سید التابعین خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی ذات تابعین کرام کی انجمن میں منفرد و ممتاز ہیں آپ کے دانتوں کے تعلق سے دو طرح کے اقوال ملتے ہیں کہ جب آپ نے سنا کہ تاجدار کاٸنات ﷺ کا دندان مبارک جنگ احد میں شہید ہو گیا تو آپ نے اپنے تمام دانتوں کو توڑ لیا دوسرا قول یہ ہے کہ آپ کے دانت خود بخود ٹوٹ گۓ
آو اس تناظر میں حقائق کا جاٸزہ لیتے ہیں کہ حقيقت کیا ہے اسمیں صاحبین علم و فضل کی آرا کیا ہے ملاحظہ فرماٸیں
شیخ فرید الدین عطار علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ملنے گۓ تو حضرت اویس قرنی نے کہا اگر آپ رسول کریم ﷺ کے دوستوں میں سے ہیں تو یہ بتاۓ کہ جنگ احد میں حضور ﷺ کا کونسا دانت مبارک شہید ہوا تھا پھر آپ نے اتباع نبوی میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ ڈالے یہ کہکر آپ نے اپنے تمام ٹوٹے ہوۓ دانت دکھا کر کہا کہ جب دانت مبارک شہید ہوا تو میں نے اپنا ایک دانت توڑ ڈالا پھر خیال آیا کہ شاید کوٸی دوسرا دانت شہید ہوا ہو اسی طرح جب ایک ایک کرکے تمام دانت توڑ ڈالے اس وقت مجھے سکون ہوا یہ دیکھ کر دونوں صحابہ پر رقت طاری ہو گٸ اور یہ اندازہ ہو گیا کہ پاس ادب کا یہی حق ہوتا ہے گو حضرت اویس دیدار نبی سے مشرف نہ ہوسکے لیکن اتباع رسالت کا مکمل حق ادا کرکے دنیا کو درس ادب دیتے ہوۓ رخصت ہو گۓ
*تذکرة الاولیا صفحہ 13 مطبوعہ مکتبہ جام نور دھلی*
مفسر اعظم پاکستان فیض ملت ، حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے والے دانت غزوہ احد میں شہید ہوئے اور جب یہ خبر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچی تو ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنے سامنے والے چاروں دانت نکال دیئے اور کتب سیرت و تاریخ کی مشہور روایت میں ہے کہ یہ خبر سننے پر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دانت اپنے آپ جھڑ گئے ۔
*فتاوی اویسیہ، جلد1، صفحہ نمبر288، صدیقی پبلشرز کراچی،*
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنگ احد میں آقاۓ نامدار ﷺ کے دانت مبارک کی شہادت کی خبرسنی تو تفصیل معلوم نہ کر سکے کہ کون سا دانت شہید ہوا ہے غلبہ محبت میں اپنے سارے دانت توڑ ڈالے
*خواجہ اویس قرنی صحابی یا تابعی صفحہ 5 مطبوعہ حلقیہ اویسیہ رضویہ ملتان*
حضرت عمر اور حضرت علی سے اویس قرنی نے فرمایا کہ آپ حضور ﷺ کے دوستان صادق میں سے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا بھلا دوستی کا یہی تقاضہ تھا کہ جنگ احد میں جس روز حضور پرنور ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا اس روز آپ نے حضور ﷺ کی متابعت اور محبت میں اپنا دانت کیوں شہید نہ فرمایا اسکے بعد آپ نے اپنا منہ کھولا تو آپ کے منہ میں ایک دانت بھی نہ تھا فرمایا حالانکہ میں زیارت رسول ﷺ سے مشرف نہ ہو سکا اور نہ ہی بظاہر ان کے رفقا میں سے تھا لیکن دیکھۓ میں حضور ﷺ کی عقیدت و محبت میں میں نے اپنا ایک ایک دانت اسلۓ توڑ ڈالا کہ شاید یہ نہ ہو کوٸی اور ہو اسی شبہ میں میں نے جب تک اپنے سب دانت نہ توڑ ڈالے مجھے چین نصیب نہ ہوا
