*پیرِکامل کی بَرکت سے اِیمان سلامت رہا*
رشحات قلم
خلیفہ پیر ابوالبرکات حضور ارشد میاں سبحانی
محمداسماعیل خان امجدی ارشدی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک تھانہ ضلع گونڈہ اترپردیش
جب نزع کا وقت ہوتا ہے تو اس مشکل ترین وقت میں شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے جو اسے دینِ اسلام سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر اِنسان کسی پیرِ کامل کا مُرید ہو تو شیطان کے ان چیلوں کو ناکام بناتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور پیرِ کامل کی بَرکت سے اپنا
اِیمان سلامت لے کر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ493 پر ہے: ”امام فخرُالدِّین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نزع کا جب وقت آیا ،شیطان آیا کہ اس وقت شیطان پوری جان توڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (مرنے والے کا) کا اِیمان سلب ہوجائے (یعنی چھین لیا جائے) ، اگر اس وقت پھرگیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا۔ اُس نے اِن سے پوچھا کہ تم نے عمر بھر مُناظروں مُباحثوں میں گزاری ،خدا کو بھی پہچانا؟ آپ نے فرمایا بیشک خدا ایک ہے۔اس نے کہا: اس پر کیا دَلیل؟ آپ نے ایک دلیل قائم فرمائی، وہ خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا اُستاد) رہ چکا ہے اس نے وہ دلیل توڑ دی۔ اُنہوں نے دوسری دلیل قائم کی اُس نے وہ بھی توڑ دی۔ یہاں تک کہ 360 دلیلیں حضرت نے قائم کیں اور اس نے سب توڑ دیں۔ اب یہ سخت پریشا نی میں اور نہایت مایوس آپ کے پیر حضرت نجمُ الدین کبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں دُور دَراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے، وہاں سے آپ نے آواز د ی” کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خُدا کو بے دلیل ایک مانا ۔“اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ کسی مُرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیناچاہیے کہ ان کی باطنی توجہ وَسوسۂ شیطانی کو بھی دفع کرتی ہے اور اِیمان کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط ذَریعہ ہے
دَمِ نَزع شیطاں نہ اِیمان لے لے
حِفاظت کی فرما دُعا غوثِ اعظم
مُریدین کی موت توبہ پہ ہو گی
ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم
مِری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد
ہوں میں بھی مُرید آپ کا غوثِ اعظم
کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً نہ ہو گا بُراخاتِمہ غوثِ اعظم
مُرید ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اِنسان مُرشدِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنَّت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہِ باطن ومعرِفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ راستہ اِنتہائی کٹھن اور باریک ہے جسے بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہٰذا اس راستے کو کامیابی وکامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے اِنسان کو مُرشدِ کامل کی ضَرورت ہوتی ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ الرَحْمَہ فرماتے ہیں مُرید کو کسی مُرشِد و اُستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دِین کا راستہ اِنتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شیطانی راستے بکثرت اور نمایاں ہیں تو جس کا کوئی مُرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتا ہے جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتا ہے وہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتا ہے جیسے خود بخود اُگنے والا پودا جلد ہی سُوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہو گا۔ مُرید پر ضَروری ہے کہ وہ مُرشِد کا دَامن اس طرح تھام لے جس طرح اَندھا نہر کے کنارے اپنی جان نہر پار کرانے والے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی اِتباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی اسے چھوڑتا ہے
*احیاءُ العلوم ، کتاب ریاضة النفس و تھذیب الاخلاق بیان شروط الارادة...الخ ، ۳ / ۹۳*
ازپئے غوثُ الوریٰ یامصطَفٰے
میرے اِیماں کی حِفاظت کیجئے
از طفیلِ مُرشِدی دِل سے مِرے
دُور دُنیا کی مَحبَّت کیجئے
*پیرو مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ*
فیض کی تعریف کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ الرحمہ فرماتے ہیں فیض بَرَکات اور نورانیت کا دوسرے پر اِلقاء فرمانا ہے
*فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۶۴*
فیض حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مُرید اپنے پیر و مُرشِد سے کامل مَحبَّت کرےاُس کے اَحکام بجا لائے اور ہر وہ جائز کام کرے جس سے وہ خوش و راضی ہو اُس کی کامل تعظیم و توقیر کرے اور اپنے اَقوال و اَفعال و حرکات و سکنات میں اُس کی ہدایات کے مطابق (جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) پابند رہے تاکہ اُس سے فُیوض و بَرَکات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے
پیر و مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مُرید ہمیشہ اپنے آپ کو کمالات سے خالی سمجھے اگرچہ کتنا ہی علم وفضل والا کیوں نہ ہو کہ کچھ ہونے کی سمجھ انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان کا خُلاصہ ہےبھر لینے والے کو چاہیے کہ جب کسی چیز کے حاصل کرنے کا اِرادہ کرے تو اگرچہ کمالات سے بھرا ہوا ہو مگر کمالات کو دروازے پر ہی چھوڑ دے (یعنی عاجزی اِختیار کرے) اور یہ خیال کرے کہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ خالی ہو کر آئیگا تو کچھ پائے گا اور جو اپنے آپ کو بھرا ہوا سمجھے گا تو یاد رہے کہ بھرے برتن میں کوئی اور چیز نہیں ڈالی جا سکتی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ کی سچی محبت نصیب کرے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے،اٰمِیْن
