اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســـــــــــــوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کہتا ہے اگر کوئ شخص دنیا میں غیر اللّہ کی عبادت کرتا ہے ہندؤں والا کام کرتا ہے اور اللہ کے ساتھ غیر اللّہ کو شریک کرتا ہے تو وہ مرنے کے بعد جہنم میں جاے گا جبکہ بکر کا کہنا یہ ہے کہ دنیا میں اگرچہ کافر تھا لیکن مرتے وقت ایمان نصیب ہوا یا نہیں اس کا ہم فیصلہ نہیں کر سکتے لہذا اس مرنے والے کو ہم جہنمی یا جنتی نہیں کہ سکتے تو اس میں کس کا قول صحیح ہے اگر زید کا قول صحیح ہے تو بکر پر شریعت کا کیا حال نافذ ہوگا اور اگر بکر صحیح ہے تو زید کے بارے میں کیا حکم ہوگا مفتیان کرام جواب سے نواز دیں بہت مہربانی ہوگی
الســائــل,: ۔محمد ہاشم رضا عزیزی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ
آج کل بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے کافر نہ کہیں گے یہ بالکل غلط ہے کیا یہود ونصاریٰ میں اسلام کی کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ قرآن عظیم میں انھیں کافر فرمایا گیا بلکہ بات یہ ہے کہ علما نے فرمایا یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی بات کہی جس کے بعض معنی اسلام کے مطابق ہیں تو کافر نہ کہیں گے اس کو ان لوگوں نے یہ بنا لیا۔ ایک یہ وبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ’’ہم تو کافر کو بھی کافر نہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو گا ‘‘ یہ بھی غلط ہے قرآنِ عظیم نے کافر کو کافر کہااور کافر کہنے کا حکم دیا۔ ’’قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمھیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے اگر کافر کو کافر نہ جانا جائے تو کیا اس کے ساتھ وہی معاملات کروگے جو مسلم کے ساتھ ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے امور ایسے ہیں جن میں کفار کے احکام مسلمانوں سے بالکل جدا ہیں مثلاً ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، ان کے لیے استغفار نہ کرنا، ان کو مسلمانوں کی طرح دفن نہ کرنا، ان کو اپنی لڑکیاں نہ دینا، ان پر جہاد کرنا، ان سے جزیہ لینا اس سے انکار کریں تو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ۔ بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ ’’ہم کسی کو کافر نہیں کہتے، عالم لوگ جانیں وہ کافر کہیں ‘‘ مگر کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ عوام کے تو وہی عقائد ہونگے جو قرآن و حدیث وغیرہما سے علما نے انھیں بتائے یا عوام کے لیے کوئی شریعت جدا گا نہ ہے جب ایسا نہیں تو پھر عالمِ دین کے بتائے پر کیوں نہیں چلتے نیزیہ کہ ضروریات کا*انکار کوئی ایسا امر نہیں جو علما ہی جانیں عوام جو علما کی صحبت سے مشرف ہوتے رہتے ہیں وہ بھی ان سے بے خبر نہیں ہوتے پھر ایسے معاملہ میں پہلو تہی اور اعراض کے کیا معنی
((بہار شریعت حصہ نہم ص 458))
جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی کہے، وہ خود کافر ہے
مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔ خاتمہ پر بِنا روزِ قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا، مگر ہم کو ﷲ و رسول (عزوجل و صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا حجم یہی ہے کہ اُسے کافر ہی جانیں ، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ کریں جو کافروں کے لیے ہیں ، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں ، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں ، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں
اِس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ’’ میاں ۔۔۔! جتنی دیر اسے کافر کہو گے، اُتنی دیر ﷲ ﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو۔۔۔؟مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔
((بہار شریعت حصہ اول ص 186))
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فقیـــر محمــــــــد اســـمــاعــیــل خــان الـقـــادری الرضـــــوی الامجــــدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـورانــی ضـلـــع گــونــڈہ یـــوپـــی
(٨) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (٢٩) جولائی ٠٢٠٢ء بروز بدھ

تبصرے