محمد اسماعیل خاں امجدی گونڈہ:
*❣جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر ہو شریعت کی روشنی میں ملاحظہ کریں؟❣*
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
ُکیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خطبہ کی اذان مسجد کے ممبر کے سامنے کیوں نہیں ہوتی جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
*❣سائل❣محمد رفیق لکھیم پوری*
ا________((🎴))__________
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*✍🏻الجواب بعون الملک الوھاب*
ہمارے علمائے کرام نےفتاوٰی قاضی خان وفتاوٰی خلاصہ و فتح القدیر و نظم و شرح نقایہ برجندی وبحرالرائق و فتاوٰی ہندیہ وطحطاوی وعلی مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے
*(📘فتاوٰی خانیہ میں ہے :*
*ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد*
یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر چاہئے مسجد میں اذان نہ کہی جائے ۔
*(📕فتاوٰی قاضی خاں مسائل الاذان مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱/۳۷)*
*(📗بعینہ یہی عبارت فتاوٰی خلاصہ و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے۔فتح القدیر میں ہے:*
*الاقامۃ فی المسجد لابد واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم یکن ففی فناء المسجد وقالولایؤذن فی المسجد*
یعنی تکبیر تو ضرور مسجد میں ہوگی، رہی اذان وہ منارے پر ہو۔ منارہ نہ ہو تو بیرونِ مسجد زمین متعلق مسجد میں ہو ۔علمافرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔
*(📕فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۱۵)نیز خودباب الجمعہ میں فرمایا:*
*ھوذکرﷲ فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ*
وُہ ﷲ تعالٰی کاذکر ہے مسجد میں یعنی حوالیِ مسجد کے اندر، اس لئے کہ خود مسجد کے اندر اذان دینی مکروہ ہے۔
*(📕فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۹)👇🏻*
*شرح مختصرالوقایہ للعلامۃ عبدالعلی میں ہے 👇🏻:*
*فی ایرادالمئذنۃ اشعاربان السنۃ فی الاذان ان یکون فی موضع عال بخلاف الاقامۃ فان السنۃ فیھا ان تکون فی الارض وایضافیہ اشعاربانہ لایؤذن فی المسجد فقد ذکرفی الخلاصۃ انہ ینبغی الخ۔اھ*
یعنی صدر الشریعۃ قدس سرہ، نے اذان کےلئے منارے کا جو ذکر فرمایا اس میں تنبیہ ہے اس پر کہ اذان میں سنّت یہ ہے کہ بلند جگہ پر ہو بخلاف تکبیر کہ اس میں سنت یہ ہے کہ زمین پر ہو، نیز اس میں تنبیہ ہے، کہ اس مسجد میں نہ دی جائے ،خلاصہ میں اس کی ممانعت کی تصریح ہے الخ اھ باختصار۔
*(📗شرح النقایہ للبرجندی باب الاذان مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱/۸۴)*
*(بحرالرائق میں ہے👇🏻)*
*فی القنیۃ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض وفی المغرب اختلاف المشائخ اھ والظاھر انہ یسن المکان العالی فی اذان المغرب کما سیأتی وفی السراج الوھاج ینبغی ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران وفی الخلاصۃ ولایؤذن فی المسجد اھ مختصرا۔*
یعنی قنیہ میں ہے کہ اذان بلندی پر اور تکبیر زمین پر ہونا سنّت ہے اور مغرب کی اذان میں مشائخ کا اختلاف ہے وُہ بھی بلندی پر ہونا مسنون ہے یا نہیں اورظاہر یہ ہے کہ مغرب میں بھی اذان بلندی پر ہونا سنّت ہے اور سراج الوہاج میں ہے اذان وہاں ہونی چاہئے جہاں سے ہمسایوں کو خوب آواز پہنچے ،اور خلاصہ میں فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دےاھ مختصرا۔
