نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وہ کونسے صحابی تھے جنکی طلاق جنکی طلاق شدہ بیوی سے حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے نکاح کیا


*👈🏻((وہ کونسے صحابی تھے جنکی طلاق شدہ بیوی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا))👉🏻*
*_◆ــــــــــــــــــــــ💠⭐💠ـــــــــــــــــــــــــ◆_*

*ٹیلیـــــگرام پر اعـلـی حـضـرت زنـدہ بـاد گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئےنیــــچے دئے گــــئے لنـــک پر کلــــک کریں👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻*
*http://T.me/AalahzratZindabadGroup*
 ☆ *_اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*☆
 *💙الـســــوال💙*
*📜کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلے پر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک غلام تھا جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس غلام کی شادی کراے پھر اس کے بعد اس غلام کو اس کی بیوی کو طلاق دینے کے لئے کہا پھر اس نے طلاق دے دیا اور اپنے غلام کی طلاق شدہ بیوی سے حضور نے نکاح کرلیا اور اس غلام کو نبی نے آپنا بھائی مانلیا جواب عنایت فرمائیں کہاں تک بات صحیح ہے ہے اور اس غلام کا نام بھی بتائیں*
_*✒الســائل 👈 اکبر علی قادری محمدی کٹیہار*_
*_◆ــــــــــــــــــــــ💠⭐💠ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
_*🌀وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ🌀*_ 
_*📝الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب*👇_
*رب تبارک تعالی قران مجید میں ارشاد فرماتاہے*
*وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآىٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًاؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا*
*📗(سورہ احزاب ایت 37)📗*
*ترجمہ کنزالعرفان اور اے محبوب یاد کرو جب تم اس سے فرمارہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اورجس پر آپ نے انعام فرمایا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روک رکھ اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تمہیں لوگوں کا* *اندیشہ تھا اور اللہ اس بات کازیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے حاجت پوری کرلی تو ہم نے آپ کا اس کے ساتھ نکاح کردیاتاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کچھ حرج نہ رہے جب ان سے اپنی حاجت پوری کرلیں اور اللہ کا حکم پوراہوکر رہتاہے*
*وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ اور اے محبوب یاد کرو جب تم اس سے فرمارہے تھے جس پر       اللہ نے انعام فرمایا*
 *اس آیت میں  جس واقعے کی طرف اشارہ فرمایاگیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       کواللہ تعالیٰ نے اسلام کی عظیم دولت سے نواز کر ان پر انعام فرمایا اور حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       نے انہیں  آزاد کر کے اور ان کی پرورش فرما کر ان پر انعام اور احسان فرمایا۔جب حضرت زید       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       کا نکاح حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       سے ہو چکا تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس       اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ حضرت زینب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       آپ کی ازواجِ مُطَہَّرات       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ       میں داخل ہوں  گی،       اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہےچنانچہ اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت زید       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       اورحضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کے درمیان موافقت نہ ہوئی اور حضرت زید       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       نے سرکارِ دو عالَم       صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کی سخت انداز میں  گفتگو ، تیز زبانی ، اطاعت نہ کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی شکایت کی۔ ایسا بار بار اتفاق ہوا اور ہر بار حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت زید       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       کو سمجھا دیتے اور ان سے ارشاد فرماتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو اور حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       پر تکبر کرنے اور شوہر کو تکلیف دینے کے الزام لگانے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       حضرت زید  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ پر یہ ظاہر نہیں  فرماتے تھے کہ حضرت زینب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کے ساتھ تمہارا گزارہ نہیں  ہو سکے گا اور طلاق ضرور واقع ہو گی اوراللہ تعالیٰ انہیں  ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ میں  داخل کرے گااور اللہ تعالیٰ کو یہ بات ظاہر کرنا منظور تھی ۔ جب حضرت زید       رَضِیَ

اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       نے حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کو طلاق دے دی تو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو لوگوں  کی طرف سے اعتراض کئے جانے کا اندیشہ ہوا کہ*       *اللہ تعالیٰ کا حکم تو حضرت زینب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ نکاح کرنے کا ہے اور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں  گے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جو ان کے منہ بولے بیٹے کے نکاح میں  رہی تھی ،اس پر آپ کو لوگوں  کے بے جا اعتراضات کی پرواہ نہ کرنے کا فرمایا گیا۔حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کی عدت گزرنے کے بعد ان کے پاس حضرت زید       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ       رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       کا پیام لے کر گئے اور انہوں  نے سر جھکا کر کمالِ شرم و اَدب سے انہیں  یہ پیام پہنچایا۔حضرت زینب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا کہ میں  اس معاملہ میں  اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں  دیتی، جو میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو منظور ہو میں  اس پر راضی ہوں  ۔یہ کہہ کر وہ بارگاہِ الٰہی*       *عَزَّوَجَلَّ میں  متوجہ ہوئیں  اور انہوں  نے نماز شروع کر دی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت زینب       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا       کو اس نکاح سے بہت خوشی اور فخر ہوا اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       نے اس شادی کا ولیمہ بہت وسعت کے ساتھ کیا۔*
*📗(خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ  ۳۷)*
 *(مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۷)📗*   
*اس آیت سے یہ باتیں  معلوم ہوئیں*   
*یہ کہنا جائز ہے کہ     اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  یہ نعمت دی ہے نیز رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زیادہ*
 *شادیا ں فرمانے کی ایک حکمت معاشرے میں  رائج بری رسموں  کا خاتمہ کرنا تھی،جیسے حضرت زینب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح فرما کرلوگوں کے* *درمیان رائج اس بری رسم کاخاتمہ کردیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا حرام ہے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹے کی* *طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے جبکہ حرمت کی کوئی شرعی وجہ نہ ہو*     
*حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ شرف حاصل ہے کہ تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ* *اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ*       *میں  سے صرف ان کا نام صراحت کے ساتھ* *قرآن کریم میں  مذکور ہے اور دنیا و آخرت میں  قرآن* *مجید کی تلاوت کرنے والے انسان اور فرشتے آیت میں  ان کا نام پڑھتے رہیں  گے*
*📗(صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۷)*
*(بحوالہ صراط الجنان سورہ احزاب)📗*
*👑وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب👑*
*_◆ــــــــــــــــــــــ💠⭐💠ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*( ✍ )کتبـــــــــــــــــــــــــہ( 👇 )*
*حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد اســـمــا عــیــل خــان الـقـــادری الرضـــــوی الامجــــدی عـفـی عــنـہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی*
  *مقام👈🏻 دولـھـاپـور پـہـاڑی پـوسـٹ انـٹـیـاتـھـوک بـازار ضـلـــع گــونــڈہ یـــوپـــی*
*🗓️ مورخہ 21/4/2020*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد و فیض تاج الشریعہ فقہی گــــروپ📚*
*میں شـــــامل ہونے کے لــــئے رابـطـہ کریں👇🏻👇🏻👇🏻*
*https://wa.me/+919918562794*

*گـوگــل پـر پـڑھـنـے کـے لـئـے اس لـنــک پــر کلـک کــریــں👇🏻👇🏻👇🏻*
*https://amjadigroup.blogspot.com/*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
_*🖥المـــشـــتــــــــہر؛🖥*_
*محمـــــــد کامـــران عــلـی قــادری رضـــوی ازھـــری امجــــدی عـفی عـنـــہ مـمـبـــئــی مـہـاراشــٹـــر الـھـنـــد*
  _*📲 + 9 1 8 1 4 9 4 1 2 5 8 5 👈🏻*_
*_◆ــــــــــــــــــــــ💠⭐💠ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.