*🌹اولیاء اللہ سے مدد طلب کرنا کیسا؟🌹*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام مفتیان کرام کی خدمت میں اک عرض ہیکہ
یا علی المدد پکارنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر جائز ہے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں دلیل پیش کریں نوازش ہوگی
*_💥 سائل: وارث علی جھارکھنڈ💥_*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*_❣ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ❣_*
_✒الجواب بعون الملک الوھاب________✒
*انبیائے کرام اولیائے کرام کو مددگار کہنا لکھنا جائز ہے اسلئے کہ غیراللہ سے مدد طلب کرنا جائز ہے*
[🔰 جیسا کہ تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 463 پر ہے:👇🏻
*" الا ستعانة بغیراللہ تعالی فی دفع الظلم جائزة فی الشریعة اھ ملخصا*
البتہ اللہ تعالی کا مددگار ہونا اور فائدہ پہنچانا ذاتی طور پر ہے" اور انبیاے کرام اولیائے عظام کا بطور عطائی یعنی اسکی دی ہوئی طاقت وقوت سے ہے۔*
[🔰 اللہ تعالی فرماتا ہے *" نحن اولیائکم فی الحیوة الدنیا وفی الاخرة"* یعنی ہم تمھارے مددگار ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں"
(📚پارہ 24 سورہ حٰم آیت31 )
[🔰اور دوسری جگہ فرماتا ہے *" والمومنون والمومنت بعضھم اولیاء بعض"* یعنی مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں
*(📚 پارہ 10 سورہ توبہ آیت 71 )*
*معلوم ہوا کہ رب بھی تمھارا مددگار ہے" اور مسلمان بھی آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں مگر رب تعالی بالذات مددگار ہے اور یہ باعطا مددگار ہیں*
[🔰 اور فرماتا ہے *”وکان اللہ سمیعاًبصیرا“* یعنی اللہ ہی سننے دیکھنے والا سمیعُُ وبصیر ہے
(📚پارہ 5 سورہ نساء آیت 134)
[🔰 اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:👇
*" انا خلقنا الانسان من نطفة نبتلیہ فجعلنہ سمیعاً بصیرا"*
یعنی بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ ہم اسے جانچیں" تو ہم نے اسے سمیع بصیر بنا دیا
*(📚 پارہ 29 سورہ انسان آیت 2)*
*اللہ تعالی اپنے لئے سمیع وبصیر فرمایا اور انسان کے لئے بھی سمیع وبصیر فرمایا لیکن اللہ تعالی کا سمیع وبصیر ہونا ذاتی طور پر ہے" اور انسان کا سمیع وبصیر ہونا اللہ کی دی ہوئی طاقت اور اس کی عطا سے ہے*
[🔰 تفسیر روح البیان جلد 3 صفحہ 544 میں ہے:👇
*فی قولہ بالمومنین روف رحیم فی حق نبیہ علیہ السلام و فی قولہ لنفسہ تعالی ان اللہ بالناس لروف رحیم دقیقة لطیفة شریفة وھی ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لماکان مخلوقا کانت رافتہ و رحمتہ مخلوقة فصارت مخصوصة بالمومنین لضعف الخلقة وان اللہ تعالی لما کان خالقا کانت رافتہ ورحمہ قدیمةفکانت عامة للناس بقوة خالقیتہ اھ ملخصا*
{🔰 اور سراج الھند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رضی عنہ ربہ القوی ایاک نستعین کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:👇
*" باید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر و اور امظہرعون الہی نداند حرام است" واگر التفات محض بجانب حق ست و اور ایکی از مظاہر عون دانستہ ونظر بکار خانہ اسباب وحکمت وتعالی دراں نمودہ بغیر استعانت ظاہری نماید دور از عرفان نخواہد بود و در شرع نیز جائز و رواست او انبیاء واولیاء ایں نوع استعانت تعبیر کردہ اند و در حقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بحضرت حق است لا غیر"*
یعنی سمجھنا چاہیے کہ کسی غیر سے مدد مانگنا بھروسہ کے طریقہ پر کہ اسکو مدد الہی نہ سمجھے حرام ہے" اور اگر توجہ حق تعالی کی طرف ہے اور اس کو اللہ کی مدد کا ایک مظہر جان کر اور اللہ کی حکمت اور کار خانہ اسباب جان کر اس سے ظاہری مدد مانگی تو عرفان سے دور نہیں اور شریعت میں بھی جائز ہے" اور اس قسم کی استعانت بالغیر انبیاء و اولیاء نے بھی کی ہے" لیکن حقیقت میں یہ حق تعالی کے غیر سے مانگنا نہیں ہے بلکہ اسکی مدد ہے۔
*(📚 تفسیر عزیزی جلد 1 صفحہ 20 )*
*(📚 فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 36 )*
*_🔹 واللہ تعالی اعلم🔹_*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*✍کتبہ؛ حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی؛؛*
*خادم التدریس والافتاء: دارالعلوم شہیداعظم دولھا پور ،ضلع گونڈہ ،اترپردیش ، انڈیا؛؛*
*مورخہ: ٢صفر١٤٤١ھ چہار شنبہ2/10/2019*
*👇🏻سنی رضوی فقہی گروپ میں ایڈکیلۓ👇🏻*
*📱9480937810 === 8651378657📲*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*۔__________(( 🔰 ))__________۔*
*_🖥 المرتب: محبوب رضا صمدانی پٹنہ سیٹی_*
