Aarif Raza:
*🍥محراب کے اندر نماز پڑھ نا کیسا ہے🍥*
*علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ محراب کے اندر*
*نماز پڑھنا درست کہ نہیں جلد جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*فی الواقع امام کا بے* *ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ)*
*ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں*
*اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور چارہ گرہ یا کم بلند ی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ، اوربے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے*
*والضرورات تبیح المحظورات*
*سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ رہا اکیلا ،اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلًا کراہت نہیں رکھتا ۔ دُرمختار میں ہے*
*:کرہ قیام الامام فی* *المحراب لاسجودہ فیہ وقد ماہ خارجہ لان العبرۃ للقدم امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، اگر قدم باہر ہوں اورسجدہ محراب میں ہو تو یہ مکروہ نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔*
*📚ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:*
*فی الولوالجیۃ وغیرھا اذالم یضق المسجد بمنخلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانین انتھی یعنی وحقیقۃ اختلافالمکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وانکان من المسجد فصوورتہ و ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف ا ھ ملخصا*
*ولو الجیہ وغیرہا میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کومحراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا انتہی یعنی مکان کاحقیقۃً اختلاف جوازِ نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلافِ مکان کا شبہ ہو وہاں کراہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلاف ِمکان کا شُبہ پیدا کرتی ہے۔اھ ملخصا*
*اسی میں معراج الداریہ سے ہے:*
*حکی الحلوانی عن ابی اللیث لا یکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجدعلی القوم*
*حلوانی نے ابو اللیث سے نقل کیا کہ ضرورت کے وقت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں جبکہ نمازیوں پر مسجد تنگف ہو۔ )اُسی میں کتاب مذکور سے ہے:*
*الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال أکرۃ للامام ان یقوماصح روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہی مروی ہے کہ امام کادو ستون کے درمیان*
*کھڑا ہونا مکروہ ہے۔*
*تنویر الابصار میں ہے:*
*لو کان موضع سجودہ ارفع عن موضع القدمین بمقدار البنتین منصوبتین جازوان اکثرلا*
*اگر نمازی کے سجدہ کی جگہ قدموں کی جگہ سے دو کھڑی اینٹوں کے برابر بلند ہو تو نماز جائز، اوراگر ا س سے زیادہ بلند ہو تو نماز جائزنہ ہوگی۔*
*دُرمختار میں ہے :مقدار ارتفا عھما نصف ذراع ثنتاعشرۃ اصبعا ذکرہ الحلبی*
*ان دونوں کا بلند ہونا نصف ذراع ہے جو کہ* *بارہ١٢ انگلیوں کی مقدار ہے حلبی نے اسے ذکر کیا*
*ردالمحتار میں ہے*
*:قولہ جاز سجودہ الظاھر انہ مع الکرھۃ لمخالفتہ للماثور من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم*
*۔قولہ جاز سجودہ یعنی سجدہ تو جائز ہوگا مگر بظاہر کراہت ہوگی کیونکہ حضورکے فعلِ منقول کے خلاف ہے۔*
*سنن ابنِ ماجہ میں ہے:عن معویۃ بن قرۃعن* *ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کنانھی ان نصف بین السواری علی عھد رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونطرد عنھا طردا یعنی قرہ بن ایاس مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں دو ستونوں کے بیچ صف باندھنے سے منع فرمایا جاتا اور وہاں سے دھکے دے کرہٹائے جاتےےتھے*
*مسند امام احمد و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و سنن نسائی و صحیح حاکم میں ہے:*
*عن عبدالمجید بن محمود قال صلینا خلف امیرمن الامراء فاضطرنا الناسٖ صلینا*
*یعنی ایك تابعی کہتے ہیں ہم نے ایك امیر کے پیچھےنماز پڑھی لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہمیں دو ستونوں میں نمازپڑھنی ہوئی)*
*جب ہم نماز پڑھ چکے تو( انس بن مالك نے فرمایا ہم زمانہ ٔاقدس حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں اس سے بچتے تھے۔حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلوٰۃ الی الراحلۃ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:لاتصفوا بین الاساطین واتموا الصفوف ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو ۔اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر ت
ینون دروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایك صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے*
*رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*
*من قطع صفا قطعہ ﷲ*
*جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے قطع کردے*
*۔اور بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی پُوری نہ کی ،* *اور اس کا پُورا کرنا لازم ہے ۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں اتمواالصفوف صفوں کو مکمل کرو۔اور اگر اس وقت زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وُہ بھی ممنوع ہے*
*۔قال اﷲ تعالٰی تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا*
*ﷲ تعالٰی فرماتا ہے یہ ﷲ تعالٰی کی حدود ہیں پس ان کو توڑنے کے قریب مت جاؤ۔اور دروں میں* *مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔علمائے کرام نے صاف* *تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔صحیح بخاری میں ہے*
*باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ باب جماعت کے علاوہ ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کا ۔*
*امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اُس شرح میں فرماتے ہیں*
*:قید بغیر جماعۃ لان ذٰلك یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ*
*بغیر جماعت کی قید اس لئے ہے کہ یہ )نمازی کا دوستونوں کے درمیان ٹھرنا( صفوں کو توڑنا ہے*
*🍥واللہ اعلم*🍥
*ــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ـــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*🍥محراب کے اندر نماز پڑھ نا کیسا ہے🍥*
*علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ محراب کے اندر*
*نماز پڑھنا درست کہ نہیں جلد جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*فی الواقع امام کا بے* *ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ)*
*ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں*
*اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور چارہ گرہ یا کم بلند ی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ، اوربے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے*
*والضرورات تبیح المحظورات*
*سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ رہا اکیلا ،اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلًا کراہت نہیں رکھتا ۔ دُرمختار میں ہے*
*:کرہ قیام الامام فی* *المحراب لاسجودہ فیہ وقد ماہ خارجہ لان العبرۃ للقدم امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، اگر قدم باہر ہوں اورسجدہ محراب میں ہو تو یہ مکروہ نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔*
*📚ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:*
*فی الولوالجیۃ وغیرھا اذالم یضق المسجد بمنخلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانین انتھی یعنی وحقیقۃ اختلافالمکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وانکان من المسجد فصوورتہ و ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف ا ھ ملخصا*
*ولو الجیہ وغیرہا میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کومحراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا انتہی یعنی مکان کاحقیقۃً اختلاف جوازِ نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلافِ مکان کا شبہ ہو وہاں کراہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلاف ِمکان کا شُبہ پیدا کرتی ہے۔اھ ملخصا*
*اسی میں معراج الداریہ سے ہے:*
*حکی الحلوانی عن ابی اللیث لا یکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجدعلی القوم*
*حلوانی نے ابو اللیث سے نقل کیا کہ ضرورت کے وقت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں جبکہ نمازیوں پر مسجد تنگف ہو۔ )اُسی میں کتاب مذکور سے ہے:*
*الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال أکرۃ للامام ان یقوماصح روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہی مروی ہے کہ امام کادو ستون کے درمیان*
*کھڑا ہونا مکروہ ہے۔*
*تنویر الابصار میں ہے:*
*لو کان موضع سجودہ ارفع عن موضع القدمین بمقدار البنتین منصوبتین جازوان اکثرلا*
*اگر نمازی کے سجدہ کی جگہ قدموں کی جگہ سے دو کھڑی اینٹوں کے برابر بلند ہو تو نماز جائز، اوراگر ا س سے زیادہ بلند ہو تو نماز جائزنہ ہوگی۔*
*دُرمختار میں ہے :مقدار ارتفا عھما نصف ذراع ثنتاعشرۃ اصبعا ذکرہ الحلبی*
*ان دونوں کا بلند ہونا نصف ذراع ہے جو کہ* *بارہ١٢ انگلیوں کی مقدار ہے حلبی نے اسے ذکر کیا*
*ردالمحتار میں ہے*
*:قولہ جاز سجودہ الظاھر انہ مع الکرھۃ لمخالفتہ للماثور من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم*
*۔قولہ جاز سجودہ یعنی سجدہ تو جائز ہوگا مگر بظاہر کراہت ہوگی کیونکہ حضورکے فعلِ منقول کے خلاف ہے۔*
*سنن ابنِ ماجہ میں ہے:عن معویۃ بن قرۃعن* *ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کنانھی ان نصف بین السواری علی عھد رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونطرد عنھا طردا یعنی قرہ بن ایاس مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں دو ستونوں کے بیچ صف باندھنے سے منع فرمایا جاتا اور وہاں سے دھکے دے کرہٹائے جاتےےتھے*
*مسند امام احمد و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و سنن نسائی و صحیح حاکم میں ہے:*
*عن عبدالمجید بن محمود قال صلینا خلف امیرمن الامراء فاضطرنا الناسٖ صلینا*
*یعنی ایك تابعی کہتے ہیں ہم نے ایك امیر کے پیچھےنماز پڑھی لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہمیں دو ستونوں میں نمازپڑھنی ہوئی)*
*جب ہم نماز پڑھ چکے تو( انس بن مالك نے فرمایا ہم زمانہ ٔاقدس حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں اس سے بچتے تھے۔حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلوٰۃ الی الراحلۃ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:لاتصفوا بین الاساطین واتموا الصفوف ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو ۔اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر ت
ینون دروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایك صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے*
*رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*
*من قطع صفا قطعہ ﷲ*
*جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے قطع کردے*
*۔اور بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی پُوری نہ کی ،* *اور اس کا پُورا کرنا لازم ہے ۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں اتمواالصفوف صفوں کو مکمل کرو۔اور اگر اس وقت زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وُہ بھی ممنوع ہے*
*۔قال اﷲ تعالٰی تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا*
*ﷲ تعالٰی فرماتا ہے یہ ﷲ تعالٰی کی حدود ہیں پس ان کو توڑنے کے قریب مت جاؤ۔اور دروں میں* *مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔علمائے کرام نے صاف* *تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔صحیح بخاری میں ہے*
*باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ باب جماعت کے علاوہ ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کا ۔*
*امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اُس شرح میں فرماتے ہیں*
*:قید بغیر جماعۃ لان ذٰلك یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ*
*بغیر جماعت کی قید اس لئے ہے کہ یہ )نمازی کا دوستونوں کے درمیان ٹھرنا( صفوں کو توڑنا ہے*
*🍥واللہ اعلم*🍥
*ــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ـــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے غـــــوث و خــواجہ ورضـا حامد و مصطفــــــٰی*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*📞+917800878771
تبصرے