*(🔰بحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ ۲۵۵)*
*اسی میں بعدچند ورق کے ہے👇🏻*:
*السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ والاقامۃ فی المسجد*
سنّت یہ ہے کہ اذان منارے پر ہو اورتکبیر مسجد میں۔
*(📘بحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۶۱)*
*(حاشیہ طحطاوی میں ہے:👇🏻*
*یکرہ ان یؤذن فی المسجد کما فی القھستانی عن النظم ،فان لم یکن ثمہ، مکان مرتفع للاذان یؤذن فی فناء المسجد کما فی الفتح*
یعنی مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے تو اگر وہاں اذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہوتومسجد کے آس پاس اُس کے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔
*حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۷)*
یہ تمام ارشادات صاف صاف مطلق بلا قید ہیں جن میں جمعہ وغیرہا کسی کی تخصیص نہیں،مدعی تخصیص پر لازم کہ ایسے ہی کلماتِ صریحہ معتمدہ میں اذانِ ثانی جمعہ کا استثناء دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا، رہا لفظ بین یدی الامام(امام کے سامنے۔ت) یابین یدی المنبر(منبر کے سامنے۔ت)سے استدلال مذکور فی السوال وہ محض ناواقفی ہے، ان عبارات کا حاصل صرف اس قدر کہ اذان ثانی خطیب کے سامنے منبرکے آگے مواجہہ میں ہو، اس سے یہ کہاں کہ امام کی گودمیں منبر کی کگر پر ہو جس سے داخلِ مسجد ہونا استنباط کیا جائے بین یدی(یعنی سامنے۔ت) سمت مقابل میں منتہائے جہت تک صادق ہے جو وقت طلوع مواجہہ مشرق یا ہنگام غروب مستقبل مغرب کھڑاہو وہ ضرور کہے گاکہ آفتاب میرے سامنے ہے۔یا فارسی میں مہر روبروئے من است(سورج میرے چہرے کے سامنے ہے۔ت)یا عربی میں الشمس بین یدی(سورج میرے سامنے ہے۔ت) حالانکہ آفتاب اس سے تین ہزار برس کی راہ سے زیادہ دور ہے،ﷲعزّوجل فرماتا ہے:یعلم مابین ایدیھم وماخل
فھم ﷲ سبحانہ، جانتا ہے جو کچھ اس کے سامنے ہے یعنی آگے آنے والا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر گیا۔
(القرآن ۲۰/۱۱۰ )
یہ ہرگز ماضی ومستقبل سے مخصوص نہیں بلکہ ازل تا ابدسب اُس میں داخل ہے۔یونہی ملائکہ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کا قول کہ قرآن عظیم نے ذکرفرمایا:
*لہ مابین ایدینا وماخلفا وما بین ذلک*
ﷲ ہی کاہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جوکچھ ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔
*📕(۲؎ القرآن ۱۹/۶۴)*
آیت نے قربِ قیامت کا اشارہ فرمایا نہ یہ کہ بعثت کے برابر ہی قیامت ہے،پھر اُس کا قرب اُسکے لائق ہے۔تیرہ سو تینتالیس (۱۳۴۳)برس گزر گئے ہنوز وقت باقی ہے پس جو اذان درِ مسجد پر یا فنائے مسجدکی کسی زمین میں جہاں تک حائل نہ ہو محاذاتِ امام میں دی جائے اُس پر ضروربین یدیہ(اس کے روبرو۔) صادق ہے بلاشبہ کہا جائے گا کہ امام کے سامنے خطیب کے روبرو منبر کے آگے اذان ہوئی،اور اسی قدر درکار ہے، غالباً خود مستدلین کو معلوم تھا کہ قریبِ مسجد ،بیرونِ مسجد ،مواجہہ امام ک وبھی بین یدیہ شامل ہے ولہذا روبرخطیب کہنے کے بعد، ان لفظوں کی حاجت ہوئی کہ مسجد کے اندر مگر خاص یہی لفظ کہ اصل مدعا تھے صرف اپنی طرف سے اضافہ ہوئے۔شامی وہدایہ
*📗ودرمختاروغیرہوغیرہا میں👇🏻*
کہیں اس کی بوُ بھی نہیں۔اب ہم ایک حدیث صحیح ذکر کریں جس سے اس بین یدیہ کے معنی بھی آفتاب کی روشن ہوجائیں اور اس ادعائے توارث کا حال بھی کھل جائے،
