*❤کیاکوئی شخص اپنے والدین کے قبر کا بو سہ لے سکتا ہے*❤
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*اگر کسی کے والدین کا انتقال ہو جائے تو کیا وہ اپنے والدین کے قبر کا بوسہ لے سکتا ہے اگر لے سکتا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے*
*برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*
*اگر حوالہ کے ساتھ مل جائے تو اور بہتر*
*🍥سائل احقر محمد شہباز*🍥
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*الجـــــــــوابــــــــــــــــ*
*مزار شریف کو بوسہ دینا اور طواف کرناامام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ ہے۔* *مزار شریف کو بوسہ نہیں دینا چاہئے۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں* *ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیںہوسکتی۔* *ﷲ تعالیٰ کا فرمان ’’ان الحکم الا اﷲ‘‘ ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں* *حرج نہیں۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز )بچا( کیا جائے)*
*📚(فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی*)
*🍥واللہ تعــالی واعلم*🍥
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*📞+917800878771*
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*اگر کسی کے والدین کا انتقال ہو جائے تو کیا وہ اپنے والدین کے قبر کا بوسہ لے سکتا ہے اگر لے سکتا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے*
*برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*
*اگر حوالہ کے ساتھ مل جائے تو اور بہتر*
*🍥سائل احقر محمد شہباز*🍥
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*الجـــــــــوابــــــــــــــــ*
*مزار شریف کو بوسہ دینا اور طواف کرناامام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ ہے۔* *مزار شریف کو بوسہ نہیں دینا چاہئے۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں* *ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیںہوسکتی۔* *ﷲ تعالیٰ کا فرمان ’’ان الحکم الا اﷲ‘‘ ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں* *حرج نہیں۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز )بچا( کیا جائے)*
*📚(فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی*)
*🍥واللہ تعــالی واعلم*🍥
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*🍥✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ ایڈکے لئے*🍥👇👇
*📞+919918562794*
*ــــــــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ــــــــــــــــــــــ*
*🍥🖥المـرتـــب محمــــــد ایــوب رضـا خان*🍥👇👇
*📞+917800878771*
تبصرے