*ذکر اویس قرنی ص 131 مطبوعہ مکتبہ اویسیہ رضویہ پاکستان*
طبقات کبری میں ہے
واللہ ماکسرت رباعیتہ ﷺحتی کسرت رباعیتی ولا شح وجہھہ حتی شح وجہی ولا وطنی ظہرہ حتی وطنی ظہری
اسپر ذرا غور کجیٸے
ایک لفظ ہے کسرت مجہول واحد مٶنث کا صیغہ بمعنی ٹوٹ گٸ
اور اگر واحد متکلم کا صیغہ پڑھا جاۓ تو معنی ہونگے میں نے اپنا دانت توڑ دیا
اسی میں اختلاف ہے کہ جس نے واحد متکلم کا صیغہ پڑھا اس نے کہا اویس قرنی نے اپنا دانت خودبخود توڑ دیا جس نے مجہول کا صیغہ پڑھا اس نے کہا دانت خودبخود ٹوٹ گۓ تھے آپ نے توڑے نہیں تھے
بہرحال دانت کا ٹوٹنا ثابت ہے آپ نے خود توڑے یا خود بخود ٹوٹے اسمیں اختلاف ہے
*طبقات الکبری لامام شعرانی، ذکر اویس قرنی، صفحہ نمبر43، دار الکتب العلمیۃ بیروت*
یہ بھی بات ذھن نشین کرلو کہ تاجدار کاٸنات ﷺ کا داندان مبارک پورا شہید نہ ہوا تھا بلکہ داندان مبارک کا چھوٹا سا ٹکڑا شہید ہوا تھا
جس سے نور کے شعاٸیں عیاں ہوتی تھیں
جیسا کہ محقق علی الاطلاق عاشق رسول اللہ عارف باللہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ وشکستہ شدن دندان نہ بآں معنی کہ از بیخ افتادہ باشدود ردند انہار خنہ پیدا شدہ باشد بلکہ پارہ ازآں اشد
ترجمہ یعنی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے داندان مبارک شہید ہونے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ جڑ سے اکھڑ گیا ہو اور وہاں رخنہ پیدا ہو گیا ہو بلکہ ایک ٹکڑا مبارک جدا ہوا تھا
*اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب المبعث وبدا الوحی الفصل الثالث، جلد اول صفحہ 515*
حکیم الامت حضرت العلام مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے داہنی کے نیچے کی چوکڑی کے ایک دانت شریف کا ایک ٹکڑا ٹوٹا تھا، یہ دانت (مکمل) شہید نہ ہوا تھا ۔ *مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد8، صفحہ نمبر105*
ڈاکٹر سید عامر گیلانی تحریر فرماتے ہیں حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام دانت مبارک شہید کر دیۓ کوٸی سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے اللہ تعالی کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے محبوب کے عشق کی یہ ادا اتنی پسند آٸی کہ اللہ تعالی نے کیلے کا درخت پیدا فرمایا تاکہ آپ کو نرم غذا مل سکے جبکہ اس سے قبل کیلے درخت کا یا پھل کا زمین پر وجود نہ تھا
*سیرت اویس قرنی صفحہ 47*
معلوم ہوا ان سیرت نگاروں کے نزدیک دندان شکنی کا واقعہ مسلم ہے اگر اس واقعہ کی حقيقت مسلم نہ ہوتی تو اتنی عظیم البرکات شخصیتیں اپنے صحف نیرہ میں قلم بند نہ فرماتے
اور عینی جلد 17 صفحہ 160 میں ہے کسرت رباعیته" یعنی حضور علیہ السلام کے رباعیہ دندان مبارک شہید ہوگئے اور اسکی خبر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو ہوئی اور انہوں نے اپنے دانت شہید کر لئے یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی کوئی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے
*فتاوی بریلی شریف صفحہ 301*
