*🥢مسجد میں اگربتی لوبان وغیرہ سلگانے کا حکم؛🥢*
*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کے مسجد میں اگربتی لوبان وغیرہ کا سلگانا کیسا ھے*
*جواب عنایت فرمائے مہربانی ھو گی ۔۔*
*سائل - حسن رضا ۔ گرام دولپری ضلع مرادآباد ۔۔*
*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجـــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــ بعــــــــــون المـــلک الـــــــوھـــــاب؛*
*اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:*
*جس نے مجھ پر دن بھر میں ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا وہ اُس وقت تک نہیں مَرے گا جب تک جنّت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے۔ )*
*📘 (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ص۳۲۸حدیث۲۲)*
*(مسجِد میں بلغم دیکھ کر سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناگواری*
*ایک مرتبہ حُضُورِاکرم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ،رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےمسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قبلہ کی طرف بلغم پڑی دیکھی توناراضگی کااظہار فرمایا۔*
*یہ دیکھ کر ایک انصاری صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَااٹھیں اور اُسے کھرچ کر صاف کرکے وہاں خوشبو لگا دی۔*
*آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسرت آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا:*
*(مَااَحْسَنَ ھٰذَا)*
*یعنی اِس خاتون نے کتنا ہی عُمدہ کام کیا ہے۔)*
*📗 (نَسائی ص۱۲۶حدیث۷۲۵)*
*سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہرجُمُعَۃُ الْمُبارَک کو مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوشبو کی دھونی دیاکرتے تھے۔ )*
*📙 (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۱ص۱۰۳حدیث۱۸۵)*
*اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارِوایَت فرماتی ہیں :*
*حضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مَحَلّوں میں مسجِدیں بنانے کاحکم دیااوریہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔*
*📘 (ابوداوٗدج۱ص۱۹۷حدیث۴۵۵)*
*معلو م ہوا مسجِدیں عُود ،لُوبان اوراگربتّی وغیرہ سے خوشبودار رکھنا کارِثواب ہے۔*
*مگر مسجِد میں ایسی دِیا سلائی)یعنی ماچِس کی تِیلی(نہ جلائیے جس سے بارُود کی بدبونکلتی ہے کیوں کہ مسجِد کوبدبوسے بچانا واجِب ہے۔ بارُود کابدبودَاردُھواں اندرنہ آنے پائے اتنی دُور باہَر سے لُوبان یا اگر بتّی وغیرہ سُلگا کرمسجِد میں لائیے۔ اگر بتّیوں کوکسی بڑے طَشْت وغیرہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اِس کی راکھ مسجِدکے فرش وغیرہ پرنہ گِرے ۔ اگربتّی کےپیکِٹ پراگرجاندار کی تصویربنی ہوئی ہو تو اُس کو کُھرَچ ڈالیں*
*📘 (مسجدیں خوشبوداررکھیں ص24)*
*؛واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب؛*
*کتـبــــــہ؛*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*🍃اعلى حضرت زنده بادگروپ؛🍃*
*رابطہ؛📞 9918562794*
*🖥المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کے مسجد میں اگربتی لوبان وغیرہ کا سلگانا کیسا ھے*
*جواب عنایت فرمائے مہربانی ھو گی ۔۔*
*سائل - حسن رضا ۔ گرام دولپری ضلع مرادآباد ۔۔*
*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجـــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــ بعــــــــــون المـــلک الـــــــوھـــــاب؛*
*اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:*
*جس نے مجھ پر دن بھر میں ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا وہ اُس وقت تک نہیں مَرے گا جب تک جنّت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے۔ )*
*📘 (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ص۳۲۸حدیث۲۲)*
*(مسجِد میں بلغم دیکھ کر سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناگواری*
*ایک مرتبہ حُضُورِاکرم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ،رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےمسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قبلہ کی طرف بلغم پڑی دیکھی توناراضگی کااظہار فرمایا۔*
*یہ دیکھ کر ایک انصاری صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَااٹھیں اور اُسے کھرچ کر صاف کرکے وہاں خوشبو لگا دی۔*
*آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسرت آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا:*
*(مَااَحْسَنَ ھٰذَا)*
*یعنی اِس خاتون نے کتنا ہی عُمدہ کام کیا ہے۔)*
*📗 (نَسائی ص۱۲۶حدیث۷۲۵)*
*سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہرجُمُعَۃُ الْمُبارَک کو مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوشبو کی دھونی دیاکرتے تھے۔ )*
*📙 (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۱ص۱۰۳حدیث۱۸۵)*
*اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارِوایَت فرماتی ہیں :*
*حضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مَحَلّوں میں مسجِدیں بنانے کاحکم دیااوریہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔*
*📘 (ابوداوٗدج۱ص۱۹۷حدیث۴۵۵)*
*معلو م ہوا مسجِدیں عُود ،لُوبان اوراگربتّی وغیرہ سے خوشبودار رکھنا کارِثواب ہے۔*
*مگر مسجِد میں ایسی دِیا سلائی)یعنی ماچِس کی تِیلی(نہ جلائیے جس سے بارُود کی بدبونکلتی ہے کیوں کہ مسجِد کوبدبوسے بچانا واجِب ہے۔ بارُود کابدبودَاردُھواں اندرنہ آنے پائے اتنی دُور باہَر سے لُوبان یا اگر بتّی وغیرہ سُلگا کرمسجِد میں لائیے۔ اگر بتّیوں کوکسی بڑے طَشْت وغیرہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اِس کی راکھ مسجِدکے فرش وغیرہ پرنہ گِرے ۔ اگربتّی کےپیکِٹ پراگرجاندار کی تصویربنی ہوئی ہو تو اُس کو کُھرَچ ڈالیں*
*📘 (مسجدیں خوشبوداررکھیں ص24)*
*؛واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب؛*
*کتـبــــــہ؛*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*🍃اعلى حضرت زنده بادگروپ؛🍃*
*رابطہ؛📞 9918562794*
*🖥المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپـی*
تبصرے