*💎مسجد میں اذان کیوں نہی دی جاتی ہے💎*
*سوال ...السلام علیکم بعد سلام عرض ہے کہ*
*مسجد میں آذان کیوں نہیں دی جا سکتی ہے جبکہ اذان اتنا افضل ہے*
*قرآن مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے تسبیح پڑھی جاسکتی ہے اور دیگر اذکار کی جا سکتی ہے تو آذان کیوں نہیں*
*💎سائل توصیف رضا💎*
*دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہونے تک مسجد سے باہر بلند مقام پر اذان کیوں دی جاتی تھی؟*
*اس کو سمجھنے کے لئے اذان دینے کا مقصد سمجھنا ضروری ہے۔*
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًاط ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَoاور جب تم نماز کے لیے )لوگوں کو بصورتِ اذان( پکارتے ہو تو* *یہ )لوگ( اسے ہنسی اور کھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو )بالکل( عقل ہی نہیں رکھتے*
*📚المائدة، 5: 58*
*دوسرے مقام پر فرمایا:*
*یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ* *لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اﷲِ وَذَرُوا الْبَیْعَط ذٰلِکُمْ* *خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo*
*اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن )جمعہ کی( نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے* *ذکر )یعنی خطبہ و نماز( کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت )یعنی کاروبار( چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو*
*الجمعة، 62: 9*
*دونوں آیات مبارکہ میں اذان کا مقصد اہل ایمان کو نماز کی طرف بلانا ہے اور حدیث مبارکہ میں بھی یہی مقصد بیان کیا گیا ہے کہ طویل مشاورت کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے جمع کرنے کا جو طریقہ اپنایا گیا وہ اذان دینا تھا جیسا کہ حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے*
*:کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَةَ یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَاةَ لَیْسَ یُنَادَی لَهَا فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِي ذٰلِکَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ* *اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا یُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ*
*.مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تو نماز کے لیے اندازے سے جمع ہو جایا کرتے اور اس کے* *لیے اعلان نہیں ہوتا تھا۔ ایک روز انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی۔ بعض نے کہا کہ ہم نصاریٰ کی طرح ناقوس بجایا کریں اور بعض نے کہا یہودیوں کی طرح سینگھ بنا لو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا ہم ایک آدمی کو مقرر نہ کر دیں جو نماز کا اعلان کیا کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! کھڑے ہو کر نماز کا اعلان کرو*۔
*📚بخاري، الصحیح، 1: 219، رقم: 579، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة2.مسلم، الصحیح، 1: 285، رقم: 377، بیروت،* *لبنان: دار احیاء التراث العربياذ*
*ان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کا ایک احسن انداز ہے۔ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد سےپہلے مسجد سے باہر مینارے پر اذان دینے سے اس بلاوے کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا مقصود تھا جو آج لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پوراہو رہا ہے۔ جن فقہاء کرام نے صدیوں پہلے مسجد کے اندر اذان دینے کو مکروہ قرار دیا ہے وہ اسی بناء پر کہا ہے کہ مسجد کے اندر اذان دینے سے آواز کم لوگوں تک پہنچے گی جس سے اذان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔*
*💎واللہ اعلم💎*
*💎✍ازقلم حضرت علامہ ومولانامحمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*💎
*💎اعلی حضــرت زندہ بادگروپ اہل علم کےلئے*💎
*☎9918562794*
☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄
*💎المشتہـــر محمد ایــو رضـا خان*💎
*سوال ...السلام علیکم بعد سلام عرض ہے کہ*
*مسجد میں آذان کیوں نہیں دی جا سکتی ہے جبکہ اذان اتنا افضل ہے*
*قرآن مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے تسبیح پڑھی جاسکتی ہے اور دیگر اذکار کی جا سکتی ہے تو آذان کیوں نہیں*
*💎سائل توصیف رضا💎*
*دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہونے تک مسجد سے باہر بلند مقام پر اذان کیوں دی جاتی تھی؟*
*اس کو سمجھنے کے لئے اذان دینے کا مقصد سمجھنا ضروری ہے۔*
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًاط ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَoاور جب تم نماز کے لیے )لوگوں کو بصورتِ اذان( پکارتے ہو تو* *یہ )لوگ( اسے ہنسی اور کھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو )بالکل( عقل ہی نہیں رکھتے*
*📚المائدة، 5: 58*
*دوسرے مقام پر فرمایا:*
*یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ* *لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اﷲِ وَذَرُوا الْبَیْعَط ذٰلِکُمْ* *خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo*
*اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن )جمعہ کی( نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے* *ذکر )یعنی خطبہ و نماز( کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت )یعنی کاروبار( چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو*
*الجمعة، 62: 9*
*دونوں آیات مبارکہ میں اذان کا مقصد اہل ایمان کو نماز کی طرف بلانا ہے اور حدیث مبارکہ میں بھی یہی مقصد بیان کیا گیا ہے کہ طویل مشاورت کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے جمع کرنے کا جو طریقہ اپنایا گیا وہ اذان دینا تھا جیسا کہ حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے*
*:کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَةَ یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَاةَ لَیْسَ یُنَادَی لَهَا فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِي ذٰلِکَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ* *اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا یُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ*
*.مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تو نماز کے لیے اندازے سے جمع ہو جایا کرتے اور اس کے* *لیے اعلان نہیں ہوتا تھا۔ ایک روز انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی۔ بعض نے کہا کہ ہم نصاریٰ کی طرح ناقوس بجایا کریں اور بعض نے کہا یہودیوں کی طرح سینگھ بنا لو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا ہم ایک آدمی کو مقرر نہ کر دیں جو نماز کا اعلان کیا کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! کھڑے ہو کر نماز کا اعلان کرو*۔
*📚بخاري، الصحیح، 1: 219، رقم: 579، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة2.مسلم، الصحیح، 1: 285، رقم: 377، بیروت،* *لبنان: دار احیاء التراث العربياذ*
*ان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کا ایک احسن انداز ہے۔ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد سےپہلے مسجد سے باہر مینارے پر اذان دینے سے اس بلاوے کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا مقصود تھا جو آج لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پوراہو رہا ہے۔ جن فقہاء کرام نے صدیوں پہلے مسجد کے اندر اذان دینے کو مکروہ قرار دیا ہے وہ اسی بناء پر کہا ہے کہ مسجد کے اندر اذان دینے سے آواز کم لوگوں تک پہنچے گی جس سے اذان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔*
*💎واللہ اعلم💎*
*💎✍ازقلم حضرت علامہ ومولانامحمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*💎
*💎اعلی حضــرت زندہ بادگروپ اہل علم کےلئے*💎
*☎9918562794*
☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄
*💎المشتہـــر محمد ایــو رضـا خان*💎
تبصرے