*🔸غیـرمحـرم عـورت سـے گفـتگوکـرنـا اورگفـٹ وغیـرہ وصـول کـرنا کیـسـاہـے؛🔸*
السلام و علیکم۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید ایک غیر محرم عورت سےباتیں وغیرہ کرتا ہے۔ اس دوران میں غیر محرم عورت زید کو کچھ پیسے گفٹ کے لئے دے دیتی ہے۔ کیا غیر محرم عورت زید کو گفٹ وغیرہ دے سکتی ہے؟ کیا غیر محرم عورت زید کو اپنا بھائی بنا سکتی ہے۔؟ زید کا غیر محرم سےگفٹ لینا جائز ہے یا نہیں۔ مہربانی کرکے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں بتا دیں۔)
*المستفتی-محمد احمد رضا قادری،*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*✍الجــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــــ بعـــــون المـــلـــك الــــوهـــــاب:*
*صورت مسئولہ میں زید کا غیرمحرم عورت سےباتیں کرنا جائز نہیں ،اوراسی طرح عورت کا زید کو اپنا بھائی بنانا اور پیسے وغیر ہ بطورگفٹ دینا اورزید کا گفٹ وصول کرنا سب ممنوع ہے ۔ہاں ضرورۃعورت غیر محرم مرد سے پردہ میں رہ کر گفتگوکر سکتی ہے جیسے شرعی مسئلہ پوچھنے کیلئے کسی عالم سےبات چیت کرنا جبکہ اس صورت میں دونوں کو نرم گفتگو منع ہے*
*📖۔قرآن کریم میں ہے*
*(:یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾*
*ترجمہ کنزالایمان :’’اے نبی کی بیبیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو‘‘اس آیت کی تفسیر میں مفسّر شہیر صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں*
*:اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ)لہجہ میں لچک ( نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔) یعنی (دین واسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے مگر بے لوچ لہجہ سے*
*۔اسی طرح قرآن مجید میں ہے*
*(’ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡھنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡھنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوۡبِکُمْ وَ قُلُوۡبِہِنَّ‘)*
*‘ترجمہ کنزالایما ن :’’اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی ‘‘اس آیت کی تفسیر میں مفسّر شہیر صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدیں مرادآبادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں*
*:اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ لازم ہے اور غیر مَردوں کو کسی گھر میں بے اجازت داخل ہونا جائز نہیں ۔*
*آیت اگرچہ خاص ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں وارد ہے لیکن حکم اس کا تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے*
*۔حدیث مبارک میں ہے*
*(:’’علیٰ کل نفس من بنی آدم کتب حظہ من الزنا ادرک ذلک لا محالۃ فالعین زنا ھا النظر والاذان زنا ھا السماع والیدزنا ھا البطش و الرجل زناھا المشی واللسان زناہ الکلام والقلب یھوی ویتمنی‘)*
*‘انسان کے ہر عضو کا زنا ہے وہ اسے پا لے گا۔ آنکھ کا زنا)غیر محرم کو( دیکھنا کان کا زنا باتیں سننا، ہاتھ کا زنا چھونا، پاؤں کا زنا)غیرمحرم( کی طرف جانا، زبان کا زنا گفتگو کرنا جبکہ دل اس کی خواش اور تمنا کررہا ہو)*
*📘(احمد بن حنبل، مسند احمد، ج۲،ص ۳۷۹)*
*اسی طرح حدیث مبارک میں ہےجو شخص کسی غیر محرم سے ہنسی مذاق کرتاہے خدا ہر لفظ کے بدلے اسے ہزار سال دوزخ میں رکھے گا۔ اسی طرح جو عورت نا محرم سے مذاق کرے گی)*
*📗(صدوق،ثواب الاعمال،ص۲۸۳،حارث بن ابی اسامہ، بغیۃ الباحث،ص ۷۳۹)*
*ان آٓیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت غیر محرم سے صرف بوقت ضرورت )یعنی دین و اسلام (ہی بات پردہ میں رہ کر سکتی وہ بھی نرم لہجہ اور نرم گفتگو میں نہیں ،اور ضرورت کے علاوہ عورت کیلئے غیر محرم سےمحّض دوستی کی اور عشقیہ بات چیت کرنا حرام ہے اور اسی طرح غیر محرم کو بھائی بنانا اور گفٹ پیش کرنا بھی ممنوع ہے ۔*
*؛واللہ اعلم بالصواب؛*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*کتـبــــــہ؛*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*🔸اعلی حضرت زندہ بادگروپ🔸*
*رابطہ؛📞 9918562794*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*🖥المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپـی*
