نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

عرض کرنا یہ تھا کی بارش کا پانی اگر سڑک یا کسی گلی وغیرہ میں جمع ہو اور اس میں ناپاک نالے کا پانی بھی شامل ہو جیسے پشاب خانہ وغیرہ سے بھی پانی آتا ہو تو کیا اگر کوئی شخص اس راستے سے گزرے جس میں بارش کا پانی جمع ہو اور اس میں ناپاک پانی بھی بہ کر آیا ہے اور اس میں شامل ہے تو کیا اس راستے سے گزرنے والا شخص ناپاک ہو جائیگا جب کہ اس  کو اس بات کا علم ہے کی اس میں ناپاک پانی بھی شامل ہےمدلل جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔


سائل محمد صلاح الدین رضا کولکاتہ (بنگال)


وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب بعون الملک الوھاب 
 بارش کے پانی کا صرف نجاستوں سے گزر جانا نجاست کا موجب نہیں لأن الماء الجاري يطهر بعضه بعضإ(فتاوی رضویہ جلد١ص ۲۳۵
البتہ بارش کا پانی اگر ناپاک جگہوں سے بہہ کر ایک جگہ اکٹھا ہوا تو دیکھا جائے کہ اس کا رنگ، بو، مزه بدل گیا ہے یانہیں پہلی صورت میں پانی ناپاک ہے اس سے وضووغیره جائز ہیں اور دوسری صورت میں پاک ہے اس سے وضووغیرہ کرنا جائز ہے جیسا که ہدایہ کتاب الطہارت میں ہے
الطهارة من الاحداث جائزة بماء السماء والأودية والعيون والأبار والمحار لقوله تعالى انزلنا من السماء ماء طهورا وقوله عليه السلام الماء طهور لاینجسه شي الا ماغير لونها وطعمه اوريحه  
فتاوی مرکزتربیت افتإ جلد اول ص79
واللہ اعلم 

الامجدی
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.