نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پرسینٹ پر یا طے کرکے چندہ کرنا کیسا ہے؟ اسماعیل خان امجدی

پرسینٹ پر یا طے کرکے چندہ کرنا کیسا ہے 



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ٹیلیگرام پر اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ میں شامل ہونے کے لئے نیچے لینک پر ٹیچ کریں

آجکل جو مدرسہ کا چندہ کرتے ہیں ہمارے علما ہوں یا پھر عوام فیفٹی پرسینٹ کوٸ چالیس پرسینٹ کاٹ لیتے ہیں چندہ کرنے کا تو کیا یہ جاٸز ہے اور کیا ڈاٸریکٹ چندہ کیا ہوا پیسہ سے کاٹنا جاٸز ہے یا کمیٹی والے سے مزدوری الگ سے لینا چاہیۓ اور شریعت میں چندہ کرنے کا کتنا پرسینٹ جاٸز ہے مثال کے طور پر کوٸ 50000 ہزار چندہ کیا تو اس میں کتنا پرسینٹ کاٹےگا۔۔۔براۓمہربانی جواب دیجیۓ گا حضرت بہت ضروری ہے یہ مسلہ

الجواب بعون الملک الوہاب

وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ

اگرسفیر فیصد پر چندہ کریں تواجیر مشترک قرار پائیں گےچاہے وہ پچیس یاتیس فیصد پرکریں یاچالس اورپچاس فیصد پر کہ ان کی اجرت کام پر موقوف رہتی ہے جتنا کریں گے اسی حساب سے اجرت کے حقدار ہوں گے
حضرت علامہ حصکفی علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں
الاجراءعلی ضربین مشترک وخاص فالاول من یعمل لالواحد کالخیاط ونحوہ اویعمل له عملا غیرمؤقت کان استجارہ للخیاطة
فی بیته غیرمقیدةبمدة کان اجیرا مشترکا وان یعمل لغیرہ
📚درمختار مع شامی جلدششم صفحہ64
اورحضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتےہیں
کام میں جب وقت کی قیدنہ ہواگرچہ وہ ایک ہی شخص کاکام کرےیہ بھی اجیرمشترک ہے مثلا درزی کواپنےگھر میں کپڑاسینےکےلئےرکھا اوریہ پابندی نہ ہوکہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک سیئے گااورروزانہ یاماہانایہ اجرت دی جائے گی  بلکہ جتناکام کرےگااسی حساب سے اجرت دی جائےتویہ اجیرمشترک ہے
بہار شریعت حصہ چہاردہم صفحہ 144
اوراگرڈبل تنخواہ پر چندہ وصول کریں تواجیر خاص کی صورت ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ غمزالعیون کےحوالہ سے تحریر فرماتے ہیں
استاجره لیصیدله اولیحطتب جاز ان وقت بان قا ل ھذالیوم او ھذاالشھرویجب المسمی لان ھذااجیروحدوشرط صحته بیان الوقت وقدوجد
📚فتاوی رضویہ جلداول صفحہ ‌525
لھذاڈبل تنخواہ پرچندہ کرنے والوں کوڈبل تنخواہ اورفیصد پرچندہ والوں کو جتنافیصد مقررہواس اعتبار سےاجرت دیناجائز ہے چاہے وہ صدقہ واجبہ ہو یانافلہ دونوں کی اجرت میں کوئ فرق نہیں
بشرطیکہ خاص چندہ کےروپئےمیں اجرت دیناطے نہ کیاجائےپھر چاہے اسی روپئے سے دی جائے تاکہ فقیزطحان نہ ہوجس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے
📚درمختار مع شامی جلدششم صفحہ57 میں ہے
الحیلة ان یسمی قفیزابلا تعیین ثم یعطیه منه فیجوزاھ مخلصا
البتہ چندہ کرنے والوں پرضروری ہے کہ فیصد پر مقرر کرتے وقت اس کاخاص خیال رکھیں کہ مدارس وغیرہ کانقصان نہ ہو
جتنے میں سفیروں کی ضرورت پوری ہوجائے اسی اعتبار سے فیصد مقررکریں اس سے زیادہ کی اجازت نہیں
📚الاشباہ والنظائر صفحہ 140میں ہے
ماابیح للضرورة یتقدربقدرھا اھ
 📚فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ  324
واللّٰہ اعلم بالصواب
اعـــلیٰ حـضـــرت زنــدہ بــاد گــــروپ
بتاریخ:(7)اپریل:بروز منگل(2019)


شــــــرف قلــــــم📝

حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی رضوی گونڈوی صاحب قبلہ مدظلہ والنورانی

دارالعلوم الجامعة القریش نوری نگر نزدخالدبن ولید مسجد شانتی نگر بھیونڈی ممبئ
واٹس ایپ پر رابطہ کیلئے👇🏻

المشتہـــــــر
حضرت حافظ محمد عارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی الھنـــــدر
واٹس ایپ پر رابطہ کے لیے
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.