حضور مفتی شریف الحق امجدی شارح بخاری علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ اور افترا ہے کہ حضرت اویس قرنی نے یہ سنا کہ غزوۂ احد میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے تو انہوں نے اپنا سب دانت توڑ ڈالے اور انھیں کھانے کیلئے کسی نے حلوہ پیش کیا ایسی کوئی روایت نگاہ سے نہیں گزری ہے
*فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 114*
حضرت علامہ مولانا علی بن سلطان محمد القاری تحریر فرماتے ہیں عوام میں جو مشہور ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے مبارک دانتوں کو زخم آۓ تو شدت حزن و غم کی وجہ سے اپنے سارے دانت نکال دیۓ کیونکہ ان کو یہ معلوم نہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کے کون سے دانت کو تکلیف پہنچی ہے تو علماء کرام کے نزدیک اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے اور اس کے علاوہ یہ عمل شریعت مبارکہ کے بھی مخالف ہے کیونکہ صحابہ اکرام علیہم الرضوان میں سے تو کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا اور پھر یہ عبث کام سواۓ بیوقوفوں کے کسی سے صادر نہیں ہو سکتا
*لمعدن العدنی فی فضل اویس القرنی ص 55*
شعیب رضا نظامی گورکھپوری تحریر فرماتے ہیں بہرحال میری یہ راۓ ہے کہ اگرچہ یہ روایت سندا درست نہیں مگر باب فضاٸل میں کوٸی حرج نہیں جبکہ عوام میں مشہور یہی ہے کیونکہ متن میں کوٸی اضطراب نظر نہیں آتا ہاں جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام خود اذیت کی کب اجازت دیتا ہے چونکہ دانت اس کی نعمت ہیں اس لۓ ان کا توڑنا کفرانے نعمت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام سے ایسا کوٸی فعل سرزد نہیں ہوا
اسکا جواب یہ ہے کہ در اصل یہ اعتراض انسانی کیفیت اور ان کے احکام کی طرف توجہ نہ دینے کی بنا پر پیدا ہوتا ہے انسان کی دوکیفیتیں ہیں
حالت صحو ہوشیاری اور بیدار کی کیفیت اسمیں حواس خمسہ اور عقل مکمل طور پر کام کر رہی ہوتی ہے اس حالت میں شرع کے تمام تر احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں
حالت سکر یہ مستی اور بے خودی کی کیفیت ہے اسمیں انسان ازخود رفتہ ہو جاتا ہے اسمیں تن بدن کا ہوش نہیں رہتا جس طرح کسی جنگ میں ایک تیر حضرت علی شیر خدا کے جسم میں ہو گیا تکلیف کی شدت کے پیش نظر تیر نکلانا دشوار ہو گیا لیکن یہی تیر نماز کی حالت میں بآسانی سے نکال لیا گیا اور آپ نے جنبش تک نہ کی وجہ ظاہر ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت میں تن بدن کا ہوش نہیں رہتا تھا ایسی مستی کی کیفیت میں انسان مرفوع القلم ہوتا ہے
لہذا اس پر حالت صحو والے احکام نافذ نہیں ہو سکتے مغلوب الحال وفانی الصفت معذور باشد ایں چنیں کسے را عاصی نہ تواں گفت
یعنی مغلوب الحال فانی الصف لوگ معذور ہوتے ہیں ایسے شخص کو خطا کار نہیں کہا جا سکتا
دندان شکنی کے بارے میں ایک عجیب روایت مواردالشرعہ شرح شرعة الاسلام کی چالسویں فصل میں درج ہے چنانچہ جب یہ بات عام ہوگٸ کہ جنگ احد میں پتھر لگنے سے حضور ﷺ کے دانت مبارک شہید ہو گۓ تھے یہ خبر جب حضرت اویس قرنی نے سنی تو انھوں نے عالم جذب و کیف اور عشق و محبت میں اپنے تمام دانت توڑ ڈالے
