نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جانکنی کے وقت شیطان ایمان پر کس طرح حملہ کرتا ہے

السلام عليکم ورحمتہﷲ وبرکاتہ
سوال جانکى کےوقت شىطان کس طرح ايمان چھيننےکى کوشس کرتاہے
براءےکرم مفصل جواب عنايت فرمايں کرم ہوگا
الساءيل ارشدى اشرفى



الجواب بعون الملک الوھاب          
سَیِّدُناکعب رَضِی  َاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :
 موت اُس خاردار تار کی مانند ہے،  جس کے کانٹے انسان کی ہررَگ میں پَیْوَسْت ہوں۔ 

اورسَیِّدُناعَمْرو بن عاص رَضِی َاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تو اس سے بھی واضح مَنْظر کَشی کرتے ہوئے فرمایا:
کہ جیسے کندھوں پر پہاڑ ہوں، آسمان و زمین آپس میں مل گئے ہوں اور میں ان کےدَرمیان اس حا ل میں ہوں کہ میرے پیٹ میں ایک کانٹے دار ٹہنی بھی ہو 

اورسَیِّدُناشدّادرَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ 
نے فرمایا کہ اگر مُردَہ قَبْر سےنکل کر دُنیا والوں کو موت کی تکلیف کی کیفیَّت بتا دے  توان کی زِنْدگی اَجِیْرَن ہوجاۓ اور ان کا سُکون غَارَتْ ہوجاۓ۔ ان تمام اَقْوَال سے مَعْلُوم  ہوا کہ جتنادرد اور تکلیف وَقْتِ نزع میں ہے دُنیا کی کسی اور چیز میں نہیں۔ پھر صِرْف یہی نہیں بلکہ ایک طرف موت کے یہ مَصائِب ہوں گے تو دوسری طرف شیطان لَعِیْن کے ہتھکنڈوں سے بچ کر دُنیاسے اِیْمان سَلامت لے جانےکا نَازُک مَرْحَلَہ دَرْپیش ہوگا 
۔آہ!آہ!آہ!موت کے وَقْت اِیمان چھیننے کیلئے شیطان طرح طرح کے ہتھ کَنْڈے اِسْتعمال کریگا، حتٰی کہ ماں باپ کا رُوپ دھار کر بھی اِیمان پرڈاکے ڈالے گا اور یَہُود ونَصاریٰ کو دُرُسْتْ ثابت کرنے کی مَذمُوم سَعْی)کوشش(کرے گا۔یقیناً وہ ایسا نازُک موقع ہو گا کہ بس جس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاخاص کرم و اِحْسان ہوگا ،وہی کامیاب و کامران ہو گا اور اسی کا اِیْمان سَلامت رہے گا ۔جب انسان نَزع کے عالَم میں ہوتا ہے دو شیطان اُس کے دائیں بائیں آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ دائیں طرف والا شیطان اُس کے والِد کا رُوپ دھار کر کہتا ہے:بیٹا !دیکھ میں تیرامہربان وشفیق باپ ہوں، میں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ تُو نصاریٰ کا مذہب اِختِیار کرکے مرنا کیوں کہ وُہی سب سے بہترین مذہب ہے۔ بائیں جانِب والا شیطان مرنے والے کی ماں کی صورت میں آتا ہے اور کہتا ہے: میرے لال! میں نے تجھے اپنے پیٹ میں رکھا، اپنا دودھ پلا یا اوراپنی گود میں پالا ہے۔ پیارے بیٹے !میں نصیحت کرتی ہوں، یہودی مذہب اِختیار کرکے مرنا کہ یِہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔

فکرِ معاش بَدْ بَلا ہَولِ مَعاد جاں گزا
لاکھوں بَلا میں پھنسنےکو رُوح بدن میں آئی کیوں)

حدائق بخشش شریف 

 ''ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت'' صفْحہ 495پر میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مولیٰنا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کا ارشاد ہے:

 علمائے کرام فر ماتے ہیں:''جس کوسَلْبِ ایمان کا خوف نہ ہو ، نَزع کے وَقْت اس کا اِیْمان سَلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے۔''


نزع کی سختیاں ص18

واللہ اعلم ازقلم محمد اسماعیل خان امجدی
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.