السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک گاؤں میں امامت کرتا ہے اور لوگوں کو برای سے بچنے کی اور بھلائی کرنے کو کہتا ہے مگر گاؤں کے چند لوگ اس طرح ہیں کہ امام صاحب کی بات کو ان سنی کر دیتے ہیں اور شریعت کا کچھ بھی خیال نہیں کرتے جب کہ امام صاحب نے غیر مسلم کے یہاں کھانے سے روکا مگر لوگ پھر بھی نہیں مانے غیر مسلم کے یہاں شادی بیاہ میں خوب کھاتے ہیں اور رنڈیوں کا ناچ بھی دیکھ تے ہیں اور رنڈیوں کے ساتھ ناچتے بھی ہیں اور ان پر روپیہ بھی خوب لٹاتے ہیں اور اس ناچ میں مرد عورت سبھی لوگ جاتے ہیں اور دیکھ تے ہیں اور روکنے پر کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے ہماری بہت گہری دوستی ہے اورنماز کے لئے وقت نہیں ملتا جب نماز کے لئے کہا جائے تو کہتے ہیں کہ ارے پڑھ لینگے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھتے تو ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہےجو پانچ وقت کی نماز چھوڑ دےاور جمعہ کی بھی نماز نہ پڑھے اور ناچ دیکھیں اور رنڈیوں کے ساتھ ناچے اور رنڈیوں پر روپیہ لٹاے جس میں دیکھنے میں عورتیں بھی شامل ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا،
المستفتی صوفی محمد عرفان رضا قادری گونڈوی۔ 3,1,2021
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ الله وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
جیساکہ آپ کے سوال میں ہے کہ امام صاحب لوگوں کو ناچ گانے سے منع کرتے ہیں اورنماز کاحکم دیتے ہیں اچھی بات کا حکم کرنا اور بری بات سے منع کرنا دین کا بڑا ستون ہے اس کے لئے اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اگر اسے بالکل ترک کردیا جائے اور اس کے علم و عمل کو بیکار چھوڑ اجائے تو غرض نبوت بیکار اور دیانت مضمحل اور سستی عام گمراہی تام اور جہالت شائع اور فساد زائد اور فتنہ بپا ہو جائے گا بلاد خراب اور بند گان خدا تباہ ہو جائیں گے اسی لئےاللہ تعالی نے قرآن مجید والفرقان حمید میں ارشاد فرمایا
کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ سورہ مائدہ ۷۹
ترجمہ جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے
نیز ارشاد فرماتاہے
لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ
سورہ مائدہ ۶۳
ترجمہ انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے ، بیشک بہت ہی برے کام کر رہے ہیں
اگر امام منع کرنے کی طاقت رکھتا تھا اور منع نہ کیا تو بہت بڑا گنہگار ہوا اور اگر صحیح معنوں میں فتنہ وفساد کا خوف تھا (جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ مدرسہ سے نکال دیتے ہیں تقریبا ہر مدرسہ کا یہی معاملہ ہے) تو ایسی صورت میں اس فعل کودل سے براجانے
صورت مستفسرہ میں امام اپنی ذمی داری سے سبکدوش ہے
مذہب اسلام میں لہو لعب ڈھول، باجاناچ گانا اورفلم ڈرامہ رنڈی پر پیسہ اڑانا مزامیر ہمیشہ سے حرام رہے ہیں اور ہمیشہ حرام رہیں گے
جیساکہ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا
لیکولن فی امتی اقوام یستحلون الحرر و الحرایرا و الخمر والمعازف
یعنی ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہونے والے ہیں جو زنا، ریشمی کپڑوں، شراب، اور باجوں تاشوں کو حلال ٹھرائیں گے
(ترمذی شریف،مشکوۃ اشراط الساعة، صفحہ 470
ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا،، ظھرت القینات والمعازف،، یعنی قیامت کے قریب ناچنے گانے والیوں اور باجے تاشوں کی کثرت ہوجائے گی
