*📢خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ھے ؟📢*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*✍الجواب بعون الملک الوھاب*
*ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے ردالمحتارمیں ہے*
*(اجابۃ الاذان مکروھۃ)*
*اذان کا جواب اُس وقت مکروہ ہے*
*(📘ردالمحتارباب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱/۶۰۷(نہرالفائق)*
*پھر دُرمختار میں ہے*
*(ینبغی ان لایجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب)*
*اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔*
*(📙 الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی۱/۶۵)*
*اُسی میں ہےاذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والافقیامہ للصعود فلاصلاۃ ولاکلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدما اذاجلس عندالثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعاً وعلی ھذا فالترقیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینھی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم اللّٰہ اھ ملخصا*
*اور جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ امام کا منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہونا معتبر ہے۔ تو اس وقت سے تمام خطبہ تک نہ کوئی نماز جائز ہے نہ کوئی کلام۔ اور صاحبین نے کہا: خطبہ سے پہلے اور بعد کلام میں کوئی حرج نہیں۔ اور امام ابویوسف کے نزدیک جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں حرج نہیں۔ اوراختلاف امام صاحب اور صاحبین کا اس کلام میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو، کلامِ آخرت کے علاوہ دنیاوی کلام بالاتفاق مکروہ ہے۔*
*اسی بنا پرخطیب کے سامنےآیہ کریمہ*
*ان اللّٰہ وملئکۃ الخ کا پڑھنا جیسا کہ ہمارے زمانے میں معروف ہے امام اعظم کے نزدیک مکروہ ہے، تعجب اس بات کا ہے کہ آیت مذکورہ کو پڑھنے والا حدیث شریف کے تقاضے کے مطابق دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے منع کرتا ہے پھر خود کہتا ہے چُپ رہو۔ اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے اھ ملخصا*
*(📕الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی۱/۱۱۳)*
*ہاں یہ جواب اذان یا دُعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفّظ اصلاً نہ ہوتو کوئی حرج نہیں کماافادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذہب جیسا کہ ملّا علی قاری کے بیان سے مستفاد ہے اور دیگر فروع کتب مذہب میں ہیں۔*
*اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دعا کرے بلاشبہہ جائز ہے*
*وقدصح کلا الامرین عن سیدالکونین صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ*
*صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امورسید کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ یہ قول مجمل ہے*
*اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دُعا میں امام وصاحبین رضی ﷲ تعالٰی عنہم کا اختلاف ہے بچنا اولٰی ، اور کریں تو حرج نہیں، یوں ہی اذانِ خطبہ میں نام ِپاک سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے، خطبہ میں نامِ پاک سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں،*
*(📗فتاوی رضویہ جلد ہشتم کتاب الصلوة ص466)*
*وﷲ تعالٰی اعلم؛*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*✍كتـبــہ:- حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*بتاريخ، ⑭ رَجَبُ الْمُرَجَّبْ ٠۴۴١ھ*
*♦الحـلـقـتـہ العـلـمـيـہ گــروپ؛♦*
*رابطــہ؛ +919918562794)*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*المشتــــہر؛*
*منجانب؛ منتظمين الحلقـتـہ العلـمـيـہ گروپ؛ اسيـر تاج الشريعه غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى انڈيا؛*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*✍الجواب بعون الملک الوھاب*
*ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے ردالمحتارمیں ہے*
*(اجابۃ الاذان مکروھۃ)*
*اذان کا جواب اُس وقت مکروہ ہے*
*(📘ردالمحتارباب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱/۶۰۷(نہرالفائق)*
*پھر دُرمختار میں ہے*
*(ینبغی ان لایجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب)*
*اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔*
*(📙 الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی۱/۶۵)*
*اُسی میں ہےاذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والافقیامہ للصعود فلاصلاۃ ولاکلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدما اذاجلس عندالثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعاً وعلی ھذا فالترقیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینھی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم اللّٰہ اھ ملخصا*
*اور جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ امام کا منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہونا معتبر ہے۔ تو اس وقت سے تمام خطبہ تک نہ کوئی نماز جائز ہے نہ کوئی کلام۔ اور صاحبین نے کہا: خطبہ سے پہلے اور بعد کلام میں کوئی حرج نہیں۔ اور امام ابویوسف کے نزدیک جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں حرج نہیں۔ اوراختلاف امام صاحب اور صاحبین کا اس کلام میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو، کلامِ آخرت کے علاوہ دنیاوی کلام بالاتفاق مکروہ ہے۔*
*اسی بنا پرخطیب کے سامنےآیہ کریمہ*
*ان اللّٰہ وملئکۃ الخ کا پڑھنا جیسا کہ ہمارے زمانے میں معروف ہے امام اعظم کے نزدیک مکروہ ہے، تعجب اس بات کا ہے کہ آیت مذکورہ کو پڑھنے والا حدیث شریف کے تقاضے کے مطابق دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے منع کرتا ہے پھر خود کہتا ہے چُپ رہو۔ اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے اھ ملخصا*
*(📕الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی۱/۱۱۳)*
*ہاں یہ جواب اذان یا دُعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفّظ اصلاً نہ ہوتو کوئی حرج نہیں کماافادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذہب جیسا کہ ملّا علی قاری کے بیان سے مستفاد ہے اور دیگر فروع کتب مذہب میں ہیں۔*
*اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دعا کرے بلاشبہہ جائز ہے*
*وقدصح کلا الامرین عن سیدالکونین صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ*
*صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امورسید کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ یہ قول مجمل ہے*
*اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دُعا میں امام وصاحبین رضی ﷲ تعالٰی عنہم کا اختلاف ہے بچنا اولٰی ، اور کریں تو حرج نہیں، یوں ہی اذانِ خطبہ میں نام ِپاک سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے، خطبہ میں نامِ پاک سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں،*
*(📗فتاوی رضویہ جلد ہشتم کتاب الصلوة ص466)*
*وﷲ تعالٰی اعلم؛*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*✍كتـبــہ:- حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*بتاريخ، ⑭ رَجَبُ الْمُرَجَّبْ ٠۴۴١ھ*
*♦الحـلـقـتـہ العـلـمـيـہ گــروپ؛♦*
*رابطــہ؛ +919918562794)*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
*المشتــــہر؛*
*منجانب؛ منتظمين الحلقـتـہ العلـمـيـہ گروپ؛ اسيـر تاج الشريعه غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى انڈيا؛*
◆ـــــــــــــــــ▪📦▪ــــــــــــــــــ◆
تبصرے