نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بلا عذر شرعی جماعت کو چھوڑنے والا مردودالشہادۃ ہے

*🌹بلاعذر شرعی جماعت کو چھوڑ نے والا فاسق مردودالشہادۃ ہے🌹*

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

علماۓ کرام مفتیان عظام کی بارگاہ میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ یہ مسٸلہ پیش خدمت ہے کہ

اذان سن کر اگر بلا عذر گھر پر ہی نماز ادا کی جاۓ تو نماز کا کیا حکم ہے

براۓ مہربانی جواب عنایت فرماۓ


*💎ساٸل > محمد ثاقب💎*

📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
*وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ*
*✍الجواب بعون الملک الوھاب*

*بلاعذر شرعی گھر میں نماز پڑھنے اور جماعت کو چھوڑنے والا فاسق مردودالشھادة ہے*

*جماعت چھوڑنے کے عذر یہ ہیں*

*مریض جسے مسجد تک جانے میں مشقت ہو اپاہج جس کا پاوں کٹ گیا ہو جس پر فالج گرا ہو اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہو اندھا اگر چہ اندھے کے لئے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہونچادے سخت بارش اور سخت کیچڑ کا حائل ہونا سخت سردی سخت تاریکی آندھی مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ قرض خواہ کا خوف اور یہ تنگ دست ہے ظالم کا خوف پاخانہ پیشاب یاریاح کی سخت حاجت ہے کھاناحاضرہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو مریض کی تیماداری کہ جماعت کے لئے جانے سے اس کو تکلیف ہو گی اور گھبراے گا*
*ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم ص131میں ہے*

*لھذا اگر ان عذروں میں سے کوئی عذر نہ پایا جاے تو فرض واجب اورتحیةالمسجد و پنج وقتی سنتیں سب مسجد ہی میں پڑھیں ان کےعلاوہ تہجد اور تحیة الوضو وغیرہ سارے نوافل گھر پر پڑھیں تو بہتر ہے*

*📚فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص149*

*اور حدیث شریف میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اذان سنی اور انے سے کوئی عذر مانع نہیں* *اس کی وہ نماز مقبول نہیں لوگوں نے عرض کیا عذر کیا ہے فرمایا مرض*
*رواہ ابوداودوابن حبان فی صحیحة وابن ماجہ عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما*
*اور ایک روایت میں انہیں سے ہے جو اذان سنے اور بلا عذر حاضر نہ ہو اس کی نماز ہی نہیں*
*رواہ ابن حبان والحاکم وقال صحیح علی شر طھما*

*📚بھار شریعت حصہ سوم ص126*

*اور اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں جماعت ہر مسلمان پر واجب ہے یہاں تک کہ ترک جماعت پر صحیح حدیث میں فرمایا ظلم ہے اور کفر ہے*
*اور نفاق یہ ہے کہ آدمی اللہ کے منادی کو پکارتا سنے اور حاضر نہ ہو*
*صحیح مسلم شریف میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے*
*لو صلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذا المتخلف لترکتم سنة نبیکم ولو ترکتم سنة نبیکم لضللتم وفی روایة ابی داود لکفرتم*
*یعنی اگر مسجد میں جماعت کو حاضر نہ ہوگے اور گھروں میں نماز پڑھو گے تو گمراہ ہوجاو گے ایمان سے نکل جاو گے*

*📚فتاوی رضویہ جلد ششم ص381*

*اور حضرت فقیہ اعظم ہند علیہ الرحمہ درمختار ردالمختار اور غنیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں*
*جماعت واجب ہے بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا* *گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے تو وہ فاسق مردودالشھادہ*
*اور اس کو سخت سزا دی جاے گی اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا وہ بھی گنہگار ہوے*

*📚بھار شریعت حصہ سوم ص130*
*فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص151*

*💓واللہ تعالٰی اعلم💓*

📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼

*📝ازقلم حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور ضلع گونڈہ یوپی*
*رابطـہ 📞9918562794*


*الجواب الصحیح حضور منظور ملت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد یار علوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی جوگیشوری ممبئی*

*🌹آپ کا سوال ہمارا جواب  گروپ🌹*


*🖥المرتب محمد امتیاز القادری*
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.