*پیری مُریدی کی شَرعی حیثیت*
رشحات قلم محمداسماعیل خان ارشدی دولھاپورپہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈ اترپردیش
*بیعت* کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اَعمال کا اِرادہ کرنے اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ
ترجمۂ کنزالایمان جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح (نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو اگر صالح (نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گااس آیت میں تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے
نورالعرفان پ 15بنی اسراٸیل تحت الایة 17
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ (پسندیدہ سنَّت) ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ ولیُّ ﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور رَبُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕیَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ
(پ 26 سورہ فتح10
ترجَمۂ کنزالایمان وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے
اور فرماتا ہے
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
پ 26الفتح 18
ترجَمۂ کنزالایمان بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھےاور بیعت کو خاص بجہاد سمجھنا جہالت ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ
ترجَمۂ کنز الایمان اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللّٰہ کاشریک کچھ نہ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
پ 28 الممتحنة 12
ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے
فتاوی رضویہ جلد 26 ص 586
*احادیثِ مُبارَکہ میں بیعت کا ذِکر*
بیعت مختلف چیزوں مثلاًکبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت (یعنی گناہ کے علاوہ) والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دِیگر کاموں پر بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت ہونا ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے
*مسلم شریف کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامرإ۔۔الخ حدیث 1709*
حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پوراکیا اس کا اَجر اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے
*مسلم شریف کتاب الحدود باب الحدود کفارات لاھلھا۔۔الخ*
حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تفسیرِ کبیر میں نقل فرماتے ہیں جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں لَیْلَۃُ الْعُقْبَہ کو 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَٕان نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپباپنےربّ عَزَّوَجَلَّ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو شرط چاہیں مَنوا لیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تیرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے لیے یہ شرط ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے سا تھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو جن چیزوں سے باز رکھتے ہو ان سے مجھ کو بھی باز رکھنا(یعنی جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرنا) تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا صِلہ ملے گا؟ تو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جنّت۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی یہ تو نفع مند بیعت ہے،ہم اس بیعت کو نہ توڑیں گے اور نہ ہی توڑنے کا مُطالبہ کریں گے،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی،
اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشادفرماتا ہے
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ
پ 11التوبة111
ترجَمۂ کنز الایمان بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنّت ہے
تفسیر کبیر پ 11 سورہ توبہ تحت الایة 111/150
*بیعت ہونے کے فَوائد و بَرکات*
کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے پیرِکامل کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر فرماتے ہیں عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا اس کا دیکھنا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“ (یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس) سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا دےگا۔اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“ (یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے گا
*آدابِ مرشدِ کامل، ص۸۲*
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟ نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟ “ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا: مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اِتصالِ مسلسل صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ پ1،الفاتحہ 4
ترجمۂ کنزالایمان راستہ ان کا جن پر تو نے اِحسان کیامیں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تک فرمایا گیا مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے
اس کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃ والرضوان فرماتے ہیں ہربدمذہب فَلاح سے دُور ہلاکت میں چُور ہے، مطلقا ًبے پیرا ہے اور اِبلیس اس کا پیر، اگر چہ بظاہر کسی انسان کا مُرید ہوبلکہ خود پیر بنے راہِ سلوک میں قدم رکھے نہ رکھے ہر طرح لَا یُفْلِحُ وَشَیْخُہُ الشَّیْطَان (فلاح نہیں پائے گا اور اس کا پیر شیطان ہے کامِصداق ہےسُنِّی صحیح العقیدہ کہ راہِ سلوک نہ پڑا اگر فسق کرے فلاح پر نہیں مگر پھر بھی نہ بے پیرا ہے نہ اس کا پیر شیطان، بلکہ جس شیخ جامع شرائط کا مُرید ہو ا س کا مُرید ہے ورنہ مُرشدِ عام کا (یعنی کَلَامُ اللہ و کلام الرسول و کلامِ ائمہ شریعت و طریقت و کلامِ علمائے دین اہلِ رُشد و ہدایت ہے اسی سلسلۂ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلامِ علماء، علماء کا رہنما کلامِ ائمہ، ائمہ کا مُرشِد کلامِ رسول ،
رسول کا پیشوا کلامُ اللہ جَلَّ وَعَلا وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم
(فتاویٰ رضویہ جلد21 519
صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے
فتاوی رضویہ جلد 26
بیعت ہونے کے فَوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ پیرانِ عظام یا اِن سلسلوں کے اَکابرین وبانیان اپنے مُریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں بے شک سب اَئمہ و اولیا و عُلَمائے ربانیین (و مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ اپنے پَیروکاروں اور مُریدوں کی شفاعت کرتے ہیں،جب ان کے مُرید کی روح نکلتی ہے ،جب منکر نکیر اس سے قبر میں سُوال کرتے ہیں،جب حشر میں اس کا نامۂ اعمال کھلتا ہے،جب اس سے حساب لیا جاتا ہے،جب اس کے اَعمال تولے جاتے ہیں اورجب وہ پل صِراط پر چلتا ہے تو ان تمام مَراحِل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے
میزان الکبری جلد اول ص65
