*🖌امام کا سنت ظہر پڑھے بغیر امامت کرناکیسا؟🖌*
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكاتُهُ
عرض گزارش یہ ھے کہ ظہر میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت مٶکدہ ھے
امام کے پاس چار رکعت سنت مٶکدہ پڑھنے کے لیۓ وقت نہیں ھے تو کیا امام بغیر سنت پڑھے فرض نماز پڑھا سکتے ہیں ؟
اور اگر فرض نماز بغیر سنت پڑھے پڑھا دیا تو نماز ہوگی کہ نہیں؟
کرم فرماٸیں
سائل؛ شمشیر رضا قادری جھارکھنڈ؛
ا_________(❣)__________
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مذکورہ کے متعلق حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی فیض الرسول میں تحریر فرماتے ہیں کہ
بلا عذر چار رکعت سنت پڑھے بغیر ظہر فرض کی امامت کرنا مکروہ ہے اور بالکل ترک کردینے یعنی بعد فرض بھی نہ پڑھنے والے کے لئے وعید ہے
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا
من ترک اربعا قبل الظھر لم تنلہ شفاعتی
*(📙فتاوی فیض الرسول جلداول ص:262)*
حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنت پڑھ لینے کے بعد فرض ادا کرلے گا تو سنتوں کے پڑھنے کے بعد نماز پڑھائے فجر کی سنت کی تاکید بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ قریب بوجوب ہے بلکہ بعض فقہاء کرام اس کے وجوب کے قائل ہیں اگر سنت فجر بغیر پڑھے ہوئے امامت کرے تو اس کا ترک لازم آئےگا کہ اب اس کی قضا بھی نہیں اور بلاشبہ بے عذر سنت فجر کا ترک اساءت ہے اور ظہر کی سنتیں اگر چہ بعد فرض پڑھ لے گا مگر بلا عذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے جماعت قائم ہونے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا موخر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے مگر بلا وجہ امام کا مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے
اسی سے اس سوال کا بھی جواب ہوگیا کہ نماز تو ہوجائے گی مگر امام نے برا کیا اور اگر مؤخر کرنے کی عادت کرلی ہے اور بار بار یہی کرتا ہے تو گنہ گار بھی ہوگا
*(📕فتاوی رضویہ میں ہےکہ)*
*قول الامام الاجل فخر الاسلام ، ان تارک السنة الموکدۃ یستوجب الاساءۃ أی بنفس الترک و کراهة أی تحریمیة أی عند الاعتیاد اھ)*
یعنی امام اجل فخر الاسلام کا قول کہ سنت موکدہ کا تارک اساءت کا مستحق ہے یعنی نفس سنت کو ترک کرنے سے اور کراہت تحریمی کا عادت کرلے اھ
*(📗فتاوی بحرالعلوم کتاب الصلاۃ امامت کا بیان جلد اول ص 384)*
اور اس مسئلہ کے بارے میں مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ
ان دونوں وقتوں ( فجر و ظہر ) کی سنتیں سنت موکدہ ہیں ان کو قصداً ( جان بوجھ کر ) ترک کرنا گناہ ہے
لہذا امام مقتدیوں سے کہہ دے کہ اتنا انتظار کریں کہ میں سنتیں پڑھ لوں محض وقت کی پابندی کرنے کے لئے سنتیں چھوڑ کر امامت کروانا جائز نہیں اھ
*(📘وقار الفتاوی کتاب الصلاۃ امامت کا بیان جلد دوم ص 188)*
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ
ظہر یا جمعہ کے پہلے کی سنت فوت ہوگئی اور فرض پڑھ لئے تو اگر وقت باقی ہے تو بعد فرض پڑھ لے اور افضل یہ ہے کہ پچھلی سنت پڑھ کر ان کو پڑھیں
*(📗بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ 53)*
*(📕حدیث شریف میں ہے)*
*عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا لم یصل اربعاً قبل الظھرصلاھن بعدھا
ترمذی شریف جلد اول ص 57)*
*(📘باب ماجآء فی الرکعتین قبل الظھر ورکعتین بعد ھا)*
ترجمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریمﷺاگر ظہر سے پہلے چار سنتیں نہیں پڑھ پاتے تو بعد میں پڑھ لیا کرتے تھے۔(اور ظاہر ہے نبی کریمﷺ ہی امام ہوا کرتے تھے)
*واللہ اعلم؛*
ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازارگونڈہ یوپی الھند؛*
*مورخہ؛29/1/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________



تبصرے