*سُنن ابی داؤد شریف میں بسندِ حسن مروی ہے* :
*حدثنا النفیلی ثنامحمد بن سلمۃ عن محمد بن اسحٰق عن الزھری عن السائب بن یزید رضی ﷲ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبریوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر*
نفیلی نے بیان کیا کہ محمد بن سلمہ نے محمدبن اسحٰق سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سائب بن یزید رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب روزِ جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے روبرو اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور یونہی ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی ﷲ تعالٰی عنہما کے زمانے میں ۔
*(📕سنن ابی داؤد باب وقت الجمعہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۵۵)*
اس حدیث جلیل نے واضح کردیا کہ اس روبروئے امام پیشِ منبر کے کیا معنی ہیں اور یہ کہ زمانہ رسالت وخلفائے راشدین کے کیا متوارث ہے، ہاں یہ کہئے کہ اب ہندوستان میں یہ اذان متصل منبر کہنی شائع ہورہی ہے مگر نصِ حدیث سے جُدا،تصریحات فقہ کے خلاف ،کسی بات کا ہندیوں میں رواج ہوجانا کوئی حجت نہیں ۔ ہندیوں میں یہی کیا اور وقت کی اذانیں بھی بہت لوگ مسجد میں دے لیتے ہیں حالانکہ وہاں تو ان تصریحات ائمہ کے مقابل بین یدیہوغیرہ کا بھی دھوکا نہیں،پھر ایسوں کا فعل کیاحجت ہوسکتاہے ۔
الحمدﷲ یہاں اس سنّت کریمہ کا احیاء رب عزوجل نے اس فقیر کے ہاتھ پر کیا، میرے یہاں مؤذنوں کی مسجد میں اذان دینے سے ممانعت ہے، جمعہ کی اذانِ ثانی بحمدﷲ تعالٰی منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی ہے جس طرح زمانہ اقدس حضور پُرنور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم و خلفائے راشدین رضی ﷲ تعالٰی عنہم میں ہوا کرتی تھی
ذلک فضل ﷲ یوتیہ من یشاء وﷲ ذوالفضل العظیم والحمدﷲ رب العٰلمین
(یہ ﷲ تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اوراللہ بڑے فضل والا ہےاور ﷲ تعالٰی ہی کے لئے سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔)بعض دیگر جن سے سائل نے دوسراقول نقل کیا اگر چہ اتنا سمجھے بین یدیہ سے داخل مسجد ہونا اصلاً مفہوم نہیں ہوتامگر کتابوں پرنظر ہوتی تو خلافِ تصریحاتِ علماء یہ ادعاء نہ ہوتاکہ مسجد کے اندر مکروہ نہیں ۱۳۰۲ہجری میں فقیر بہ نیت خاکبوسی آستانہ عالیاحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہٰی نظام الحق والدین رضی ﷲ تعالٰی عنہ بریلی سے شدالرحال کرکے حاضر بارگاہ غیاث پور شریف ہوا تھا دہلی کی ایک مسجد میں نماز کو جانا ہوا، اذان کہنے والے نے مسجد میں اذان کہی فقیر نے حسب عادت کہ جو امرخلاف شرع مطہر پایا مسئلہ گزارش کردیا اگرچہ اُن صاحب سے اصلا تعارف نہ ہو ا ان مؤذن صاحب سے بھی بہ نرمی کہا کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے، کہا،کہاں لکھا ہے؟ میں نےقاضی خان ،خلاصہ، عالمگیری ، فتح القدیر کے نام لئے ،کہا ہم ان کو نہیں مانتے،فقیر سمجھا کہ حضرت طائفہ غیر مقلدین سے ہیں، گزارش کی کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ کسی کچہری میں نوکر ہیں۔ فقیر نے کہا احکم الحاکمین جل جلا لہ کا سچا حقیقی دربار تو ارفع واعلٰی ہے آپ انہی کچہریوں میں روز دیکھتے ہوں گے چپراسی ،مدعی،مدعاعلیہ گواہوں کی حاضری، کچہری کے کمرے کے اندر کھڑے ہوکر پکارتا ہے یا باہر ؟ کہا باہر، کہا اگر اندر ہی چلانا شروع کرے تو بے ادب ٹھہرے گا یا نہیں؟ بولے اب میں سمجھ گیا ۔غرض کتابوں کونہ مانا جب ان کی سمجھ کے لائق کلام پیش کیا تسلیم کرلیا