ایک بزرگ کے مرید خانقاہ سے باہر بیٹھ کر یہ واقعہ آپس میں بیان کر رہے تھے بزرگ موصوف نے اپنے مریدوں کو اندر بلایا اور ان سے کہا کہ جب تم یہ واقعہ بیان کر رہے تھے اس وقت خواجہ اویس قرنی میرے پاس تشریف فرما تھے آپ سے اس واقعہ کی آپ سے تصدیق چاہی تو آپ نے فرمایا کہ میرے دانت ہاتھ لگاۓ بغیر ٹوٹ گۓ تھے
علامہ محمود بن احمد اس کے تحت لکھتے ہیں
لہذا ثابت ہوا کہ حضرت خواجہ اویس قرنی نے اپنے دندان مبارک خود نہیں توڑے بلکہ یہ اعجاز تھا اس تعلق خاص اور عشق کامل کا جو حضرت اویس قرنی کو حضور ﷺ سے تھا جب دونوں میں محبت کمال کو پہنچتی ہے تو محب پر محبوب کی تمام کیفیات طاری ہو جاتی ہیں ایسے حالات و واقعات عاشقان صادقان سے اکثر ظہور پزیر ہوتے ہیں
شنیدم کہ روزے کرد لیلی
بقصد فصد سوۓ نیش لیلی
چو زد لیلی بحی نیش از پۓ خوں
بوادی رفت خوں از دست مجنوں
میں نے سنا ہے کہ ایک روز لیلی نے فصد کھولنے کا لۓ نشتر ہاتھ میں لیا جیسے ہی لیلی نے خون نکالنے کے لیے چلایا تو جنگل میں مجنون کے ہاتھ سے خون جاری ہو گیا
*لطاٸفہ نفیسیہ در فضاٸل اویسیہ صفحہ 161 تا 162 مطبوعہ رضوی کتاب گھر دھلی*
اللہ ﷻ سید التابعین فنا فی الرسول خواجہ اویس قرنی کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے حق گوٸی و بے باکی ہر گام پر عطا فرمائے
واللہ اعلم
آو اس تناظر میں حقائق کا جاٸزہ لیتے ہیں کہ حقيقت کیا ہے اسمیں صاحبین علم و فضل کی آرا کیا ہے ملاحظہ فرماٸیں
شیخ فرید الدین عطار علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ملنے گۓ تو حضرت اویس قرنی نے کہا اگر آپ رسول کریم ﷺ کے دوستوں میں سے ہیں تو یہ بتاۓ کہ جنگ احد میں حضور ﷺ کا کونسا دانت مبارک شہید ہوا تھا پھر آپ نے اتباع نبوی میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ ڈالے یہ کہکر آپ نے اپنے تمام ٹوٹے ہوۓ دانت دکھا کر کہا کہ جب دانت مبارک شہید ہوا تو میں نے اپنا ایک دانت توڑ ڈالا پھر خیال آیا کہ شاید کوٸی دوسرا دانت شہید ہوا ہو اسی طرح جب ایک ایک کرکے تمام دانت توڑ ڈالے اس وقت مجھے سکون ہوا یہ دیکھ کر دونوں صحابہ پر رقت طاری ہو گٸ اور یہ اندازہ ہو گیا کہ پاس ادب کا یہی حق ہوتا ہے گو حضرت اویس دیدار نبی سے مشرف نہ ہوسکے لیکن اتباع رسالت کا مکمل حق ادا کرکے دنیا کو درس ادب دیتے ہوۓ رخصت ہو گۓ
*تذکرة الاولیا صفحہ 13 مطبوعہ مکتبہ جام نور دھلی*
مفسر اعظم پاکستان فیض ملت ، حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے والے دانت غزوہ احد میں شہید ہوئے اور جب یہ خبر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچی تو ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنے سامنے والے چاروں دانت نکال دیئے اور کتب سیرت و تاریخ کی مشہور روایت میں ہے کہ یہ خبر سننے پر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دانت اپنے آپ جھڑ گئے ۔
*فتاوی اویسیہ، جلد1، صفحہ نمبر288، صدیقی پبلشرز کراچی،*
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنگ احد میں آقاۓ نامدار ﷺ کے دانت مبارک کی شہادت کی خبرسنی تو تفصیل معلوم نہ کر سکے کہ کون سا دانت شہید ہوا ہے غلبہ محبت میں اپنے سارے دانت توڑ ڈالے
