نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

لڑکیوں کاختنہ کرناشرعاکیساہے؟



 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال :  یہ مسئلہ جاننے کے لیے پوچھتا ہوں کوئ حضرات غلط نہ سمجھیں ـ کہ جس طرح مردوں کا ختنہ کیا جاتا ہے تو عورتوں کا بھی ختنہ ہوتو ہے یا نہیں مع حوالہ جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی


سائل؛ حافظ محمد انعام الحق رضوی رحمن پور کٹیہار بہار

______________________________

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ

الجواب بعون الملک الوھاب

عن عبد اللہ بن  عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال  قال  رسول اللہ

صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم   الختان سنۃ للرجال و مکرمۃ للنسائ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ، علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : مردوں کا ختنہ سنت ہے ، اور عورتوں کا لذت کی زیادتی کے لئے، ھکذافتاوی افریقہ اندام زن کے دونوں لبوں کے بیچ جو گوشت پارہ تندوبلند سرخ رنگ مثل تاج خروس کے ہے اس میں سے ایک ٹکڑا کھال کا جدا کرتے ہیں یہ ختنہ زنان ہے جہاں اس کا رواج ہے مستحب ہے ان بلاد میں اس کا نشان نہیں۔ اگر واقع ہو تو جہال ہنسیں ،اوریہ مسئلہ شرعیہ پر ہنسنا اپنا دین برباد کرنا ہے تو یہاں اس پراقدام کی حاجت نہیں۔ خود ایک مستحب بات کرنی اور مسلمانوں کو ایسی سخت بلا میں ڈالنا پسندیدہ نہیں۔فتاوی رضویہ جلد 22کتاب الحظر ص 606،لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہ عظیم میں پڑنے کا سبب ہوگا اور حفظ دین مسلمانان واجب ہے لہذا یہاں اس کا حکم نہیں، اشباہ میں ہے، لایسن ختانھا وانما ھو مکرمۃ، لڑکیوں کا ختنہ کرنا سنت نہیں بلکہ وہ ایک عمدہ کام ہے۔الاشباہ والنظائرالفن الثالث ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰، منیہ المفتٰی پھر غمز العیون میں ہے وانماکان الختان فی حقہا مکرمۃ لانہ یزید فی اللذۃ، لڑکیوں کے حق میں ختنہ ایک عمدہ فعل ہے کیونکہ اس سے لذت جماع میں اضافہ ہوتاہے غمز عیون البصائر شرح الاشباہ ادارۃ القرآن کرچی    ۲/ ۱۷۰ درمختارمیں ہے ختان المرأۃ لیس سنۃ بل مکرمۃ للرجال وقیل سنۃ  اھ وجزم بہ البزازی فی وجیزہ والحدادی فی سراجہ وقال فی الہندیۃ عن المحیط اختلف الروایات فی ختان النساء ذکر فی بعضھا انہ سنۃ ھکذا حکی عن بعض المشائخ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی فی ادب القاضی للخصاف ان ختان النساء مکرمۃ عورت کا ختنہ سنت نہیں بلکہ وہ مردوں کے لئے ایک اچھا طریقہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ سنت ہے اھ اور بزازی نے وجیز میں اس پر اظہار یقین کیا اور حدادی نے اپنی سراج میں اور فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے نقل کیا ہے کہ عورتوں کے ختنہ میں اختلافات روایات ہے، چنانچہ بعض میں یہ ذکر کیا گیا کہ وہ سنت ہے۔ چنانچہ بعض مشائخ سے اسی طرح حکایت کی گئی، اور شمس الائمہ حلوانی نے خصاف کی ادب القاضی سے ذکر کیا کہ عورتوں کا ختنہ عمدہ فعل ہے اھ،درمختار مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰ فتاوٰی ہندیہکتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷لیکن ہمارے یہاں کے ہندی لوگ اس کو نہیں پہچانتے، لہذا اگر یہاں کوئی ایسا کرے تو لوگو اس کو ملامت کریں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے۔ لہذا عمدہ وجہ اسے چھوڑدینا ہے تاکہ لوگ ایک حکم شرعی کے ساتھ ہنسی مذاق میں مبتلا نہ ہوجائیں فتاوی رضویہ جلد22کتاب الحظر

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ

(۱۸) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۴) دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروزجمعہ مبارک*


© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.