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
(ہرشخص کی فکراس کی ہمت کے مطابق ہے)
الحمد ﷲحق واضح ہوگیا ۔
*اقول وباﷲ التوفیق یہاں دو۲ نکتے اور قابل لحاظ وغور ہیں:*
اول اگر بانیِ مسجد نے مسجد بناتے وقت تمام مسجدیت سے پہلے مسجد کے اندر اذان کے لئے منارہ خواہ کوئی محل مرتفع بنایا تو یہ جائز ہے،اور اتنا ٹکڑااذان کے لئے جدا سمجھاجائے گا اور مسجد میں اذان دینے کی کراہت یہاں عارض نہ ہوگی جیسے مسجد میں وضو کرنا اصلاً جائز نہیں مگر پہلے سے اگر کوئی محلِ معین بانی نے وضو کے لئے بنوا دیا ہوتو اس میں وضو جائز کہ اس قدر مستثنٰی قرار بائے گا۔
*(📘اشباہ میں ہے👇🏻*:
*تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعدلذلک لا یصلی فیہ اوفی اناء-*
مسجد میں کُلی اور وضوکرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں اس کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور اس میں نماز ادا نہ کی جاتی ہو یاکسی برتن میں وضوکر لیا جائے۔
*الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/۲۳۰)*
*(📕در مختار میں ہے👇🏻:*
*یکرہ الوضوء الا فیما اعدذلک۲؎ ملخصاً ۔*
وضومکروہ ہے مگر اس جگہ میں جو اس کے لئے تیار کی گئی ہو ملخصاً
*درمختار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۴)*
*(ردالمحتار میں ہے👇🏻*:
*لان ماء ہ مستقذر طبعا، فیجب تنزیہ المسجد عنہ کمایجب تنزیھہاعن المخاط والبلغم بدائع*
کیونکہ وضو کا پانی طبعاً ناپسند ہے لہذا اس سے مسجد کو بچانا ضروری ہے جیسے مسجد کو ناک اور بلغم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے،بدائع ۔
*ردالمحتار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۸۸)*
فقیر نے اس پر تعلیق کی:
ھذا تعلیل علی مذھب محمد ن المفتی بہ اماعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل ،فظاھر
یہ امام محمد کے مفتٰی بہ قول کی دلیل ہے۔ رہا معاملہ امام اعظم کے قول کا ۔وہ ظاہر ہے کیونکہ وہ ماءِ مستعمل کو ناپاک کہتے ہیں۔
*جدالممتار علی ردالمحتار باب احکام المساجد مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور ،انڈیا ۱/۳۱۶)*
*📕ردالمحتار میں ہے👇🏻:*
*قولہ الا فیما اعدلذلک انظر ھل یشترط اعداد ذلک من الواقف ام لا*
ان کا قول مگر اس جگہ جو وضو کے لئے تیار کردہ ہو دیکھئے کیا اس جگہ کا وضو کے لئے بنانا واقف سے شرط ہے یا نہیں؟
*ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مایکروفیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۴)*
فقیر نے اس پر تعلیق کی :
*اقول نعم وشئ اخرفوق ذلک وھی ان یکون الاعداد قبل تمام المسجدیۃفان بعدہ لیس لہ ولا لغیرہ تعریضہ للمستقذرات ولا فعل شئ یخل بحرمتہ اخذتہ مما یاتی فی الوقف من ان الواقف لوبنی فوق سطح المسجد بیتاسکنی الامام قبل تمام المسجدیۃ جازلانہ من مصالحہ امابعد فلا یجوز ویجب الھدم*۔
