*🌹حضرت امام حسین کی شہادت کیسے ہوئی*🌹
*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبر وبراکاتہ*
*حضرت ایک سوال کا جواب عنایت فرمانے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کیسے ہوئی تھی جواب عنایت فرمائیں آپ کی بہت مہربانی ہوگی*
*🌹سائل عبد الصمد*🌹
*ـــــــــــــــــ💠🌹💠ــــــــــــــــــ*
*الجـــــــــــوابـــــــــــــ*👇
*یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے خود ہی اپنے قافلہ کے لوگوں کو یہ اجازت دے دی تھی کہ جسے واپس جانا ہے وہ چلا جائے۔ یہ سن کر صرف دو حضرات چھوڑ کر چلے گئے۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ حربن یزید نے ایک لشکر جرار کے ساتھ آپ کو محصور کر لیا تاکہ والی عراق عبداللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا جائے۔ اسی دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا ۔ آپ نے نماز ادافرمائی بعد نماز حضرت اما حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ کے ذریعہ حر اور اسکے* *ساتھیوں )فوج( کے سامنےپوری بات رکھی۔ خطوط اور قاصدوں کا حوالہ دیا۔ حر حیران ضرور ہوا مگر اس نے خطوط کے متعلق لا علمی ظاہر کی اور اس نے آپ کے قافلہ کو روک لیا۔ یہاں بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ دیا جو تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ )*
*🏷( اے لوگو ! رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی ایسے حاکم کو دیکھے کہ ظلم کرتا ہے ۔ خداکے حدود کو توڑتا ہے۔ سنتِ نبوی کی مخالفت کرتاہے اور سر کشی سے حکومت کرتا ہے اور اسے دیکھنے پر بھی کوئی مخالفت نہیں کرتا ہے اور نہ اسے روکتا ہے تو ایسے آدمی کا اچھا ٹھکانہ نہیں ہے۔ دیکھو ! یہ لوگ شیطان کے پیرو کار ہیں ۔ رحمٰن سے بے سروکار ہیں حدود الٰہی معطل ہے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرایاجارہا ہے۔ میں ان کی سر کشی کو حق اور عدل سےبدل دینا چاہتا ہوں اور اس کےلئے میں سب سے زیادہ حقداربھی ہوں ۔ اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو تمہارے لئے ہدایت ہے ورنہ عہد شکنی عظیم گناہ ہے۔ میں حسین ہوں ۔ ابن علی، ابن فاطمہ، اور رسول اللہ ﷺ کا جگر گوشہ مجھے اپنا قائد بنائو مجھ سے منھہ نہ موڑو، میرا راستہ نہ چھوڑو، یہ صراطِ مستقیم کا راستہ ہے اس حقیقت افروز خطبہ کا لوگوں پر کافی اثر ہوا لیکن لالچ اور خوف کی و جہ کر چپ رہے۔ ۹محرم الحرام کی رات کا وقت تھا آپ رات بھر عبادت میں مشغول رہے صبح دس محرم کی تاریخ آگئی دونوں اطراف میں صف آرائی ہو رہی تھی ۔ فجر نماز کے بعد عمرو بن سعد اپنی فوج لے کر نکلا، ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے احباب کے ساتھ تیار تھے۔ آپ کے ساتھ 72 نفوس قدسیہ جس میں بچے بوڑھے خواتین تھی شامل تھیں دوسری جانب 90 ہزار کا لشکر جرار تمام حرب و ہتھیار سےلیس تھے۔ آپ نے جس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ جس طرف رخ کرتے یزیدی فوج بھیڑیوں کی مانند بھاگ کھڑی ہوتی۔ معاملہ بہت طویل ہوگیا۔ معصوم اورشیر خوار بچے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے لگے، خیمے جلا دیئے گئے، بھوکے پیاسے نواسہ رسولﷺ میدان کربلا میں صبر کا پہاڑ بن کر جمے رہے، یزیدی دور سے تیر برساتے رہے اور پھر ایک مرحلہ آیا کہ بدبخت شمر ذی الجوشن جب قریب آیا تو آپ پہچان گئے کہ یہی سفید داغ والا وہی بدبخت ہے جس کے بارے میں سرکار دوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ آپنے اہل بیت کے خون سے اس کے منہ کو رنگتادیکھتا ہوں ۔اور وہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی شمرلعین کے لئے بدبختی ہمیشہ کے لئے مقدر بن گئی ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ سجدہ میں گئے اورشمر کی تلوار نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی گردن مبارک کو تن سے جدا کر دیا وہ یومِ عاشورہ جمعہ کا دن تھا ماہِ محرم الحرام 61 ھ میں یہ واقعہ پیش آ ٓٓیا اس وقت امام حسین کی عمر 55 سال کے قریب تھی۔*
*📚خطبات محرم فقیہ ملت مفتی جلال الدین علیہ الرحمہ*
*واللہ اعلم باالصواب*
*ـــــــــــــــــ💠🌹💠ــــــــــــــــــ*
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی فیضان غوث و خواجہ گروپ ایڈکے لئے*👇
*📲+919918562794*
*+917800878771*
*ـــــــــــــــــ💠🌹💠ـــــــــــــــــــ*
*🖥المـرتب گدائےاولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*ـــــــــــــــــ💠🌹💠ــــــــــــــــــ*
تبصرے