*۔__________(( 🔰 ))__________۔*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام مفتیان کرام کی خدمت میں اک عرض ہیکہ
یا علی المدد پکارنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر جائز ہے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں دلیل پیش کریں نوازش ہوگی
*_💥 سائل: وارث علی جھارکھنڈ💥_*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*_❣ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ❣_*
_✒الجواب بعون الملک الوھاب________✒
*انبیائے کرام اولیائے کرام کو مددگار کہنا لکھنا جائز ہے اسلئے کہ غیراللہ سے مدد طلب کرنا جائز ہے*
[🔰 جیسا کہ تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 463 پر ہے:👇🏻
*" الا ستعانة بغیراللہ تعالی فی دفع الظلم جائزة فی الشریعة اھ ملخصا*
البتہ اللہ تعالی کا مددگار ہونا اور فائدہ پہنچانا ذاتی طور پر ہے" اور انبیاے کرام اولیائے عظام کا بطور عطائی یعنی اسکی دی ہوئی طاقت وقوت سے ہے۔*
[🔰 اللہ تعالی فرماتا ہے *" نحن اولیائکم فی الحیوة الدنیا وفی الاخرة"* یعنی ہم تمھارے مددگار ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں"
(📚پارہ 24 سورہ حٰم آیت31 )
[🔰اور دوسری جگہ فرماتا ہے *" والمومنون والمومنت بعضھم اولیاء بعض"* یعنی مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں
*(📚 پارہ 10 سورہ توبہ آیت 71 )*
*معلوم ہوا کہ رب بھی تمھارا مددگار ہے" اور مسلمان بھی آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں مگر رب تعالی بالذات مددگار ہے اور یہ باعطا مددگار ہیں*
[🔰 اور فرماتا ہے *”وکان اللہ سمیعاًبصیرا“* یعنی اللہ ہی سننے دیکھنے والا سمیعُُ وبصیر ہے
(📚پارہ 5 سورہ نساء آیت 134)
[🔰 اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:👇
*" انا خلقنا الانسان من نطفة نبتلیہ فجعلنہ سمیعاً بصیرا"*
یعنی بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ ہم اسے جانچیں" تو ہم نے اسے سمیع بصیر بنا دیا
*(📚 پارہ 29 سورہ انسان آیت 2)*
*اللہ تعالی اپنے لئے سمیع وبصیر فرمایا اور انسان کے لئے بھی سمیع وبصیر فرمایا لیکن اللہ تعالی کا سمیع وبصیر ہونا ذاتی طور پر ہے" اور انسان کا سمیع وبصیر ہونا اللہ کی دی ہوئی طاقت اور اس کی عطا سے ہے*
[🔰 تفسیر روح البیان جلد 3 صفحہ 544 میں ہے:👇
*فی قولہ بالمومنین روف رحیم فی حق نبیہ علیہ السلام و فی قولہ لنفسہ تعالی ان اللہ بالناس لروف رحیم دقیقة لطیفة شریفة وھی ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لماکان مخلوقا کانت رافتہ و رحمتہ مخلوقة فصارت مخصوصة بالمومنین لضعف الخلقة وان اللہ تعالی لما کان خالقا کانت رافتہ ورحمہ قدیمةفکانت عامة للناس بقوة خالقیتہ اھ ملخصا*
{🔰 اور سراج الھند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رضی عنہ ربہ القوی ایاک نستعین کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:👇
*" باید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر و اور امظہرعون الہی نداند حرام است" واگر التفات محض بجانب حق ست و اور ایکی از مظاہر عون دانستہ ونظر بکار خانہ اسباب وحکمت وتعالی دراں نمودہ بغیر استعانت ظاہری نماید دور از عرفان نخواہد بود و در شرع نیز جائز و رواست او انبیاء واولیاء ایں نوع استعانت تعبیر کردہ اند و در حقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بحضرت حق است لا غیر"*
یعنی سمجھنا چاہیے کہ کسی غیر سے مدد مانگنا بھروسہ کے طریقہ پر کہ اسکو مدد الہی نہ سمجھے حرام ہے" اور اگر توجہ حق تعالی کی طرف ہے اور اس کو اللہ کی مدد کا ایک مظہر جان کر اور اللہ کی حکمت اور کار خانہ اسباب جان کر اس سے ظاہری مدد مانگی تو عرفان سے دور نہیں اور شریعت میں بھی جائز ہے" اور اس قسم کی استعانت بالغیر انبیاء و اولیاء نے بھی کی ہے" لیکن حقیقت میں یہ حق تعالی کے غیر سے مانگنا نہیں ہے بلکہ اسکی مدد ہے۔
*(📚 تفسیر عزیزی جلد 1 صفحہ 20 )*
*(📚 فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 36 )*
*_🔹 واللہ تعالی اعلم🔹_*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*✍کتبہ؛ حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی؛؛*
*خادم التدریس والافتاء: دارالعلوم شہیداعظم دولھا پور ،ضلع گونڈہ ،اترپردیش ، انڈیا؛؛*
*مورخہ: ٢صفر١٤٤١ھ چہار شنبہ2/10/2019*
*👇🏻سنی رضوی فقہی گروپ میں ایڈکیلۓ👇🏻*
*📱9480937810 === 8651378657📲*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
*۔__________(( 🔰 ))__________۔*
*_🖥 المرتب: محبوب رضا صمدانی پٹنہ سیٹی_*
*۔__________(( 🔰 ))__________۔*
🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸🛸
*============================*
تبصرے