*خواجہ اویس قرنی صحابی یا تابعی صفحہ 5 مطبوعہ حلقیہ اویسیہ رضویہ ملتان*
حضرت عمر اور حضرت علی سے اویس قرنی نے فرمایا کہ آپ حضور ﷺ کے دوستان صادق میں سے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا بھلا دوستی کا یہی تقاضہ تھا کہ جنگ احد میں جس روز حضور پرنور ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا اس روز آپ نے حضور ﷺ کی متابعت اور محبت میں اپنا دانت کیوں شہید نہ فرمایا اسکے بعد آپ نے اپنا منہ کھولا تو آپ کے منہ میں ایک دانت بھی نہ تھا فرمایا حالانکہ میں زیارت رسول ﷺ سے مشرف نہ ہو سکا اور نہ ہی بظاہر ان کے رفقا میں سے تھا لیکن دیکھۓ میں حضور ﷺ کی عقیدت و محبت میں میں نے اپنا ایک ایک دانت اسلۓ توڑ ڈالا کہ شاید یہ نہ ہو کوٸی اور ہو اسی شبہ میں میں نے جب تک اپنے سب دانت نہ توڑ ڈالے مجھے چین نصیب نہ ہوا
*ذکر اویس قرنی ص 131 مطبوعہ مکتبہ اویسیہ رضویہ پاکستان*
طبقات کبری میں ہے
واللہ ماکسرت رباعیتہ ﷺحتی کسرت رباعیتی ولا شح وجہھہ حتی شح وجہی ولا وطنی ظہرہ حتی وطنی ظہری
اسپر ذرا غور کجیٸے
ایک لفظ ہے کسرت مجہول واحد مٶنث کا صیغہ بمعنی ٹوٹ گٸ
اور اگر واحد متکلم کا صیغہ پڑھا جاۓ تو معنی ہونگے میں نے اپنا دانت توڑ دیا
اسی میں اختلاف ہے کہ جس نے واحد متکلم کا صیغہ پڑھا اس نے کہا اویس قرنی نے اپنا دانت خودبخود توڑ دیا جس نے مجہول کا صیغہ پڑھا اس نے کہا دانت خودبخود ٹوٹ گۓ تھے آپ نے توڑے نہیں تھے
بہرحال دانت کا ٹوٹنا ثابت ہے آپ نے خود توڑے یا خود بخود ٹوٹے اسمیں اختلاف ہے
*طبقات الکبری لامام شعرانی، ذکر اویس قرنی، صفحہ نمبر43، دار الکتب العلمیۃ بیروت*
یہ بھی بات ذھن نشین کرلو کہ تاجدار کاٸنات ﷺ کا داندان مبارک پورا شہید نہ ہوا تھا بلکہ داندان مبارک کا چھوٹا سا ٹکڑا شہید ہوا تھا
جس سے نور کے شعاٸیں عیاں ہوتی تھیں
جیسا کہ محقق علی الاطلاق عاشق رسول اللہ عارف باللہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ وشکستہ شدن دندان نہ بآں معنی کہ از بیخ افتادہ باشدود ردند انہار خنہ پیدا شدہ باشد بلکہ پارہ ازآں اشد
ترجمہ یعنی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے داندان مبارک شہید ہونے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ جڑ سے اکھڑ گیا ہو اور وہاں رخنہ پیدا ہو گیا ہو بلکہ ایک ٹکڑا مبارک جدا ہوا تھا
*اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب المبعث وبدا الوحی الفصل الثالث، جلد اول صفحہ 515*
حکیم الامت حضرت العلام مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے داہنی کے نیچے کی چوکڑی کے ایک دانت شریف کا ایک ٹکڑا ٹوٹا تھا، یہ دانت (مکمل) شہید نہ ہوا تھا ۔ *مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد8، صفحہ نمبر105*
ڈاکٹر سید عامر گیلانی تحریر فرماتے ہیں حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام دانت مبارک شہید کر دیۓ کوٸی سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے اللہ تعالی کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے محبوب کے عشق کی یہ ادا اتنی پسند آٸی کہ اللہ تعالی نے کیلے کا درخت پیدا فرمایا تاکہ آپ کو نرم غذا مل سکے جبکہ اس سے قبل کیلے درخت کا یا پھل کا زمین پر وجود نہ تھا