اقول ہاں ایک اور شئ اس کے اوپر ہے وہ یہ کہ یہ وضو کے لئے رکھنا تمام مسجدیت سے پہلے ہو کیونکہ اگراس کے بعد ہو تو اب واقف اور دوسروں کے لئے یہ جائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو گندگی کے لئے بنائیں بلکہ ہر وہ فعل جائزنہیں جو مسجد کی عزّت کے منافی ہو، یہ اصول اس مسئلہ سے مستنبط ہے جو وقف میں آتاہے کہ مسجد کے اوپر واقف نے تمام مسجدیت سے پہلے رہائش بنادی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد سے ہے البتہ تمام مسجد کے بعد یہ جائز نہیں اور اسکا گرانا ضروری ہے
اسی طرح اگر منارہ یا مئذنہ بیرونِ مسجد فنائے مسجد میں تھا بعدہ، مسجد بڑھا ئی گئی ہو اور زمین متعلقِ مسجد مسجد میں لے لی کہ اب مئذنہ اندرونِ مسجد ہوگیا اس پر بھی اذان میں حرج نہ ہو گا کہ یہ بھی وہی صورت ہے کہ اس زمین کی مسجدیت سے پہلے اس میں یہ محل اذان کے لئے مصنوع ہوچکا تھاکما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)ہاں اگر داخلِ مسجد کوئی شخص اگر چہ خود بانی مسجد نیا مکان اذان کے لئے مستثنٰی کرنا چاہے تواُس کی اجازت نہ ہونی چاہئے کہ بعد تمامی مسجد کسی کو اُس سے استثناء یا فعل مکروہ کے لئے بناکا اختیار نہیں ،
*(📗دُرمختار میں ہے👇🏻:*
*لو بنی فوقہ بیتاللامام لا یضرلانہ من المصالح امالو تمت المسجدیت ثم اراداالبناء منع، ولوقال عنیت ذلک لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد*
اگر مسجدکے اوپر امام کے لئے جگہ بنائی تو ضرر نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ مسجد میں سے ہے اگر مسجد مکمل ہوگئی اور پھر رہائش بنانا چا ہتے تو اب منع ہے اور اگر واقف کہے کہ میرا ارادہ یہی تھا تواس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تاتارخانیہ،جب واقف کا یہ حال ہے تو غیر کیسے بناسکتا ہے، لہذا اس کا گرانا ضروری ہے اگر چہ وہ دیوار مسجد پر ہو۔
*درمختار کتاب الوقف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۹)*
دوم متعلقاتِ مسجد میں مسجد کے لئے اذان ہونے کو عرف میں یونہی تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں مسجد میں اذان ہوئی مثلاً منارہ بیرونِ مسجد زمین خاص مسجدسے کئی گزکے فاصلے پر ہو اوراُس پر اذان کہی جائے تو ہرشخص یہی کہے گا مسجد میں اذان ہوگئی نماز کو چلو ،یُوں کوئی نہیں کہتا کہ مسجد کے باہر اذان ہوئی نماز کواٹھویہ عرف عام شائع ہے جس سے کسی کو مجالِ انکار نہیں، و
لہذا امام محقق علی الاطلاق نے ھوذکراﷲ فی المسجد ۔
(یہ مسجد میں ذکر الہٰی ہے۔)کی وہ تفسیر فرمادی کہ
ای فی حدودہ
(یعنی مسجدکے حدود میں۔ت)
*( فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۹)*
اور اس کی دلیل وہی ارشاد فرمائی کہ
*لکراہۃ الاذان فی داخلہ عن ابن مسعودرضی ﷲ تعالٰی عنہ وقفاان من سنن الھدی الصلٰوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ*
حضرت ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ سُنن ہدٰی میں سے ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھی جائے جس میں اذان ہو۔
*(صحیح مسلم باب فضلِ جماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۳۲)*
وامثال عبارت
کرہ خروج من لم یصل من مسجداذن فیہ
(اس مسجد سے نکلنا مکروہ جس میں اذان دی گئی ہو۔ت)ہے دھوکا نہ کھائے اوراشباہ حدیث ابن ماجہ:
*عن امیرالمؤمنین عثمٰن الغنی رضی ﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ادرک الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجتہ وھولایرید الرجعۃ فھومنافق*
امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی ﷲ تعالٰی عنہ نبی اکرم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں جس نے مسجد میں اذان کو پایا اور بغیر مجبوری کے مسجد سے نکلا اورواپسی کا ارادہ بھی نہ تھا تو وہ منافق ہے۔
سے دھوکا اور بھی ضعیف تر ہے
فان المسجد ظرف الادراک دون الاذان
(کیونکہ مسجد ادراک کے لئے ظرف ہے اذان کے لئے نہیں۔)ولہذا علامہ مناوی نے تیسیر میں اس حدیث کی یوں تشریح فرمائی:
(من ادرک الاذان) وھو(فی المسجد) الخ
(جس نے اذان کو پایا)یعنی اذان کو سنا ،حالانکہ وہ (مسجد میں تھا) الخ
*التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث من ادرک الاذان کے تحت مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۳۹۲ )*
بلکہ خود حدیث شرحِ حدیث کوبس ہے :
*احمد بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ قال امرنا رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذاکنتم فی المسجد فنودی بالصلٰوۃ فلا یخرج احدکم حتی یصلی*
امام احمد نے سندِ صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ ہمیں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیاکہ جب تم مسجد میں ہو اور اذان دی جائے تو نماز ادا کئے بغیرکوئی مسجد سے نہ نکلے۔
*( مسنداحمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲/۵۳۷)*
بالجملہ جہاں ایسے الفاظ واقع ہوں انہیں دو۲نکتوں سے ایک پر محمول ہیں۔
اقول وبہ ینجلی مافی الجلابی انہ یؤذن فی المسجد اومافی حکمہ لا فی البعید منہ اھ
اقول اس سے جلابی کی یہ عبارت بھی واضح ہوگئی کہ مسجد میں یا اس جگہ میں اذان دی جائے جوحکمِ مسجد میں ہو،مسجد سے دُور اور جگہ میں نہ دی جائے اھ
*(جامع الرموز بحوالہ الجلابی فصل فی الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۱۲۳)*
*ای یؤذن فی حدودالمسجد وفنائہ کما فسربہ الامام المحقق علی الاطلاق اوفی نفس المسجد ان کان ثمہ موضع اعدلہ من قبل اویؤذن فیما ھو حکمہ لقربہ منہ بحیث یعدالاذان فیہ اذاناللمسجد کما فعل عثمٰن رضی ﷲ تعالٰی عنہ حدیث احدث الاذان الاول علی الزوراء دارٍ فی السوق ولایؤذن للمسجد اذاکان غربی البلد مثلاً واذن شرقیہ بل اذن لمسجد حیّ اٰخر لایعدذلک اذانالہ کمالایخفی، فلااستدراک بکلام الجلابی علی کلام النظم کمازعم القھستانی ،*
یعنی مسجد کے حدود اور فنائے مسجد میں اذان دی جائے جیسا کہ اس کی تفسیر امام محقق علی الاطلاق نے کی ہے،یا مسجد کے اندر بشرطیکہ وہاں پہلے سے جگہ بنائی گئی ہو یا اس جگہ دی جائے جو قرب کی وجہ سے مسجد کا حکم رکھتی ہو کیونکہ وہاں کی اذان کو مسجد کی ہی اذان شمار کیا جائے گاجیسا کہ حضرت عثمان رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے کیا کہ اذانِ اوّل بازار میں مقامِ زوراء پر دینے کاحکم دیا ،مسجد سے دُور اذان نہ دی جائے مثلاً جب مسجد غربی البلاد ہو اور اذان شرقی میں دی جائے تو اب یہ اذان دوسرے محلہ کی ہوگی اس مسجد کی اذان اسے شمار نہیں کیا جائیگا جیسا کہ واضح ہے،کلامِ جلابی کلامِ نظم پر استدراک نہیں جیسا کہ قہستانی نے گمان کیا۔
*وباﷲ التوفیق وبماقدمنامن تحقیق مفادبین یدیہ وانہ یستدعی بقرینۃ الحال قربانیاسب المقام لاالاتصال وضح بحمدﷲ ماقال القھستانی تحت قول النقایہ اذاجلس علی المنبر اذن ثانیا بین یدیہ مانصہ ، ای بین الجھتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہ قریباً منہ ووسطھما بالسکون فیشتمل ما اذا اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ حادثہ من خطین خارجین من ھا تین الجھتین اھ*
