نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بیع سلم اور اس کی شرائط کیا ہیں

🕋🕋🕋🕋7⃣8⃣6⃣🕋🕋🕋🕋
*💚 بیع سلم کی تعریف اور شرائط 💚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
*❓۔سوال ۔کیافرماتے ہیں علماے دین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل میں کہ* 
*بیع سلم کی تعریف اور اس کے شرائط کیاہیں ؟*
*بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرماٸیں ۔*
*🌷ساٸل غلام حیدر سنبھلی۔*
🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ برکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*

 *ثمن کا فوراً دینا ضروری ہو تو بیع سَلم ہے، لہٰذا سَلم میں   جس کو خریدا جاتا ہے وہ بائع کے ذمہ دین ہے اور مشتری ثمن کو فی الحال ادا کرتا ہے۔ جو روپیہ دیتا ہے اُس کو رب السَّلم اور مسلِم کہتے ہیں  اور دوسرے کو مسلَم الیہ اور مبیع کو مسلَم فیہ اور ثمن کو راس المال۔ بیع مطلق کے جوارکان ہیں  وہ اس کے بھی ہیں  اس کے لیے بھی ایجاب وقبول ضروری ہے ایک کہے میں   نے تجھ سے سَلم کیا دوسرا کہے میں   نے قبول کیا۔ ا ور بیع کا لفظ بولنے سے بھی سَلم کا اِنعقاد ہوتا ہے۔(فتح القدیر، درمختار)*
*(بیع سلم کے شرائط)*
*بیع سَلم کے لیے چند شرطیں  ہیں  جن کا لحاظ ضروری ہے۔*
 *1عقد میں   شرط خیار نہ ہونہ دونوں  کے لیے نہ ایک کے لیے۔*
*2راس المال کی  جنس کا بیان کہ روپیہ ہے یا اشرفی یا نوٹ یا پیسہ۔*
 *3اُس کی  نوع کا بیان یعنی مثلاً اگر وہاں  مختلف قسم کے روپے اشرفیاں  رائج ہوں  تو بیان کرنا ہوگا کہ کس قسم کے روپے یا اشرفیاں  ہیں  ۔*
 *4بیان وصف اگر کھرے کھوٹے کئی طرح کے سکے ہوں  تو اسے بھی بیان کرنا ہوگا۔*
*5راس المال کی  مقدار کا بیان یعنی اگر عقد کا تعلق اُس کی  مقدار کے ساتھ ہو تو مقدار کا بیان کرنا ضروری ہوگافقط اشارہ کرکے بتانا کافی نہیں  مثلاً تھیلی میں   روپے ہیں  تویہ کہنا کافی نہیں  کہ ان روپوں  کے بدلے میں   سَلم کرتاہوں  بتانا بھی پڑے گا کہ یہ سوہیں  اور اگر عقدکا تعلق اُس کی  مقدار سے نہ ہو مثلاً راس المال کپڑے کا تھان یا عددی متفاوت ہو تو اس کی  گنتی بتانے کی  ضرورت نہیں  اشارہ کرکے معین کردینا کافی ہے۔ اگر مسلم فیہ دو مختلف چیزیں  ہوں  اور راس المال مکی ل یا موزوں  ہو تو ہرایک کے مقابل میں   ثمن کا حصہ مقرر کرکے ظاہر کرنا ہوگا اورمکی ل وموزوں  نہ ہو تو تفصیل کی  حاجت نہیں  اوراگر راس المال دومختلف چیزیں  ہوں  مثلاً کچھ روپے ہیں  اورکچھ اشرفیاں  تو ان دونوں  کی  مقدار بیان کرنی ضرورہے ایک کی  بیان کردی اورایک کی  نہیں  تو دونوں  میں   سلم صحیح نہیں  ۔*
 *6اُسی مجلس عقد میں   راس المال پر مسلم الیہ کا قبضہ ہوجائے۔*
 *ابتدائے مجلس میں   قبضہ ہویا آخر مجلس میں   دونوں  جائز ہیں  اور اگر دونوں  اس مجلس سے ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں  سے چل دیے، مگر ایک دوسرے سے جدا نہ ہوا اور دو ایک میل چلنے کے بعد قبضہ ہوا، یہ بھی جائز ہے۔(عالمگیری)*
  *اُسی مجلس میں   دونوں  سوگئے یا ایک سویا اگر بیٹھا ہواسویا تو جدائی نہیں  ہوئی قبضہ درست ہے، لیٹ کر سویا تو جدائی ہوگئی۔(خانیہ)*
  *عقدکیا اور پاس میں   روپیہ نہ تھا اندر مکان میں   گیا کہ روپیہ لائے اگر مسلم الیہ کے سامنے ہے تو سلم باقی ہے اور آڑ ہوگئی تو سلم باطل۔ پانی میں   گُھسا اور غوطہ لگایا اگر پانی میلا ہے غوطہ لگانے کے بعد نظر نہیں  آتا سلم باطل ہوگئی اور صاف پانی ہو کہ غوطہ لگانے پر بھی نظر آتاہو تو سلم باقی ہے۔* *(عالمگیری)*
  *مسلم الیہ راس المال پر قبضہ کرنے سے انکار کرتا ہے یعنی رب السلم نے اُسے روپیہ دیا مگر وہ نہیں  لیتا حاکم اُس کو قبضہ کرنے پر مجبور کرے گا۔ (عالمگیری)*
  *دوسوروپے کاسَلم کیا ایک سواُسی مجلس میں   دیدیے اور ایک سوکے متعلق کہا کہ مسلم الیہ کے ذمہ میرا باقی ہے وہ اس میں   محسوب کرلے تو ایک سو جو دیے ہیں  ان کا درست ہے اور ایک سو کا فاسد۔  (درر، غرر) اور وہ دین کا روپیہ بھی اسی مجلس میں   اداکردیا تو پورے میں   سلم صحیح ہے اور اگر کل ایک جنس نہ ہو بلکہ جوادا کیا ہے روپیہ ہے اور دَین جو اُس کے ذمہ باقی ہے اشرفی ہے یا اس کا عکس ہو یا وہ دَین دوسرے کے ذمہ ہے مثلاً یہ کہاکہ اس روپیہ کے اور اُن سوروپوں  کے بدلے میں   جو فلاں  کے ذمہ میرے باقی ہیں  سلم کیا ان دونوں  صورتوں  میں   پورا سَلم فاسد ہے اور مجلس میں   اُس نے ادا بھی کردیے جب بھی سلم صحیح نہیں ۔ (درمختار*
*7مسلم فیہ کی  جنس بیان کرنا مثلاً گیہوں  یا جَو۔*
*8اُس کی  نوع کا بیان مثلاً فلاں  قسم کے گیہوں  ۔*
*9بیان وصف جید، ردی، اوسط درجہ۔* 
*10ماپ یاتول یا عدد یا گزوں  سے اُس کی  مقدار کا بیان کردینا۔*
 *ناپ میں   پیمانہ یا گز اور تول میں   سیر وغیرہ باٹ ایسے ہوں  جس کی  مقدار عام طور پر لوگ جانتے ہوں  وہ لوگوں  کے ہاتھ سے مفقود نہ ہوسکے تاکہ آئندہ کوئی نزاع نہ ہوسکے اوراگرکوئی برتن گھڑایا ہانڈی مقرر کردیا کہ اس سے ناپ کردیا جائے گا اورمعلوم نہیں  کہ اس برتن میں   کتنا آتا ہے یہ درست نہیں  ۔ یوہیں  کسی پتھرکو معین کردیا کہ اس سے
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.