نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رمضان تمام مہینوں کا سردار

*رَمَضَان کی شان*
 *رَمَضان تمام مہینوں کا سردار*
رشحات قلم
خلیفہ پیر ابوالبرکات حضور ارشد میاں سبحانی محمداسماعیل خان امجدی ارشدی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک کی رَحمت پر قربان کہ اس نے ہمیں رَمَضانُ المبارک کا مہینہ عطا فرمایا ہے یہ مہینہ بڑی ہی عظمت و شان والا مہینہ ہے اس مہینے کی عظمت و شان کا اَندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قراٰنِ کریم میں اللہ پاک نے مہینوں کی تعداد تو بیان فرمائی ہے لیکن مہینوں کے نام بیان نہیں فرمائے ، صرف رَمَضانُ المبارک کا مہینہ ایسا ہے  جس کا نام قراٰنِ کریم میں لیا گیا اور اس کے فَضائِل اور اَحکام  بیان فرمائے گئے ہیں  چنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕیُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
 *پ2، البقرة 185*
ترجمۂ کنزُ الایمان رَمَضان کا مہینہ جس میں قراٰن اُترا لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دِنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دُشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو  اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو
حدیثِ پاک میں اِس ماہِ مبارک کو تمام مہینوں کا سردار فرمایا گیا ہے  چنانچہ مکی مَدَنی سُلطان سرورِ ذِیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  سَيِّدُ الشُّهُوْرِ رَمَضَانُ ، وَسَيِّدُ الْاَ يَّامِ  يَوْمُ الْجُمُعَةِ یعنی تمام مہینوں کا سردار رَمَضان ہے اور تمام دِنوں کا سردار جمعہ کا دِن ہے
رَمَضانُ المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس کی ہر ہر گھڑی رَحمت بھری ہے اور ہر ہر ساعت عبادت میں گزرتی ہے جیسا کہ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ”تفسیرِ نعیمی“ ، جلد 2 صفحہ 208 پر فرماتے ہیں : ”ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وَقت میں عبادت ہوتی ہے مَثَلاً بَقَر عید کی چند ( مخصوص ) تاریخوں میں حج ، مُحرَّم کی دَسویں تاریخ اَفضل ، مگر ماہِ رَمَضان میں ہر دن اور ہر وقت عبادت ہوتی ہے  روزہ عِبادت ، اِفطار عِبادت ، اِفطار کے بعد تَراویح کا اِنتِظار عِبادت ، تَراویح پڑھ کر سحری کے
انتِظار میں سونا عبادت ، پھر سحری کھانا بھی عبادت اَلغَرَض ہر آن میں خُدا عَزَّوَجَلَّ  کی شان نظر آتی ہےاِس مہینے کی خُصُوصی عبادت”نمازِ  تَراویح“ہے  نمازِ تَراویح     کا اِہتمام نبیٔ اکرم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُبارک دور سے ہی چلا آ رہا ہے ۔  خود رَسولِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین راتیں تَراویح کی جماعت کرائی ، پھر اُمَّت پر شَفقت فرماتے ہوئے تَراویح کی جماعت تَرک فرما دی کہ کہیں اُمَّت پر تَراویح  فرض نہ کر دی جائے 
 *صحیح البخاری کتاب صلاة التراویح باب فصل ماقام رمضان*
حضور صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  اس پر خلفائے راشِدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  نے مُداوَمَت ( یعنی ہمیشگی ) فرمائی اور نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے کہ”میری سُنَّت اور سُنَّتِ خلفائے راشِدین کو اپنے اوپر لازِم سمجھو اور خود حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) نے بھی تَراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا
حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرَّحمٰن بِن عبدُالقاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رَمَضانُ المبارَک میں اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ مسجد میں آیا تو لوگ وہاں مختلف اَنداز میں نمازِ تَراویح ادا کر رہے تھے  کوئی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور کسی نے جماعت قائم کی ہوئی تھی یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا  ’’اِنِّيْ اَرٰى لَوْ جَمَعْتُ ہٰۤؤُلَآءِ عَلٰى قَارِئٍ وَّاحِدٍ لَكَانَ اَمْثَلَ یعنی میرا خیال ہے اگر میں ان سب کو ایک ہی امام کے پیچھے جمع کر دوں تو بہت اچھا رہے گا چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قاریٔ قراٰن حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بِن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو امام مقرر فرما کرتمام لوگوں کو ان کی اِقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا  پھر ایک رات میں اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ مسجد میں جانے کے لیے نکلا مسجد پہنچنے پر دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کے ساتھ نماز میں مشغول ہیں  یہ مَنظر دیکھ کرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت خوش ہوئے اور اِرشاد فرمایا  نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یعنی یہ نیا طریقہ کتنا اچھا ہے 
 حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بِن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُنہیں رَمَضانُ المبارَک میں تَراویح کی جماعت قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا  ’’اِنَّ النَّاسَ يَصُوْمُوْنَ النَّهَارَ وَلَا يُحْسِنُوْنَ اَنْ يَّقْرَاُوْا فَلَوْ قَرَاْتَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ یعنی لوگ دن کو روزہ تو اچھی طرح رکھ لیتے ہیں لیکن رات کو تَراویح میں قراٰن اَحسن اَنداز میں نہیں پڑھ پاتے کیا ہی اچھا ہو کہ تَراویح کی جماعت قائم کرکے تم اِن کو قراٰن سناؤ ‘حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بِن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی  ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤمِنِيْنَ هٰذَا شَىْءٌ لَّمْ يَكُنْ یعنی اے امیر المؤمنین یہ چیز پہلے تو نہیں تھی فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواباً اِرشاد فرمایا ’’قَدْ عَلِمْتُ وَلٰكِنَّهُ حَسَنٌ یعنی مجھے معلوم ہے کہ تَراویح کی جماعت پہلے نہیں تھی لیکن یہ ایک اچھا فعل ہے ‘ فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً  پس حضرتِ سیِّدُنا اُبی بِن کعبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں کو 20 رَکعت تَراویح پڑھائی 
منقول ہے کہ اللہ پاک کے عرش کے گِرد ”حَظِیْرَۃُ الْقُدْس“ نامی ایک جگہ ہے جوکہ نور کی ہے ، اس میں اتنے فرشتے ہیں کہ جن کی تعداد اللہ پاک ہی جانتا ہے ، وہ اللہ پاک  کی عبادت کرتے ہیں اور ا یک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتے ، جب رَمَضان کی راتیں آتی ہیں تو وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سےزمین پراُترنے کی اِجازت طَلب کرتے ہیں اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے ساتھ نمازِ تَراویح میں حاضِر ہوتے ہیں ، اگر کوئی ان کو چھوئے یا وہ اس کو مَس کریں تووہ ایسا سعادت مند ہو جائے گا کہ اس کے بعدکبھی بَدبخت نہ ہو گا  اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ حدیث سُنی تو اِرشاد فرمایا  ہم اس فضل و اَجر کے زیادہ حق دار ہیں  چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ماہِ رَمَضان میں لوگوں کو نمازِ تَراویح کے لیے جمع فرمایا
 *الروض الفاٸق المجلس الخامس فی فصل شھر رمضان وصیامہ*
 تَراویح کی پابندی کی بَرکت سے سارے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں   چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ  رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا  مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ یعنی جو رَمَضان میں ( نمازِ تَراویح یا دِیگر عبادات وغیرہ کے لیے ) قیام کرے ایمان کی وجہ سے اور ثواب طلب کرنے کے ليے تو اس کے گُزشتہ سب گناہ بخش دیئے جائیں گے
 *صحیح البخاری کتاب الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان*
حضرتِ سیِّدُنا وَلید بِن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں میرے والِد نے بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا سُوَید بِن غَفَلَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ماہِ رَمَضان میں ہمیں تَراویح پڑھایا کرتے تھے اور اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی عمر 120 سال کے قریب تھی
حضورصَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم شمسُ الہُدٰی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا اِنتقال ہو گیا تو صَدرُ الشَّریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اُس وقت نمازِ تَراویح ادا کر رہے تھے  اِطِّلاع دی گئی تشریف لائے
 اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ      پڑھا اور فرمایا  ابھی آٹھ رَکعت تَراویح باقی ہیں  پھر نَماز میں مَصروف ہو گئے
 *تذکرہ صدرالشریعہ ص 24 مکتبہ المدینہ باب المدینہ کراچی*
جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تَراویح کی 20 رَکعتیں ہیں  اور یہی اَحادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيْ  فِيْ رَمَضَانَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً  وَّالْوِتْر  یعنی نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رَمَضانُ المبارک میں20 رَکعت( تَراویح ) اوروتر پڑھا  کرتے تھے  اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اپنے دورِ خلافت میں20 رکعت تَراویح کو رائج فرمانا ، صحابہ و تابعین ، ائمۂ مجتہدین اور ائمۂ محدثین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا 20 رَکعت تَراویح پرہمیشہ عمل کرنا اور 20سے کم پر راضی نہ ہونا اس حدیث کو تقویت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیتا ہے 
حضرتِ سَیِّدُنا جابِر بِن عبدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے خَرَجَ النَّبِيُّ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ذَاتَ لَيْلَةٍ  فِيْ رَمَضَانَ  فَصَلَّى النَّاسَ اَرْبَعَةً  وَّ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّاَوْتَرَ  بِثَلَاثَةٍ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رَمَضان میں ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو24 رَکعات ( یعنی چار فرض ، 20
تراویح ) اور تین وتر پڑھائے
حضرتِ سَیِّدُنا سائِب بِن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں كُنَّا نَقُوْمُ فِيْ زَمَانِ عُمَرَ  بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ ہم فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں 20 رَکعت تَراويح اور وتر پڑھا کرتے تھے
 *معرفة السنن والاثار للبیھقی کتاب الصلاة باب قیام رمضان*
اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن عثمانِ غنی اور اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن عَلِیُّ المُرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے دور میں بھی 20 رَکعت تَراویح پڑھی جاتی تھی  اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات  علیُّ المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک شخص کو حکم فرمایا  رَمَضان میں لوگوں کو   20 رَکعت تَراويح  پڑھائے
شارحِ بخاری حضرتِ علَّامہ بَدرُالدِّین محمود بِن احمد عینی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بِن مَسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں كَانَ  يُصَلِّيْ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّيُوْ تِرُ بِثَلَاثٍ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ 20 رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر ادا فرماتے
حضرتِ سَیِّدُنا عبدُالعزیز بِن رَفیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رِوایت کرتے ہیں كَانَ اُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُّصَلِّيْ بِالنَّاسِ فِيْ رَمَضَانَ بِالْمَدِيْنَةِ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ اُبی بِن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رَمَضان میں مدینۂ منورہ میں لوگوں کو 20 رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں اَجْمَعَ الصَّحَابَةُ عَلٰى اَنَّ التَّرَاوِيْحَ عِشْرُوْنَ رَكْعَةً یعنی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اِس بات پر اِجماع( یعنی متفقہ فیصلہ ) ہے کہ تَراویح کی 20 رَکعات ہیں
حضرتِ سَیِّدُنا امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  اکثر علما کا مذہب 20 رَکعت تَراویح  ہے ، جو حضرت عمر ، حضرت علی اور دِیگر  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مَروی ہے   سفیان ثوری ، عبدُ اللہ بِن مُبارَک اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اِسی کے قائِل ہیں  امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں اَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّوْنَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً  یعنی ہم نے اپنے شہر  مکۂ مکرمہ والوں کو 20 رَکعت تَراویح پڑھتے ہوئے پایا  ہے 