ﷲ تعالٰی کی توفیق سے جو کچھ ہم نے گفتگو کی اور سامنے امام کا معنٰی بیان کیا اس سے واضح ہوگیا کہ بین یدیہ کے الفاظ مقام کے مناسب قُرب کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ اتصال کا، بحمد ﷲنقایہ کی عبارت جب امام منبرپر بیٹھے تواس کے سامنے دوسری اذان دی جائے کہ تحت قہستانی نے جو کہا وہ بھی واضح ہوگیا کہ اذان یمینِ منبر وامام اس کے بائیں جانب اس کے قریب ہو یا ان دونوں کے وسط میں ہو، یہ ان صورتوں کو شامل ہے جب اذان زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ میں ہوئی جو ان دوخطوط مذکورہ کی دو۲ جہ
ات سے پیداہوا اھ
*(جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۲۶۸)*
*فلیس القرب منکرا ولابالاتصال مشعرا وانما اراد بہ اخراج البعد الذی لایعد بہ الاذان اذانافی ذلک المسجد کما ذکرناہ فی کلام الجلابی۔*
تو یہاں قرب کا انکار نہیں اوراتصال پر دلالت نہیں، اس سے ان کا مقصد اس بُعد کا دُور کرنا ہے جس میں اذان کو اس مسجد کی اذان تصور نہ کیا جائے جیساکہ ہم نے اسے جلابی کے کلام میں ذکر کیا۔
غرض عامہ کتب معتمدہ مذہب کے خلاف اگر ایک آدھ غریب ونامتداول کتاب میں کوئی تصریح بھی ہوتی عقلاً و عرفاً وشرعاً قبول نہ ہوتی۔
*الا تری ان العلامۃ الطحطاوی کیف اقتصر فی الحکم علی حکایۃ مافی القھستانی عن النطم ولم یعرج علی استدراکہ اصلاعلما منہ ان الاستدرک مستدرک لاینبغی نقلا۔*
کیا آپ نے نہ دیکھا علامہ طحطاوی نے کس طرح اکتفا کیا اس حکم پر جوقہستانی نے نظم سے نقل کیا تھا اوراس کے استدراک کے بالکل درپے نہ ہوئے ،انہیں علم تھا کہ استدراک فالتو ہے لہذا اس کا نقل کرنا مناسب نہیں۔
نہ کہ کوئی لفظ محتمل نہ صریح ،صاف صاف لائق توجیہ وتصحیح ہو،
کما لایخفی علی ذی عقل نجیح ھکذا ینبغی التحقیق وﷲ سبحانہ ولی التوفیق والحمدﷲ رب العٰلمین وصلی ﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنامحمد واٰلہ وصحبہ اجمعین ۔ اٰمین ۔وﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جیسا کہ ہر عاقل پر مخفی نہیں، تحقیق کا حق یہی تھا، *ﷲ سبحٰنہ توفیق کا مالک ہے ، الحمدﷲرب العالمین وصلی ﷲتعالٰی علٰی سیّدنا ومولٰنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین ۔آمین۔وﷲاعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔*
*(📕بحوالہ فتاوی رضویہ جلد8 کتاب الصلوة)*
ا________((🎴))__________
*✍🏻از قـلــم حضــرت عـلامـہ ومــولانــا محمــــد اسمــــاعیـــل خـــان امجــــدی صــــاحـــب قبــلــہ مــدظلـــہ العــــالـــی والنــورانـــی خـــادم دارالعــــلوم شہـــید اعظـــم دولھـــا پــــور ضـــلـع گـــــــــــونڈہ*
*بتاريخ، ۲۶ ذی الحجہ ٠۴۴١ھ*
*❣فخر اعلیٰ حضرت فقهى گروپ❣*
*رابطہ؛📞9918521953+91*
ا________((🎴))_________
*✅الجواب صحیح والمیجب نجیح*
*اسیـــــر حضـور تـاج الشــریعـہ مـحـمـد عــــــامل رضــــا المعروف ضـیـــــاء انجـــــم قادری رضوی مقـام تکونـیـاں ضلـــــع لکھیـم پور کھیری یـوپــــــــــی الہنـــــــــــــــــــــد*
ا________((🎴))__________
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین اعلیٰ حضرت گـــروپ مـحـمـد عـامـل رضـا خــان قـادری رضـوی لکھیـم پـور کھیـــری یـوپـی انـڈیـا؛*
ا________((🎴))__________
تبصرے