السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
عیدگاہ کی زمین پر مدرسہ کی تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں
المستفتی محمد سہیل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر عیدگاہ شہر میں ہے تو اس کو مدرسہ بناناجائز نہیں، کیونکہ یہ عیدگاہ کا وقف صحیح ہے اور وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں، فتاویٰ ہندیہ میں ہے لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته
وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے، فتاوی ھندیہ 2 ج الباب الرابع عشر فی المتفرقات صفحہ 490،رد المحتار میں ہے، الواجب ابقاء الوقف على ماكان عليه، وقف کو باقی رکھنا واجب ہے جس پر وہ پہلے تھا
جلد6 کتاب الوقف مطلب لایستبد العامر الا فی اربع صفحہ 589،درمختار میں ہے کہ شرط الواقف كنص الشارع فى وجوب العمل به، کتاب الوقف ج 6 ص 649،اوراگر عیدگاہ دیہات میں ہے تو یہ عیدگاہ کا وقف صحیح نہیں ہےاور اس زمین میں مدرسہ بنانا شرعاً یہ جائز نہیں بلکہ اس میں ان کے وارثوں کا حق ہے ہاں اگر ان کے وارثین مدرسہ بنانے کے لئے وقف کردیں یا اجازت دے دیں تو بناسکتے ہیں کوئی حرج نہیں، فتاویٰ رضویہ میں ہے اور ہمارے ائمہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کے مذہب میں گاؤں میں عیدین جائز نہیں تو وہاں عیدگاہ وقف نہیں ہوسکتی کہ محض بے حاجت و بے قربت بلکہ مخالف قربت ہے، تو وہ زمین وعمارت ملک بانیان ہیں انہیں اختیار ہے اس میں جو چاہیں کریں، خواہ اپنا مکان بنائیں یا زراعت کریں یا قبرستان کرائیں، اور اب وہاں دوسری عیدگاہ بنائیں گے اس کی بھی یہی حالت ہوگی، بہار شریعت جلد دوم میں ہے وہ کام جس کے لئے وقف کرتا ہے فی نفسہ ثواب کا کام ہو یعنی واقف کے نزدیک بھی وہ ثواب کا کام ہو اور واقع میں بھی ثواب کا کام ہو اگر ثواب کا کام نہیں ہے تو وقف صحیح نہیں۔مثلاً کسی ناجائز کام کے لئے وقف کیا اور اگر واقف کے خیال میں وہ نیکی کا کام ہو مگر حقیقت میں ثواب کا کام نہ ہو تو وقف صحیح نہیں اور اگر واقع میں ثواب کا کام ہے مگر واقف کے اعتقاد میں کار ثواب نہیں جب بھی وقف صحیح نہیں
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
(۸) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۴) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز منگل

تبصرے