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوخَصِيب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ الْمُجِیْب مشہورتابعی حضرتِ سَیِّدُنا سُوَید بِن غَفَلَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں فرماتے ہیں  ”كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ  فِيْ رَمَضَانَ فَيُصَلِّيْ خَمْسَ تَرْوِيْحَاتٍ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً سُوَید بِن غَفَلَہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیں پانچ تَرویحوں میں 20 رَکعت ( تَراویح ) پڑھاتے تھے   “اورتابعی بزرگ حضرتِ سَیِّدُنا شُتَيْر بِن شَكَل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المُرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے شاگردوں میں سے ہیں ، ان کے بارے میں مَروی ہے  ”اَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّ يُوْتِرُ بِثَلَاثٍ یہ لوگوں کو  رَمَضان میں 20  رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتےتھے
 *سنن کبری للبیھقی کتاب الصلاة باب ماروی فی عددرکعات القیام فی شھر رمضان*
کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکرَم  فرماتے ہیں  اَلْقِيَامُ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ سُنَّةٌ لَّا يَنْبَغِيْ تَرْكُهَا يُصَلِّىْ اَهْلُ كُلِّ مَسْجِدٍ فِيْ مَسٰجِدِهِمْ كُلَّ لَيْلَةٍ سِوَى الْوِتْرِ  عِشْرِيْنَ رَكْعَةً  یعنی رَمَضانُ المبارک میں تَراویح پڑھنا سُنَّت ہے ،اس کا تَرک جائز نہیں  ہر مسجد والے اپنی اپنی مَساجِد میں رَمَضانُ المبارک کی  ہر رات میں  وترکے علاوہ 20 رَکعت نمازِ تَراویح ادا کریں
 *فتاوی قاضی خان کتاب الصوم*
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں اَلتَّرَاوِيْحُ وَهِيَ عِشْرُوْنَ رَكْعَةً  وَّكَيْفِيَتُهَا مَشْهُوْرَةٌ وَّهِيَ سُنَّةٌ مُّؤَكَّدَةٌ یعنی تَراویح 20 رَکعت ہے  اس کا طریقہ مشہور و معروف ہے اور یہ سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے 
 *احیإ العلوم کتاب اسرارالصلاة ومھماتھا*
حضرتِ سیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ  الرَّبَانِی نقل فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ ، امام شافعی اور امام اَحمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم کا قول ہے  اِنَّ صَلَاۃَ  التَّرَاوِیْحِ فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً نمازِ تَراویح رَمَضانُ المبارَک میں 20 رَکعت ہے
تَراویح تَرویحہ کی جمع ہے  تَرویحہ ہر چار رَکعت کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر راحت کرنے کو کہتے ہیں  اگر تَراویح آٹھ رَکعت ہوتی تو بیچ میں ایک تَرویحہ ہوتا  اس صورت
میں اس کا نام تَراویح جمع نہ ہوتا کیونکہ جمع کم ازکم تین پر بولی جاتی ہے
 *جإالحق حصہ دوم ص 444*
اس سے معلوم ہوا کہ تَراویح کی آٹھ رَکعتیں نہیں بلکہ آٹھ سے زائد رَکعتیں ہیں اور وہ 20 ہیں جوصحابہ و تابعین ، ائمۂ مجتہدین اور بزرگانِ دِین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ثابِت ہیں 
 *20 رَکعت تَراویح میں حِکمت*
حضورصَدرُالشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  اس ( یعنی تَراویح ) کے بیس رَکعت ہونے میں یہ حِکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کُل فرائض و واجب کی ہر روز بیس  رَکعتیں ہیں ، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں
 *بہارشریعت*
 *رَمَضان میں تلاوتِ قراٰن کا اِہتمام*
سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قراٰنِ پاک کا دور فرماتے
اللہ پاک نے قراٰنِ کریم کو رَمَضانُ المبارَک کے مہینے میں نازِل فرمایا ہے  جیسا کہ پارہ 2 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 185میں خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے  ( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ترجمۂ کنز الایمان رَمَضان کا مہینہ جس میں قراٰن اُترا لہٰذا ہمیں دِیگر مہینوں کے مقابلے میں رَمَضانُ المبارک میں کثرت سے تلاوتِ قراٰن کا اِہتمام کرنا چاہیے  ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رَمَضانُ المبارک کی ہررات میں جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ قراٰنِ پاک کا دور فرماتے
 ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ الْمُبِیْن بھی اس مہینے میں نمازِ تَراویح میں  اور اس کے علاوہ بھی  کثرت کے ساتھ قراٰنِ کریم کی تلاوت فرماتے تَرغیب و تحریص کے لیے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ الْمُبِیْن کے شوقِ تلاوت کے چند واقعات پیشِ خدمت ہیں
حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو یُوسُف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  حضرتِ سَیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  رَمَضانُ المبارَک میں مَع عیدُالفطر62قراٰنِ پاک خَتم کرتے ( ایک دن میں ، ایک  رات میں ، ایک  تَراویح کے اندر سارے ماہ میں اور  ایک عید کے روز ) 
 *الخیرات الحسان ص 50* 
حضرتِ سیِّدُنا رَبیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی ماہِ رَمَضان میں60قراٰنِ پاک ختم کرتے تھے اور سب نماز میں ختم کرتے
 *حلیة الاولیإ الامام الشافعی*
حضرتِ سیِّدُنا اَبو اَشْہَب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا اَبُو رَجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رَمَضانُ المبارک میں ہمارے ساتھ حالتِ قیام میں 10دِنوں میں قراٰنِ مجید ختم کرتے تھے
 *الزھد للامام احمد بن حنبل زھد بن سیرین ص 319* 
حضرتِ سَیِّدُنا شیخ اَبُو نصر سراج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  رَمَضانُ المبارک کے مہینے میں بغداد تشریف لائے اور مسجد شونیزیہ میں قیام فرمایا وہاں کے لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو رہائش کے لیے ایک حجرہ دے دیا اور مسلمانوں کی اِمامت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے سپرد کر دی  گئی  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے عید کی صبح تک مسلمانوں کی اِمامت کی اور نمازِ تَراویح میں پانچ قراٰنِ کریم ختم فرمائے  دَورانِ قیام روزانہ رات کو خادِم ایک روٹی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دے جاتا جب عید کا دن آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نماز کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے اور جب خادم نے حجرے میں دیکھا تو 30 کی 30 روٹیاں وہاں موجود تھیں
 *کشف المحجوب کشف الحجاب السابع فی الصوم ص 354*
حضرتِ سیِّدُنا سلام بِن ابی مطیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع سے مَروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا قتادہ بِن دِعَامَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ( عام دِنوں میں ) سات راتوں میں ایک مرتبہ قراٰنِ مجید ختم کیا کرتے ، رَمَضانُ المبارک میں تین راتوں میں اور رَمَضانُ المبارَک کے آخری عشرہ میں ہر رات ایک قراٰنِ پاک ختم کرتے تھے
 *سیراعلام النبلإ قتادة بن دعامہ*
حافظِ مِلَّت حضرت علّامہ شاہ عبدُالعزیز مُحدِّث مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی  اپنے والد ِ ماجد اَلحاج محمد غُلام نُور عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفُوْر کے بارے میں فرماتے ہیں ایک بار والدِ ماجد ریاست حیدر آباد میں ماہِ رَمَضان میں محراب سنانے ( یعنی قراٰنِ پاک سنانے ) کے لیے بُلائے گئے  مدینہ مسجد میں 27 رَمَضان کو شبینہ ہوا  دوسرے حافظوں کو آپ کے سامنے پڑھنے کی جُرأت نہیں ہوئی ، پورا قراٰنِ مجید والِد صاحب ہی نے ختم کیا  اس وقت والد صاحب کی عمر 70سال تھی  وہاں کے لوگ اب تک یاد کرتے ہیں ، کہتے ہیں ہم نے ایسا حافظ دیکھا ہی نہیں
 *حیات حافظ ملت ص 54المجمع الاسلامی* 
حضرتِ سیِّدُنا وَرقاءرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  حضرتِ سیِّدُنا سعید بِن جُبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  رَمَضان کے مہینے میں مغرب اور عشا کے دَرمیان ایک قراٰنِ پاک ختم  کیا کرتے تھے اللہ پاک ان بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کے ذوقِ تلاوت کے  صَدقے ہمیں بھی قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنے کا شوق عطا فرمائے  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم 
