ســــــوال ــــــــ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماےذوالاحترام مسٸلہ ذیل میں کہ
سوال۔ نمبر(١)
قربانی کے بڑے جانور میں چار یا پانچ شخص مل کر برابر قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
👈(جبکہ یہ تعین نہیں ہو پارہاہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے نیز یہ بھی کہ سبھی حضرات برابر پیسہ دیٸے ہیں اور گوشت کی تقسیم بھی برابر ہوگی )۔۔
✍۔ سوال نمبر۔(٢)
چند لوگ مل کر کسی بزرگ یا انبیاےکرام کے نام سے ایک یا دو حصہ قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں؟
✍۔ سوال۔ نمبر (٣)
ہندہ جو کے شادی شدہ ہے اگر ان کے نام سے قربانی کی جاے تو کن کا نام لیا جاےگا والد کا یا شوہر کا؟
قرآن وحدیث واقوال فقہا ےکرام کی روشنی میں جواب مرحمت فرماٸیں ۔
🍃ساٸل ۔ فقیر امتیازعالم رضوی مجاہدی متعلم دارالعلوم نصیرالدین اولیا ٕ کولکاتا بنگال🍃
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
📝الجواب بعون الملک الوہاب
👈🏻1= الجواب
جی ہاں کر سکتے ہیں
اس لئے کہ بڑے جانور میں سات شخص شریک ہو سکتے ہیں
اور اگر شرکاء سات سے کم ہوں تو بھی جائز ہے
🌹حضور صد رالشریعہ علیہ تحریر فر ماتے ہیں کہ "گائے اور اونٹ میں سات شخص شریک ہوسکتے ہیں " سات حصے کرنا ضروری نہیں کہ سات سے کم ہو تو قربانی جائز نہ ہو اگر دویا تین یا پانچ یاحصے کئے گئے جب بھی جائز ہے یعنی کوئی حصہ ساتویں سے کم نہ ہو اورزیادہ ہوتوحرج نہیں "اھ
📕👈🏻(فتاوی امجدیہ ج3ص313)
ہدا یہ کتاب الاضحیتہ میں ہے " تجوزعن خمسة اوستةذکرہ محمد فی الاصل لانه لماجازعن سبعةفعمن دونهم اولی ولاتجوزعن ثمانیةا خذابالقیاس فیمالانص فیه وکذااذاکان نصیب احد ھم اقل من السبع لایجوزعن الکل لانعدام وصف القربة فی البعض ولوکانت البد نة بین اثنین نصفین تجوز فی الاصح لانه لماجازثلثة الا سباع جازنصف السبع تبعاله؛اھ ملخصا
📚👈🏻(ج 4ص429/428)
📚👈🏻اور در مختار میں ہے " لولاحدهم اقل من سبع لم یجزعن احدوتجزی عمادون سبعة بالاولی"اھ (ج6ص315)
📗👈🏻اورردالمحتار میں ہے
🍃واطلقه فشمل مااذااتفقت الانصباء قدرااولالکن بعد ان لاینقص عن السبع ولو اشترك سبعةفی خمس بقرات اواکثر صح لان لکل منهم فی بقرة سبعهالاثمانیةفی سبع بقرات اواکثرلان کل بقرةعلی ثمانیة اسهم فلکل منهم اقل من السبع "اھ (ج6ص316 کتاب الاضحیة)
📕👈🏻فتاوی مر کز تربیت افتاء جلددو صفحہ 323
👈🏻2الجوا ب
چند لو گ مل کر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا کسی بزرگ کے نام سے قربانی کریں اس کو سب حصےدار برابر شریک ہو کر کریں یا ایک شخص پورا کرے دونو ں صورتیں جائز ہیں اس میں شرعا کوقباحت نہیں لانه لم یثبت فی الشرع حرمة اوکراهة کذا لك وهوا تعالی اعلم
📗👈🏻ایساہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم ص 453/446پرہے
👈🏻3 الجواب
جس عورت کی طرف سے قربانی ہو خدائے تعالی علیم و وخبیر خوب جانتا ہے کہ وہ فلاں کی لڑکی فلاں کی بیوی ہ اس لئے صرف عورت کا نام لینا کافی ہے فلاں بنت فلاں یا فلاں زوجئہ فلاں کہنا ضروری نہیں اور اگر کہ دے تو کوئی حرج بھی نہیں
📚👈🏻حوالہ مذکورہ بالا ص448
🕋واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم🕋
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ؛
حضرت مولانا محمد اختر رضا قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی ناظم اعلی مدرسہ فیض العلوم خطیب وامام نیپالی سنی جامع مسجد سر کھیت (نیپال)
۲۲ ذی القعدہ ۱۴۴۰ھ بمطابق ۲۶جولائی بروز جمعہ
https://wa.me/+9779815598240
رابطہ؛📞 ـــــــــــــــــــــ⇧⇧
✅الجواب صحیح: -حضرت علامہ ومولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ اعالی والنورانی دالعلوم شہید اعظم دولہا یور ضلع گونڈہ یوپی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
🔹اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ؛🔹
رابطہ؛📞............⇩⇩
https://wa.me/+919918562794
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
المشتـــہر؛
منجانب؛منتظمین قــادری فقہــی گروپ؛محمد امتـــیاز عالــم تـارابـاڑی پورنیہ بہــار انڈیا؛
https://wa.me/+918922921676
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
تبصرے