نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پیری مریدی کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟


*☘ پیری مریدی کی شریعت میں کیا حیثیت ہے☘*

*🛸ــــــــــــــــــــ♦🕋♦ــــــــــــــــــــ🛸*
   ❂ *_اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*❂

        _*🌻 الــســــــــــــــــــــوال👇*_
       *بعد سلام عرض خدمت: پیری مریدی کی شریعت میں کیا حیثیت ہے اور یہ کب سے ہوئی اسکی حقیقت کیا ہے، قرآن و حدیث سے مدلل دلائل کے ساتھ مسئلے کی وضاحت فرمائیں*

     _*🏮 ســـائــل 👈 اے آر خـــــــان🏮*_
*🛸ــــــــــــــــــــ♦🕋♦ــــــــــــــــــــ🛸*
  ❂ *_وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*❂ 

    _*📚 الجـواب بعـون المــلـک الوھـاب👇*_
*بیعت کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ  کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے  نیک اَعمال کا اِرادہ  کرنے اور اسے اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔*
*یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے  ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:* 
*یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-*

*تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
 *جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔*
*اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح (نیک)  کو اپنا امام بنا لینا چاہئے  شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے  اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح (نیک)  امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔اس آیت میں  تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔*
*اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ (پسندیدہ سنَّت) ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ  ولیُّ ﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور  رَبُّ العزّت عَزَّ  وَجَلَّ  فرماتاہے:*
*اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-* 
*📘 قرآن شریف(پ۲۶،الفتح : ۱۰)*

 *تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
*وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو  اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہا* *تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔*
*اور فرماتا ہے:* 
*لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ* 
*📘 قرآن شریف (پ۲۶،الفتح : ۱۸)*

  *تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
*بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔اور بیعت کو خاص بجہاد سمجھنا جہالت ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:*
*یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ*

 *تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
*اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللّٰہ  کا  شریک کچھ نہ*
*وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۱۲)*
*📘قرآن، شریف(پ۲۸،الممتحنة : ۱۲)*

 *تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
*ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی  تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔*
*احادیثِ مُبارَکہ میں بیعت کا ذِکر*

*سُـــــوال : کیا  احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا  ذِکر آیا ہے؟* 
*جــــــواب:  جی ہاں !  احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا ذِکر آیا ہے اور یہ بیعت مختلف چیزوں مثلاًکبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت (یعنی گناہ کے علاوہ) والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ  پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دِیگر کاموں پر بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت ہونا ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:  ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی* *میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے۔*
*حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم  اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ  تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پورا  کیا اس کا اَجر اللہ عَزَّ   وَجَلَّ پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے  عذاب دے۔*

*حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تفسیرِ کبیر میں نقل فرماتے ہیں: جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں لَیْلَۃُ الْعُقْبَہ کو 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ اپنے ربّ عَزَّ    وَجَلَّ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو شرط چاہیں مَنوا لیں۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تیرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے یہ شرط ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے سا تھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو جن چیزوں سے باز رکھتے ہو ان سے مجھ کو بھی باز رکھنا  (یعنی جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرنا) تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا صِلہ ملے گا؟  تو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جنّت۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:  یہ تو نفع مند بیعت ہے،ہم اس بیعت کو نہ  توڑیں گے اور نہ ہی  توڑنے کا مُطالبہ کریں گے،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ  نازِل ہوئی،اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اِرشاد فرماتا ہے:* 
 *(اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-)* 
*📘قرآن، شریف (پ۱۱،التوبة: ۱۱۱)*

 *تــــــرجَـمـــۂ کـنـــزالایــمــان 👇:*
*بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنّت ہے*
*📘 بحوالہ پیری مریدی کی شرعی حیثیت*
_*🌻 والـــلـــہ اعـــــــلـــم بـــالصــــواب🌻*_
*🛸ــــــــــــــــــــ♦🕋♦ــــــــــــــــــــ🛸*
_*✍   شـــــــــــرف قـــــــــــلـــــم👇*_
 *حــضــــرت عـــلامــہ ومـــــولانـــا مـحــمــد*
*اســمــــاعــــیــل خـــان رضــــوی امــجــــدی صـاحب قـبـلـہ مــد ظـلـہ الـعـالـی والـنــورانـی*
*خـادم الـتـدریـس دارالـعـلــوم  شـہـیـد اعــظم دولـہــاپــــور ضـلــع گـــونــدا ( یــــو پـــی)  :*
 *رابـــــــــــطــــــــہ نـــــمـــــــبـــــــــر👇*
        *📲 + 9 1 9 9 1 8 5 6 2 7 9 4 👈*
*20صفر المظفر 1441ھ/20 اکتوبر 2019 ء*
*🛸ــــــــــــــــــــ♦🕋♦ــــــــــــــــــــ🛸*
_*🌻🖥 الـمــــــــــــرتـــــــبـــــــ ؛؛👇*_
  _*محمـــد تــــوصــیـــف رضــا اسمـاعـیـلی🌻*_
*رابـــطــہ نـمـبــــر 👈  8240910663 📲*
*_◆ـــــــــــــــــــــــ♦👇♦ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
_*♥( فـیــضـان غـــوث الــوریٰ گــــروپــ )♥*_
*_◆ـــــــــــــــــــــــ♦👆♦ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.