سات ہے اور آٹھوں اُن کا کتاہے*
*📚تفسیرصاوی، ج ۴ ،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*📖(قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا حال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔)*
*📙پ15،الکہف:9۔13*
*🏷(ترجمہ قرآن:۔کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا پھر ہم نے انہیں جگایا کہ دیکھیں دو گرہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جو ان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔اس سے اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِ کہف کا پورا پورا حال بیان فرمایا ہے ۔*
*اصحابِ کہف کے نام:۔*
*ان کے ناموں میں بھی بہت اختلاف ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے نام یہ ہیں۔*
*🏷یملیخا، مکشلینا، مشلینا، مرنوش،دبرنوش، شاذنوش اور ساتواں چرواہا تھا جو ان لوگوں کے ساتھ ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُس کا ذکر نہیں فرمایا۔ اور ان لوگوں کے کتے کا نام'' قطمیر ''تھا اور ان لوگوں کے شہر کا نام ''افسوس''تھا اور ظالم بادشاہ کا نام ''دقیانوس''تھا۔)*
*📕مدارک التنزیل ،ج ۳، ص ۲۰۶،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*(اور تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ اصحاب ِ کہف کے نام یہ ہیں۔ مکسملینا، یملیخا، طونس، نینوس، ساریونس، ذونوانس، فلستطیونس۔*
*یہ آخری چرواہے تھے جو راستے میں ساتھ ہو لئے تھے اور ان لوگوں کے کتے کا نام ''قطمیر'' تھا۔)*
*📚صاوی،ج۴،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲*
*(اصحابِ کہف کتنے دنوں تک سوتے رہے:*
*۔جب قرآن کی آیت وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَازْدَادُوۡا تِسْعًا*
*📕 ﴿۲۵﴾ )پ۱۵،الکھف:۲۵(*
*)اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے تو کفار کہنے لگے کہ ہم تین سو برس کے متعلق تو جانتے ہیں کہ اصحاب ِ کہف اتنی مدت تک غار میں رہے مگر ہم نو برس کو نہیں جانتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ شمسی سال جوڑ رہے ہو اور قرآن مجید نے قمری سال کے حساب سے مدت بیان کی ہے اور شمسی سال کے ہر سو برس میں تین سال قمری بڑھ جاتے ہیں۔)*
*📚صاوی،ج۴،ص۱۱۹۳،پ۱۵،الکہف:۲۵(*
*🌸واللہ اعلم*🌸
*ــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ـــــــــــــــــــ*
*🌸✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🌸👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🌸🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*🌸👇
*📞+917800878771*
تبصرے