نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے؟

*میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے*
ا_______🔹🔸🔹________
*السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ*
 کیا فرماتیں ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ  مردے کے نام سے قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں پوسٹ کی صورت میں
*🍃المستفتی عبدالحفیظ رضوی🍃*
ا_______🔹🔸🔹________
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ؛*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*
*صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ حضرت علامہ  مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ اعظمی فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور  میت کی طرف سے جو قربانی کی تو اس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے اور دوست و احباب کو دے یہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیونکہ گوشت اس کی ملک ہے یہ سب کچھ کر سکتا ہے اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کردے شامی میں ہے*
*من عن المیت  کما یصنع فی اضحیۃ نفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت والملک للذابح قال الصدر و المختار انہ ان یامر المیت لایاکل منھا والایاکل  فتاوی بحر العلوم جلد پنجم صفحہ  185*
*👈🏻میت کے نام سے قربانی کرنا جائز و درست ہے اور اس کا گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست و احباب کو دے اور فقیروں کو بھی دے یہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے۔ہاں اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کردے حدیث شریف میں ہے*
*عن حنش قال رايت علىا رضي الله تعالى عنه يضحي بكبشين فقلت له ما هذا قال ان رسول الله صلى الله عليه و سلم اوصانی ان اضحي عنہ فانا اضحى عنه*
*🌹حضرت حنش سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی ان کو دیکھا کہ وہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا ؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں*
*السنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ  385*
*📘باب الاضحیۃ عن المیت ردالمحتار کتاب الاضحیہ میں ہے قال فی البدائع لان الموت لا يمنع التقرب عن الميت  بدليل انه يجوز ان يتصدق عنه و یحج عنه وقد صح ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين احدهما عن نفسه و الاخر عمن لم يذبح من امتہ*
*جلد 6 صفحہ نمبر 326*
*📗فتاویٰ بزازیہ كتاب الاضحيه میں ہے المختار انه ان اضحي بامر المیت* *لاياكل منها و ان بغیر امره ياكل*
*جلد 6 صفحہ نمبر 295*
*📕ایسا ہی بہار شریعت حصہ 15 صفحہ  144 میں ہے*
*📗فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ  318*

*واللہ تعالٰی اعلم بالصواب؛*
ا_______🔹🔸🔹________
*✍🏼ازقـــــلــم حضـــرت علامــــہ ومولانـــا*
*محمـــد اسمــاعیـل خـان امجـدی صاحـب*
*قبلــــہ مدظلــــہ العـــالــٰـی والنـــــورانــــی*
*دولـھـــــــاپورضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــــــــ  9918562794*
*۲۵ذی القعدہ ۱۴۴۰ھ بمطابق ۲۹جولائی۲۰۱۹بروز پیر*

*🔘اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ؛🔘*
*رابطہ؛📞(9918562794)*
ا________🔹🔸🔹_______
*المشتـــہر؛*
*منجانب؛منتظمین قــادری فقہــی گروپ رابطہ ⇩؛محمد امتـــیاز عالــم تـارابـاڑی پورنیہ بہــار  انڈیا؛*
*(8922921676)*
ا_______🔹🔸🔹________
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.