نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نابالغ بچوں کے صف کا حکم


*🖌نابالغ بچوں کے صف کاحکم🖌*

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسلے کے بارے میں کہ مسجد میں  ٤ سال تا ٨. ١٠ سال کے بچے نماز پڑھنے آتے ہیں دوران نماز با جماعت یہ بچے ادھر ادھر دیکھتے ہیں اور کبھی کبھا آپس میں بات چیت وشور شراباں کرتے ہیں جس سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے اگر ان بچوں کو دو تین صف پیچھے رکھا جائے تو کیا یہ گناہ ہوگا
قران و حدیث کی روشنی میں جواب دیں
مستفسر   محمد حضیر الدین مصباحی۔  استاذ   دارالعلوم اہلسنت انوار مصطفی شاہ پورہ گوگاواں کھرگون ایم پی؛
ا_______(🖌)____________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
جماعت کے اندر بالغوں کی صف میں شامل ہونے والے بچے دو قسم کے ہیں اور ہر ایک کا الگ حکم ہے
1 بالکل نا سمجھ جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتا
ایسا بچہ شرعی طور پر نماز کا اہل ہی نہیں ہے، اگر وہ صف میں کھڑا ہو تو صف بھی قطع ہوگی اور قطع صف ناجائز وگناہ ہے لہذا اگر ایسا نا سمجھ بچہ بالغوں کی صف میں کھڑا ہو چاہے نماز شروع کر چکا ہو یا نہیں بہر صورت اس کو شفقت کے ساتھ یا تو پچھلی صف میں کردیا جائے یا جو نمازی آتا جائے وہ اس کو سائیڈ میں کرکے اس کی جگہ خود کھڑا ہوتا جائے
2 سمجھ دار بچہ جو نماز سے واقف ہو
یہ بچہ شرعی طور پر نماز کا اہل ہے اور اس کی نماز درست ہے، یہ اگر بالغوں کی صف میں کھڑا ہو کر نماز شروع کر دے تو اسے صف میں ہی کھڑا رہنے دیا جائے وہاں سے ہٹاکر اس کو سائیڈ میں یا پیچھے نہ کیا جائےبلکہ نماز شروع کرنے سے پہلے ایسا سمجھدار بچہ ایک ہی ہےتو اسے بالغوں کی صف میں کھڑے ہونے کی واضح طور پر اجازت ہے اور اس کے کھڑا ہونے سے صف بھی قطع نہیں ہوتی
البتہ اگر ایسے ہی سمجھ دار بچے ایک سے زائد ہوں تو ان کو نماز شروع کرنے سے پہلے ہی شفقت ومحبت سے پیچھے کردیا جائے کہ بچوں کی صف سب سے آخر میں بنانے کا حکم ہے
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان سے سوال ہوا کہ سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کا جو نماز خوب جانتا ہے اگر تنہا ہوتو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دور کھڑا ہو یا صف میں بھی کھڑا ہو سکتا ہے

آپ علیہ الرحمۃ والرضوان نے ارشاد فرمایا
صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑ کر کھڑا کرنا تو منع ہے

*فان الصلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل صحیحۃ قطعا وقد امر النبی ﷺ بسد الفرج والتراص فی الفصوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید؛*
کیونکہ وہ بچہ جو صاحب شعور ہو اور نماز کو جانتا ہو اس کی نماز بالیقین صحیح ہے اور نبی کریم ﷺ نے صف کے رخنہ کو پر کرنے اور اس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے اور خلاف سے سخت منع فرمایا ہے
اور یہ بھی کوئی ضروری امر نہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کو کھڑا ہو، علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں
*(📗درمختار میں ہے)*
*لو واحدا دخل فی الصف؛*
یعنی اگر بچہ اکیلا ہوتو صف میں داخل ہوجائے
*(📕مراقی الفلاح میں ہے)* 

*ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال؛*

 اگر بچے زیادہ نہ ہوں تو بچہ مردوں کے درمیان کھڑا ہوجائے
بعض بے علم جو یہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نمازہے اب یہ آۓ تو اسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کردیتے ہیں اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے
*(📕فتاوی رضویہ شریف، جلد 3باب الجماعت،صفحہ 318)*
حضورصدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں
مرد اور بچے اور خنثی اور عورتیں جمع ہوں تو پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی پھر خنثی کی پھر عورتوں کی اور بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہوجائے

*(📙بہار شریعت، حصہ اول، حصہ 3جماعت کا بیان صفحہ 586)*
*(📙فتاوی مصطفویہ میں ہے)*
بالکل نا سمجھ بچے اگر بیچ صف میں ہوں گے تو یہ برا ہوگا جیسے کچھ کچھ فاصلہ سے آدمی کھڑے ہوں کہ یہ برا اور گناہ بھی ہے
*حدیث شریف میں فرمایا*
*تراصواالصفوف وسدواالخلل؛*
یعنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو اور صفوں کے خلا کو بند کردو  اور چھوٹے بچوں کے کھڑے ہونے میں یہ بات سد خلل گویا حاصل نہ ہوگی، اس لئے کہ اگر کوئی بچہ کھڑا ہو جائے تو یا اسے پیچھے کردیا جائے یا جو آتا جائے اسے ایک طرف ہٹاکر اس کی جگہ خود کھڑا ہوتا جائے مگر جب کہ وہ بچہ نماز سے واقف اور ایسا ہو گویا مرد قلوب البلوغ اسے نہ ہٹایا جائے کہ جو ادا بلوغ کے قریب ہے گویا وہ بالغ ہے اور اس بارے میں وہ بالغ مرتبہ رجال ہوجانا چاہئے

*(📙فتاوی مصطفویہ کتاب الصلاۃ صفحہ 216)*
*(📕درمختار میں ہے)*
 *یصف الرجال ثم الصبیان ظاھرہ تعددھم فلو واحدا دخل الصف؛*
مرد صف بنائیں پھر بچے، اس کا ظاہر واضح کر رہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب بچے متعدد ہوں، اگر اکیلا ہو تو اسے صف کے اندر کھڑا کر لیا جائے؛
*(📙درمختار)*
   *باب الامامۃ؛*
*(📙فتح القدیر میں ہے)*
 *اما محاذاۃ الامرد فصرح الکل بعدم افسادہ الا من شذ ولامتمسک لہ فی الروایۃ ولافی الدرایۃ ۔ ملخصاً

)*
امرد کا محاذی ہونا فسادِ نماز کاسبب نہیں، اس مسئلہ پر تمام فقہانے تصریح کی ہے البتہ شاذ و نادر طور پر کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے ان کے لئے نہ روایۃً کوئی دلیل ہے نہ *(📗درایۃً ملخصاً  فتح القدیر        باب الامامۃ )*
*(📚فتاوی رضویہ مترجم ج 7)*
آٹھ نو برس کا لڑکا جبکہ تنہا ہو توصف میں کھڑا ہو سکتا ہے  اور کھڑا ہونے کے بعد اسے ہٹانا اور دوسرے کا اس کی جگہ کھڑا ہونا گناہ ہے
*(📘انوار نماز بحوالہ فتاوی رضویہ شریف جلد 7صفحہ 51)*
*واللہ اعلم بالصواب؛*
 ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛*
*🖊فیضان حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین فیضان حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ  گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.