رشحات قلم محمداسماعیل خان ارشدی دولھاپورپہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈ اترپردیش
*بیعت* کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اَعمال کا اِرادہ کرنے اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ
ترجمۂ کنزالایمان جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح (نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو اگر صالح (نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گااس آیت میں تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے
نورالعرفان پ 15بنی اسراٸیل تحت الایة 17
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ (پسندیدہ سنَّت) ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ ولیُّ ﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور رَبُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕیَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ
(پ 26 سورہ فتح10
ترجَمۂ کنزالایمان وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے
اور فرماتا ہے
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
پ 26الفتح 18
ترجَمۂ کنزالایمان بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھےاور بیعت کو خاص بجہاد سمجھنا جہالت ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ
ترجَمۂ کنز الایمان اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللّٰہ کاشریک کچھ نہ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
پ 28 الممتحنة 12
ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے
فتاوی رضویہ جلد 26 ص 586
*احادیثِ مُبارَکہ میں بیعت کا ذِکر*
بیعت مختلف چیزوں مثلاًکبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت (یعنی گناہ کے علاوہ) والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دِیگر کاموں پر بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت ہونا ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے
*مسلم شریف کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامرإ۔۔الخ حدیث 1709*
حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پوراکیا اس کا اَجر اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے
*مسلم شریف کتاب الحدود باب الحدود کفارات لاھلھا۔۔الخ*
حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تفسیرِ کبیر میں نقل فرماتے ہیں جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں لَیْلَۃُ الْعُقْبَہ کو 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَٕان نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپباپنےربّ عَزَّوَجَلَّ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو شرط چاہیں مَنوا لیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تیرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے لیے یہ شرط ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے سا تھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو جن چیزوں سے باز رکھتے ہو ان سے مجھ کو بھی باز رکھنا(یعنی جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرنا) تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا صِلہ ملے گا؟ تو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جنّت۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی یہ تو نفع مند بیعت ہے،ہم اس بیعت کو نہ توڑیں گے اور نہ ہی توڑنے کا مُطالبہ کریں گے،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی،
اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشادفرماتا ہے
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ
پ 11التوبة111
ترجَمۂ کنز الایمان بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنّت ہے
تفسیر کبیر پ 11 سورہ توبہ تحت الایة 111/150
*بیعت ہونے کے فَوائد و بَرکات*
کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے پیرِکامل کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر فرماتے ہیں عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا اس کا دیکھنا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“ (یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس) سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا دےگا۔اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“ (یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے گا
*آدابِ مرشدِ کامل، ص۸۲*
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟ نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟ “ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا: مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اِتصالِ مسلسل صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ پ1،الفاتحہ 4
ترجمۂ کنزالایمان راستہ ان کا جن پر تو نے اِحسان کیامیں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تک فرمایا گیا مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے
اس کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃ والرضوان فرماتے ہیں ہربدمذہب فَلاح سے دُور ہلاکت میں چُور ہے، مطلقا ًبے پیرا ہے اور اِبلیس اس کا پیر، اگر چہ بظاہر کسی انسان کا مُرید ہوبلکہ خود پیر بنے راہِ سلوک میں قدم رکھے نہ رکھے ہر طرح لَا یُفْلِحُ وَشَیْخُہُ الشَّیْطَان (فلاح نہیں پائے گا اور اس کا پیر شیطان ہے کامِصداق ہےسُنِّی صحیح العقیدہ کہ راہِ سلوک نہ پڑا اگر فسق کرے فلاح پر نہیں مگر پھر بھی نہ بے پیرا ہے نہ اس کا پیر شیطان، بلکہ جس شیخ جامع شرائط کا مُرید ہو ا س کا مُرید ہے ورنہ مُرشدِ عام کا (یعنی کَلَامُ اللہ و کلام الرسول و کلامِ ائمہ شریعت و طریقت و کلامِ علمائے دین اہلِ رُشد و ہدایت ہے اسی سلسلۂ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلامِ علماء، علماء کا رہنما کلامِ ائمہ، ائمہ کا مُرشِد کلامِ رسول ،
رسول کا پیشوا کلامُ اللہ جَلَّ وَعَلا وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم
(فتاویٰ رضویہ جلد21 519
صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے
فتاوی رضویہ جلد 26
بیعت ہونے کے فَوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ پیرانِ عظام یا اِن سلسلوں کے اَکابرین وبانیان اپنے مُریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں بے شک سب اَئمہ و اولیا و عُلَمائے ربانیین (و مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ اپنے پَیروکاروں اور مُریدوں کی شفاعت کرتے ہیں،جب ان کے مُرید کی روح نکلتی ہے ،جب منکر نکیر اس سے قبر میں سُوال کرتے ہیں،جب حشر میں اس کا نامۂ اعمال کھلتا ہے،جب اس سے حساب لیا جاتا ہے،جب اس کے اَعمال تولے جاتے ہیں اورجب وہ پل صِراط پر چلتا ہے تو ان تمام مَراحِل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے
میزان الکبری جلد اول ص65
- واللہ اعلم
تبصرے