(ترمذی شریف،مشکوۃ اشراط الساعة، صفحہ 470
فتاویٰ عالمگیری میں ہے السماع والقول الرقص الذی یفعلہ التصوفۃ فی زماننا حرام لا یجوز القصد الیہ والجلوس علیہ
یعنی سما، قوالی، رقص، (ناچ)ہیں
خلاصہ یہ کہ دور حاضر میں ناچ دیکھنا اور طواٸف پر پیسہ لٹانا ناجائز وحرام ہے
(ماخوذ۔ غلط فہمیاں اور انکی اصلاح)
جیسا کہ فتاویٰ فیض الرسول میں ہےکہ
رنڈی بازی اور شراب خوری کرناحرام قطعی ہے جو شخص ان افعال کاعادی ہے وہ سخت گنہ گار ہے اور ظالم جفاکار ہے مسلمانوں پر واجب ہے کہ
ان حرام افعال سے دور رہنے پر مجبور کریں
اگر وہ ان برائیوں سے باز نہ آئے تو اس کا بائیکاٹ کریں
قال اللہ تعالیٰ واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعدی الذکر من القوم الظالمین
پارہ 7رکوع 14
فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ نمبر 519/520
رہی بات ایسے شخص کے یہاں کھانے پینے کی تواگر وہ شخص سچی توبہ کرلیا ہو تو بلاتامل کھا پی سکتے ہیں جبکہ
کھانا پانی حلال وطیب ہو اور
عدم توبہ کی صورت میں
شریف لوگوں کوایسے شخص کے یہاں نہ کھانا پینا ہی بہتر ہے تاکہ
عبرت ہو
اوررہی بات نماز کی ایمان وتصحیح عقائد کے بعد جملہ حقوق ﷲ میں سب سے اہم واعظم نماز ہے جمعہ وعیدین یا بلا پابندی پنجگانہ پڑھنا ہرگز نجات کاذمہ دار نہیں جس نے قصداً ایک وقت کی نماز چھوڑی ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرلے، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں اُسے یکلخت چھوڑ دیں اُس سے بات نہ کریں، اُس کے پاس نہ بیٹھیں ، تو ضرور اس کا سزا وار ہے
ﷲ تعالٰی فرماتا ہے
واماینسینّک الشیطٰن فلاتقعدبعد الذکرٰی مع القوم المظّٰلمین
اگرواقعی گاوں کے لوگوں کے اندر یہ براٸی پاٸی جاتی ہو یعنی ناچ دیکھنا رنڈی پر پیسہ لٹانا نماز نہ پڑھنا وغیرہ وغیرہ توپورا کا پورا گاوں امام صاحب کی بات مان کرن فورااپنے ان گناہوں سے توبہ کریں اور ناچ گاناچھوڑ کر فورانمازی ہوجاٸیں اور کچھ لوگ توبہ کرلیں اور کچھ لوگ نہ کریں توبقیہ لوگ توبہ نہ کرنے والے پر دباو بناٸیں اگروہ توبہ نہ کریں تو سب کے سب ان سے رشتہ منقطع کریں سلام وکلام کھاناپینا رشتے داری کرنا بندکردیں کافروں سے گہری دوستی رکھنا تو دور کی بات بلکہ مسلمانوں کو ان سے اجتناب ضروری ہے
جیساکہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں اولا تو مسلمانوں کو مطلقاً کافروں سے اجتناب چاہئے،نہ کہ ان کفار سے اتنا خلط کہ ان کی دعوت میں شرکت ہو۔جن کے یہاں جانا اور کھاناعرفابھی نہایت قبیح ہے اوران کی کمائی بھی جائزنہیں
فتاویٰ امجدیہ جلد ٤صفحہ ١٤٨
لھذا کافروں کے یہاں دعوت کھانا ان کی تقریب میں یعنی شادی وغیرہ میں شرکت کرنادعوت کھانا جائزنہیں البتہ دور حاضر میں کچھ وجوہات ایسے ہیں کہ مسلمان اگر کافروں سے بالکل اجتناب کریں گے توان کے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو بوجہ مجبوری شرکت کرسکتے ہیں
لیکن اس بات کا خیال رہے کہ کوئی کام ان کے ساتھ ایسا نہ کرے جو اسلام کے منافی ہو
جیساکہ سوال سےظاہرہے کہ کفار کی دوستی میں ناجائز وحرام کام کرتے ہیں ایسوں کے لئے دردناک عذاب ہے اللہ سےڈریں اپنی عاقبت کا فکرکریں
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
۲۰جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۵جنوری ۱٢٠٢ء بروز، منگل

تبصرے