*🖌بکری سے بدفعلی کرنے والے پر کیاحکم ہے؟🖌*
الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں شمشاد رضوی علماء کرام کی بارگاہ میں عرض کرنا چاہتا ہے کہ ایک شخص بکری کے ساتھ غلط کام کیا تو اس شخص کے لئےشریعت میں کیا حکم ہے اور اگر بکری کے دبر میں انزال کیا ہے تو کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
ا________(🖊)_________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
نابالغ کو تنبیہ کریں بالغ پر تعزیر ہے جس کااختیار حاکم کو ہے، وہ جانور ذبح کرکے فنا کردیا جائے گوشت کھال جلائیں، پالانہ جائے
درمختارمیں ہے
لایحدبوطی بھیمۃ بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیۃ ومیتۃ
حیوان سے بدفعلی پر حدنہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کرکے جلادیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہے
*(📕درمختار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۰)*
*(📕ردالمحتار میں ہے)*
*ھذا اذاکانت ممالایؤکل فان کانت تؤکل جازاکلھا عندہ وقالالاتحرق ایضا*
یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتا، اور اگراس کو کھایا جاتا ہوتو کھانا جائزہے، امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلابھی دیا جائے
*(📗ردالمحتار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۵)*
*(📕فتاوی رضویہ جلد13کتاب الطلاق)*
خلیفہ اعلی حضرت صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں
جانور کے ساتھ برا کام کرنے والے پر تعزیر ہے کہ بادشاہ اسلام جو مناسب سمجھے سزا دے
اور آگے فرماتے ہیں کہ
جو جانور سے وطی کرے اسے مار ڈالو اور جانورکو قتل کر ڈالو
*(📙فتاوی امجدیہ جلد دوم ص 325)*
اور مفتی اعظم ہالینڈ مفتی عبد الواجد قادری فرماتے ہیں کہ
جہاں اسلامی امارت و قاضی شرع نہیں اور کفار و مشرکین کے غلبہ کی وجہ سے حدود و تعزیرات کو بروجہ شرعی جاری نہ کر سکے تو وہاں کے مجرمین پر توبہ و استغفار لازم ہے
ہندوستان میں فی الحال غلبہ مشرکین و کفار کی وجہ سے حدود و تعزیرات کا نفاذ متعذر ہے تو وہاں کے مجرمین پر وجوب توبہ عاٸد ہوگی
*(📗فتاوی یورپ ص 495)*
صورت مسٸولہ میں زید پر توبہ و استغفار لازم ہے جب تک صدق دل تے توبہ نہ کرے اسے مسلمان اپنی سوسائٹی سے باٸکاٹ کريں نیز توبہ کے بعد بھی مذکورہ زید سے وہاں کے مسلمان ایسے برتاٶ کريں اور ایسی سماجی سزا ديں کہ جو دوسروں کیلٸے عبرت آموز ہو
اور بکری کی مناسب قیمت لگا کر زید سے قیمت وصول کی جاٸے
لیکن خیال رہے کہ
توبہ و استغفار سے یہ مطلب نہیں کہ وہ آخرت کی سزا سے برئی الذمہ ہو گیا بلکہ توبہ کے سبب وہ مسلمان سوسائٹی میں رہنے کے قابل ہو گیا اور توبہ کے ذریعہ گناہ کے قریب نہ جانے کا عہد کر لیا
*واللہ اعلم* ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازارگونڈہ یوپی الھند؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں شمشاد رضوی علماء کرام کی بارگاہ میں عرض کرنا چاہتا ہے کہ ایک شخص بکری کے ساتھ غلط کام کیا تو اس شخص کے لئےشریعت میں کیا حکم ہے اور اگر بکری کے دبر میں انزال کیا ہے تو کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
ا________(🖊)_________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
نابالغ کو تنبیہ کریں بالغ پر تعزیر ہے جس کااختیار حاکم کو ہے، وہ جانور ذبح کرکے فنا کردیا جائے گوشت کھال جلائیں، پالانہ جائے
درمختارمیں ہے
لایحدبوطی بھیمۃ بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیۃ ومیتۃ
حیوان سے بدفعلی پر حدنہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کرکے جلادیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہے
*(📕درمختار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۰)*
*(📕ردالمحتار میں ہے)*
*ھذا اذاکانت ممالایؤکل فان کانت تؤکل جازاکلھا عندہ وقالالاتحرق ایضا*
یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتا، اور اگراس کو کھایا جاتا ہوتو کھانا جائزہے، امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلابھی دیا جائے
*(📗ردالمحتار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۵)*
*(📕فتاوی رضویہ جلد13کتاب الطلاق)*
خلیفہ اعلی حضرت صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں
جانور کے ساتھ برا کام کرنے والے پر تعزیر ہے کہ بادشاہ اسلام جو مناسب سمجھے سزا دے
اور آگے فرماتے ہیں کہ
جو جانور سے وطی کرے اسے مار ڈالو اور جانورکو قتل کر ڈالو
*(📙فتاوی امجدیہ جلد دوم ص 325)*
اور مفتی اعظم ہالینڈ مفتی عبد الواجد قادری فرماتے ہیں کہ
جہاں اسلامی امارت و قاضی شرع نہیں اور کفار و مشرکین کے غلبہ کی وجہ سے حدود و تعزیرات کو بروجہ شرعی جاری نہ کر سکے تو وہاں کے مجرمین پر توبہ و استغفار لازم ہے
ہندوستان میں فی الحال غلبہ مشرکین و کفار کی وجہ سے حدود و تعزیرات کا نفاذ متعذر ہے تو وہاں کے مجرمین پر وجوب توبہ عاٸد ہوگی
*(📗فتاوی یورپ ص 495)*
صورت مسٸولہ میں زید پر توبہ و استغفار لازم ہے جب تک صدق دل تے توبہ نہ کرے اسے مسلمان اپنی سوسائٹی سے باٸکاٹ کريں نیز توبہ کے بعد بھی مذکورہ زید سے وہاں کے مسلمان ایسے برتاٶ کريں اور ایسی سماجی سزا ديں کہ جو دوسروں کیلٸے عبرت آموز ہو
اور بکری کی مناسب قیمت لگا کر زید سے قیمت وصول کی جاٸے
لیکن خیال رہے کہ
توبہ و استغفار سے یہ مطلب نہیں کہ وہ آخرت کی سزا سے برئی الذمہ ہو گیا بلکہ توبہ کے سبب وہ مسلمان سوسائٹی میں رہنے کے قابل ہو گیا اور توبہ کے ذریعہ گناہ کے قریب نہ جانے کا عہد کر لیا
*واللہ اعلم* ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازارگونڈہ یوپی الھند؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
تبصرے