*ایسی باتوں کی نذر ماننا جن کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں*
*⁉سوال ...کچھ عورتیں یہ منت مانتی ہیں کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں ’دس بیویوں کی کہانی،یا سولہ سیدوں کی کہانی یا شہادت نامہ‘ پڑھونگی یا پڑھوائونگی ۔اسی طرح کچھ عورتیں یہ منت مانتی ہیں کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں محرم کے مہینے میں اپنے بچے کو امام حسین کا فقیر بنائوں گی یا تعزیہ بنوائوںگی وغیر ہ ۔کیا یہ سب منت ماننا درست ہے؟*
*اور ایسی کہانیاں سننا اور اس کی منت ماننا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ جو کوئی یہ کہانی پڑھے گا اسے 40 سال تک موت نہیں آئے گی کیسا ہے؟*
*💐سائل زبیر احمد سنت کبیر نگر*
☪☪☪☪☪☪☪☪☪
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*یہ سب غلط ہے۔ منت یا نذر ایک قسم کی عبادت ہے۔اسلئے ہمیں صرف ان چیزوں کی منت ماننی چاہئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہو۔جیسے اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں دو رکعت نماز پڑھوں گی یا دو روزے رکھوں گی یا صدقہ کروں گی وغیرہ۔اب اس نذر کو پورا کرنا ضروری ہوجاتا ہے ۔*
*ارشاد الہی ہے:ولیوفوانذورھم۔چاہئے کہ وہ اپنی نذروں کو پورا کریں۔) سورہ الحج ، آیت:۲۹*
*(منت یا نذر کیا ہے؟*
*نذر حقیقت میں ایک قسم کی عبادت ہے، نبیﷺ نے فرمایا نذر ماننے سے آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ملتا جو اس کی تقدیر میں نہیں ہے بلکہ نذر آدمی کو اسی امر کی طرف لے جاتی ہے جو اس کی تقدیر میں ہے اور اللہ تعالیٰ نذر کی وجہ سے بخیل کےہاتھ سے کچھ مال نکالتا ہے اللہ فرماتا ہے آدمی نذر کر کے مجھ کو وہ دیتا ہے جو نذر سے پہلے نہیں دیتا۔)*
*📙بخاری کتاب الایمان والنذور*
*(اس لئے نذر ہمیشہ نیک کام کی ہی مانگنی چا ہئے اوراس سے صرف اللہ رب العزت کا تقرب حاصل کرنے کی نیت ہونی چاہئے۔اگر کسی نے اللہ رب* *العزت کے علاوہ کے لئے نذر مانا یا کسی بیکار بات کی نذر مانی تو یہ درست نہیں اور ایسی نذر کو پورا کرنا بھی نہیں ہے چنانچہ صحیح بخاری میں ہے*
*حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ:حضور اکرم ﷺ خطبہ فر مارہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑا ہو ا دیکھا ، اس کے متعلق آپ نے دریافت کیا۔لوگوں نے عرض کیا کہ:یہ ابو اسرائیل ہے ،اس نے منت مانی ہے کہ کھڑا رہے گا،بیٹھے گا نہیں،اپنے اوپر سایہ نہ کرے گا،کلام نہ کرے گا اور روزہ رکھے گا۔حضور اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا کہ اسے حکم کردو کہ سایہ میں* *جائے،بیٹھے ،کلام کرےاور اپنے روزے کو پورا کرے۔ )*
*صحیح بخاری،کتاب الایمان والنذور،باب النذر فیما لایملک۔حدیث:۶۷۰۴*
*دیکھئے!اُس شخص نے چار *چیزوں کی منت مانی تھی۔)*
*۱(بیٹھے گا نہیں۔)*
*۲(اپنے اوپر سایہ نہیں کرے گا۔)*
*۳(کسی سے بات نہیں کرے گا۔)*
*۴( روزہ رکھے گا۔*
*اِن چار چیزوں میں سے صرف ایک ایسی چیز تھی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تھا یعنی روزہ۔اورباقی تین چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔تو اللہ کے رسول ﷺ نے اُن تین چیزوں کی منت پورا کرنے سے روک دیا جس کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کوئی تعلق نہ تھا اور صرف روزہ جو اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت تھی اُسے پورا کرنے کا حکم دیا ۔اس لئے سوال میں بیان کی گئی چیزوں کی منت ماننادرست نہیں ہے کیونکہ اِن کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔*
*یہ سب منت گھڑت قصہ کہانیاں ہیں، قرآن وحدیث میں انکی فضیلت کا کوئی ثبوت نہیں ۔ اسلئے ایسی من گھڑت باتوں پر اپنا وقت مت ضائع کریں۔*
*قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کریں اور انہی تعلیمات کو فروغ دینے والوں کی پیروی کریں۔*،
*دعا ہے اللہ تعالی ہر مسلمان کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔*
،واللہ اعلم باالصواب*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*رابطہ 9918562795*
*ـــــــــــــــــــــــ🌸🔮🌸ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب گدائے اولیاء کرام*
*محمــــــد اسراءالحق قادری کشن گنج*
*📞+918459370898*
*اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ ایڈ ہونے کے لیے رابطہ کریں*
👆👆👆👆👆👆👆👆
تبصرے