تَراویح قراٰنِ پاک کو یاد رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے  کا ایک بہترین ذَریعہ ہے اس کے ذَریعے جہاں قراٰنِ پاک کی دُہرائی ہو جاتی ہے وہاں قراٰنِ پاک کی حفاظت کا بھی اِہتمام ہوتا ہے  اگر تَراویح نہ ہوتی تو حفظِ قراٰن کا رَواج بھی ختم ہوچکا ہوتا چنانچہ مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں  اے عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہم سب کی طرف سے جزاءِ خیر دے ، تم ہی نے قراٰن جمع کرایا اور تم ہی نے حفاظتِ قراٰن کا ذَریعہ قائم کیا ، یعنی باقاعدہ تَراویح کی جماعت میں ختمِ قراٰن ہونا ، اگر تَراویح نہ ہوتی تو حفظِ قراٰن کا رَواج بھی ختم ہو چکا ہوتا  تمہارے اِحسان سے مسلمان تا قیامت سبکدوش نہیں ہو سکتے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری قبرِ انور نور سے بھر دے  کئی حفاظِ کرام ایسے ہوتے ہیں جو سارا سال قراٰن نہیں پڑھ پاتے لیکن جب رَمَضانُ المبارَک کا مہینہ قریب آتا ہے تو وہ بھی تَراویح سننے اور سنانے کے لیے خوب خوب قراٰنِ پاک کی دُہرائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں 
رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا  اَشْرَافُ اُمَّتِیْ حَمَلَۃُ الْقُرْاٰنِ وَاَصْحَابُ اللَّیْلِ یعنی میری اُمت کے بہترین لوگ قراٰن اُٹھانے والے اور شب بیداری کرنے والے ہیں
اِس حدیثِ پاک کے تحت   مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں قراٰن اُٹھانے والوں سے مُراد قراٰن کے حافظ ہیں یا اس کے محافظ یعنی حفاظ یا عُلَمائے کرام کہ ان دونوں کے بڑے دَرَجے ہیں حدیث شریف میں ہے جس نے قراٰن حفظ کیا اس نے نبوت کو اپنے دو پہلوؤں کے دَرمیان لے لیا حافظ اَلفاظِ قراٰن کی بَقا کا ذَریعہ ہیں  عُلَماء مَعانی و مَسائلِ قُراٰن کی بَقا کا ذَریعہ اورصُوفیاء اَسرارِ رُمُوزِ قراٰنی کے بَقاء کا ۔ رات والوں سے مُراد تہجدگزار ہیں   سُبْحٰنَ اللّٰہ جس شخص میں علم و عمل دونوں جمع ہوجائیں اس پر خُدا کی خاص مہربانی ہے حفاظِ کرام کو چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں اور  روزانہ کم از کم ایک پارہ پڑھنے  کا  اپنا معمول بنا لیں   
نبیٔ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا  ( قیامت کے دِن ) قراٰن پڑھنے والے سے کہا جائے گا : پڑھتا جا اور ترقی کی مَنازِل طے کرتا جا اور اس طرح ٹھہر کر پڑھ جس طرح دُنیا میں  ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا ، جہاں  تو آخری آیت پڑھے گا اسی کے پاس تیرا  ٹھکانا ہے
 *ابوداودکتاب الوتر باب استحباب الترتیل فی القراة*
حضرتِ سیِّدُ نااَبُوسلیمان خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  رِوایات میں آیا ہے کہ قراٰن کی آیتوں کی تعداد جنَّت کے دَرَجات کے برابر ہے لہٰذا قاری سے کہا جائے گا کہ تو جتنی آیتیں پڑ ھ سکتا ہے اُتنے دَرَجے طے کرتا جا تو جو اُس وقت پورا قراٰنِ پاک پڑھ لے گا وہ جنَّت کے اِنتِہائی ( سب سے آخری ) دَرَجے کو پالے گا اور جس نے قراٰن کا کوئی جُز( حصہ ) پڑھا تو اُس کے ثواب کی اِنتہا  قراء ت کی اِنتِہا تک ہوگی
 *مَعالِمُ السُّنَن جلد 1/ص 370  مکتبة المعارف  الریاض*
حضرتِ سیِّدُنا مُسَیَّب بِن رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   رِوایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا  حافظِ قراٰن کو چاہیے کہ جب لوگ سو رہے ہوں تووہ اپنی رات کی حفاظت کرے ( کہ اس میں جاگ کر قراٰنِ مجید کی تلاوت اور اللہ پاک کی عبادت کرے ہر گز اسے غفلت میں نہ گزارے )  جب لوگ کھا پی رہے ہوں تووہ اپنے دن کا خیال ( یعنی روزہ ) رکھے  جب لوگ خوش ہو رہے ہوں تووہ اپنے غم کو یاد کرے ( یعنی فکر ِ آخرت کرے ) ۔ جب لوگ ہنس رہے ہوں تووہ آنسو بہائے ۔  جب لوگ باہم مِل جُل رہے ہوں تو وہ خاموش رہے اور جب لوگ تکبر کاشکار ہوں تو وہ خشوع وخضوع اِختیار کرے  نیزحافظِ قراٰن کو چاہیے کہ وہ رونے والا ، غمزدہ ، حکمت و بُردباری ، علم و اِطمینان والاہواور اسے چاہیے کہ وہ خُشک رو ، غافل ، شور مچانے والا ، چیخ و پکار کرنے والانہ ہو اورنہ ہی سخت مزاج ہو ۔
رب قدید کی بارگاہ میں دعاہے ہم سب کو اس پر عمل کرنے توفیق ورفیق عطافرماے آمین
واللہ اعلم
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.