رشحات قلم
خلیفہ پیر ابوالبرکات حضور ارشد میاں سبحانی
محمداسماعیل خان امجدی ارشدی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک تھانہ ضلع گونڈہ اترپردیش
جب نزع کا وقت ہوتا ہے تو اس مشکل ترین وقت میں شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے جو اسے دینِ اسلام سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر اِنسان کسی پیرِ کامل کا مُرید ہو تو شیطان کے ان چیلوں کو ناکام بناتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور پیرِ کامل کی بَرکت سے اپنا
اِیمان سلامت لے کر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ493 پر ہے: ”امام فخرُالدِّین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نزع کا جب وقت آیا ،شیطان آیا کہ اس وقت شیطان پوری جان توڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (مرنے والے کا) کا اِیمان سلب ہوجائے (یعنی چھین لیا جائے) ، اگر اس وقت پھرگیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا۔ اُس نے اِن سے پوچھا کہ تم نے عمر بھر مُناظروں مُباحثوں میں گزاری ،خدا کو بھی پہچانا؟ آپ نے فرمایا بیشک خدا ایک ہے۔اس نے کہا: اس پر کیا دَلیل؟ آپ نے ایک دلیل قائم فرمائی، وہ خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا اُستاد) رہ چکا ہے اس نے وہ دلیل توڑ دی۔ اُنہوں نے دوسری دلیل قائم کی اُس نے وہ بھی توڑ دی۔ یہاں تک کہ 360 دلیلیں حضرت نے قائم کیں اور اس نے سب توڑ دیں۔ اب یہ سخت پریشا نی میں اور نہایت مایوس آپ کے پیر حضرت نجمُ الدین کبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں دُور دَراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے، وہاں سے آپ نے آواز د ی” کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خُدا کو بے دلیل ایک مانا ۔“اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ کسی مُرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیناچاہیے کہ ان کی باطنی توجہ وَسوسۂ شیطانی کو بھی دفع کرتی ہے اور اِیمان کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط ذَریعہ ہے
دَمِ نَزع شیطاں نہ اِیمان لے لے
حِفاظت کی فرما دُعا غوثِ اعظم
مُریدین کی موت توبہ پہ ہو گی
ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم
مِری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد
ہوں میں بھی مُرید آپ کا غوثِ اعظم
کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً نہ ہو گا بُراخاتِمہ غوثِ اعظم
مُرید ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اِنسان مُرشدِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنَّت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہِ باطن ومعرِفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ راستہ اِنتہائی کٹھن اور باریک ہے جسے بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہٰذا اس راستے کو کامیابی وکامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے اِنسان کو مُرشدِ کامل کی ضَرورت ہوتی ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ الرَحْمَہ فرماتے ہیں مُرید کو کسی مُرشِد و اُستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دِین کا راستہ اِنتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شیطانی راستے بکثرت اور نمایاں ہیں تو جس کا کوئی مُرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتا ہے جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتا ہے وہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتا ہے جیسے خود بخود اُگنے والا پودا جلد ہی سُوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہو گا۔ مُرید پر ضَروری ہے کہ وہ مُرشِد کا دَامن اس طرح تھام لے جس طرح اَندھا نہر کے کنارے اپنی جان نہر پار کرانے والے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی اِتباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی اسے چھوڑتا ہے
*احیاءُ العلوم ، کتاب ریاضة النفس و تھذیب الاخلاق بیان شروط الارادة...الخ ، ۳ / ۹۳*
ازپئے غوثُ الوریٰ یامصطَفٰے
میرے اِیماں کی حِفاظت کیجئے
از طفیلِ مُرشِدی دِل سے مِرے
دُور دُنیا کی مَحبَّت کیجئے
*پیرو مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ*
فیض کی تعریف کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ الرحمہ فرماتے ہیں فیض بَرَکات اور نورانیت کا دوسرے پر اِلقاء فرمانا ہے
*فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۶۴*
فیض حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مُرید اپنے پیر و مُرشِد سے کامل مَحبَّت کرےاُس کے اَحکام بجا لائے اور ہر وہ جائز کام کرے جس سے وہ خوش و راضی ہو اُس کی کامل تعظیم و توقیر کرے اور اپنے اَقوال و اَفعال و حرکات و سکنات میں اُس کی ہدایات کے مطابق (جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) پابند رہے تاکہ اُس سے فُیوض و بَرَکات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے
پیر و مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مُرید ہمیشہ اپنے آپ کو کمالات سے خالی سمجھے اگرچہ کتنا ہی علم وفضل والا کیوں نہ ہو کہ کچھ ہونے کی سمجھ انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان کا خُلاصہ ہےبھر لینے والے کو چاہیے کہ جب کسی چیز کے حاصل کرنے کا اِرادہ کرے تو اگرچہ کمالات سے بھرا ہوا ہو مگر کمالات کو دروازے پر ہی چھوڑ دے (یعنی عاجزی اِختیار کرے) اور یہ خیال کرے کہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ خالی ہو کر آئیگا تو کچھ پائے گا اور جو اپنے آپ کو بھرا ہوا سمجھے گا تو یاد رہے کہ بھرے برتن میں کوئی اور چیز نہیں ڈالی جا سکتی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ کی سچی محبت نصیب کرے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے،اٰمِیْن
واللہ اعلم
تبصرے