السلام و علیکم۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید ایک غیر محرم عورت سےباتیں وغیرہ کرتا ہے۔ اس دوران میں غیر محرم عورت زید کو کچھ پیسے گفٹ کے لئے دے دیتی ہے۔ کیا غیر محرم عورت زید کو گفٹ وغیرہ دے سکتی ہے؟ کیا غیر محرم عورت زید کو اپنا بھائی بنا سکتی ہے۔؟ زید کا غیر محرم سےگفٹ لینا جائز ہے یا نہیں۔ مہربانی کرکے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں بتا دیں۔)
*المستفتی-محمد احمد رضا قادری،*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*✍الجــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــــ بعـــــون المـــلـــك الــــوهـــــاب:*
*صورت مسئولہ میں زید کا غیرمحرم عورت سےباتیں کرنا جائز نہیں ،اوراسی طرح عورت کا زید کو اپنا بھائی بنانا اور پیسے وغیر ہ بطورگفٹ دینا اورزید کا گفٹ وصول کرنا سب ممنوع ہے ۔ہاں ضرورۃعورت غیر محرم مرد سے پردہ میں رہ کر گفتگوکر سکتی ہے جیسے شرعی مسئلہ پوچھنے کیلئے کسی عالم سےبات چیت کرنا جبکہ اس صورت میں دونوں کو نرم گفتگو منع ہے*
*📖۔قرآن کریم میں ہے*
*(:یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾*
*ترجمہ کنزالایمان :’’اے نبی کی بیبیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو‘‘اس آیت کی تفسیر میں مفسّر شہیر صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں*
*:اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ)لہجہ میں لچک ( نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔) یعنی (دین واسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے مگر بے لوچ لہجہ سے*
*۔اسی طرح قرآن مجید میں ہے*
*(’ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡھنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡھنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوۡبِکُمْ وَ قُلُوۡبِہِنَّ‘)*
*‘ترجمہ کنزالایما ن :’’اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی ‘‘اس آیت کی تفسیر میں مفسّر شہیر صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدیں مرادآبادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں*
*:اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ لازم ہے اور غیر مَردوں کو کسی گھر میں بے اجازت داخل ہونا جائز نہیں ۔*
*آیت اگرچہ خاص ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں وارد ہے لیکن حکم اس کا تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے*
*۔حدیث مبارک میں ہے*
*(:’’علیٰ کل نفس من بنی آدم کتب حظہ من الزنا ادرک ذلک لا محالۃ فالعین زنا ھا النظر والاذان زنا ھا السماع والیدزنا ھا البطش و الرجل زناھا المشی واللسان زناہ الکلام والقلب یھوی ویتمنی‘)*
*‘انسان کے ہر عضو کا زنا ہے وہ اسے پا لے گا۔ آنکھ کا زنا)غیر محرم کو( دیکھنا کان کا زنا باتیں سننا، ہاتھ کا زنا چھونا، پاؤں کا زنا)غیرمحرم( کی طرف جانا، زبان کا زنا گفتگو کرنا جبکہ دل اس کی خواش اور تمنا کررہا ہو)*
*📘(احمد بن حنبل، مسند احمد، ج۲،ص ۳۷۹)*
*اسی طرح حدیث مبارک میں ہےجو شخص کسی غیر محرم سے ہنسی مذاق کرتاہے خدا ہر لفظ کے بدلے اسے ہزار سال دوزخ میں رکھے گا۔ اسی طرح جو عورت نا محرم سے مذاق کرے گی)*
*📗(صدوق،ثواب الاعمال،ص۲۸۳،حارث بن ابی اسامہ، بغیۃ الباحث،ص ۷۳۹)*
*ان آٓیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت غیر محرم سے صرف بوقت ضرورت )یعنی دین و اسلام (ہی بات پردہ میں رہ کر سکتی وہ بھی نرم لہجہ اور نرم گفتگو میں نہیں ،اور ضرورت کے علاوہ عورت کیلئے غیر محرم سےمحّض دوستی کی اور عشقیہ بات چیت کرنا حرام ہے اور اسی طرح غیر محرم کو بھائی بنانا اور گفٹ پیش کرنا بھی ممنوع ہے ۔*
*؛واللہ اعلم بالصواب؛*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*کتـبــــــہ؛*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دارالعلوم شہید اعظم دولھاپور پہاڑی انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*🔸اعلی حضرت زندہ بادگروپ🔸*
*رابطہ؛📞 9918562794*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
*🖥المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپـی*
◆ــــــــــــــــــ▪🏉▪ـــــــــــــــــ◆
تبصرے