*سیرت اویس قرنی صفحہ 47*
معلوم ہوا ان سیرت نگاروں کے نزدیک دندان شکنی کا واقعہ مسلم ہے اگر اس واقعہ کی حقيقت مسلم نہ ہوتی تو اتنی عظیم البرکات شخصیتیں اپنے صحف نیرہ میں قلم بند نہ فرماتے
اور عینی جلد 17 صفحہ 160 میں ہے کسرت رباعیته" یعنی حضور علیہ السلام کے رباعیہ دندان مبارک شہید ہوگئے اور اسکی خبر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو ہوئی اور انہوں نے اپنے دانت شہید کر لئے یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی کوئی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے
*فتاوی بریلی شریف صفحہ 301*
حضور مفتی شریف الحق امجدی شارح بخاری علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ اور افترا ہے کہ حضرت اویس قرنی نے یہ سنا کہ غزوۂ احد میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے تو انہوں نے اپنا سب دانت توڑ ڈالے اور انھیں کھانے کیلئے کسی نے حلوہ پیش کیا ایسی کوئی روایت نگاہ سے نہیں گزری ہے
*فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 114*
حضرت علامہ مولانا علی بن سلطان محمد القاری تحریر فرماتے ہیں عوام میں جو مشہور ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے مبارک دانتوں کو زخم آۓ تو شدت حزن و غم کی وجہ سے اپنے سارے دانت نکال دیۓ کیونکہ ان کو یہ معلوم نہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کے کون سے دانت کو تکلیف پہنچی ہے تو علماء کرام کے نزدیک اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے اور اس کے علاوہ یہ عمل شریعت مبارکہ کے بھی مخالف ہے کیونکہ صحابہ اکرام علیہم الرضوان میں سے تو کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا اور پھر یہ عبث کام سواۓ بیوقوفوں کے کسی سے صادر نہیں ہو سکتا
*لمعدن العدنی فی فضل اویس القرنی ص 55*
شعیب رضا نظامی گورکھپوری تحریر فرماتے ہیں بہرحال میری یہ راۓ ہے کہ اگرچہ یہ روایت سندا درست نہیں مگر باب فضاٸل میں کوٸی حرج نہیں جبکہ عوام میں مشہور یہی ہے کیونکہ متن میں کوٸی اضطراب نظر نہیں آتا ہاں جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام خود اذیت کی کب اجازت دیتا ہے چونکہ دانت اس کی نعمت ہیں اس لۓ ان کا توڑنا کفرانے نعمت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام سے ایسا کوٸی فعل سرزد نہیں ہوا
اسکا جواب یہ ہے کہ در اصل یہ اعتراض انسانی کیفیت اور ان کے احکام کی طرف توجہ نہ دینے کی بنا پر پیدا ہوتا ہے انسان کی دوکیفیتیں ہیں
حالت صحو ہوشیاری اور بیدار کی کیفیت اسمیں حواس خمسہ اور عقل مکمل طور پر کام کر رہی ہوتی ہے اس حالت میں شرع کے تمام تر احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں
حالت سکر یہ مستی اور بے خودی کی کیفیت ہے اسمیں انسان ازخود رفتہ ہو جاتا ہے اسمیں تن بدن کا ہوش نہیں رہتا جس طرح کسی جنگ میں ایک تیر حضرت علی شیر خدا کے جسم میں ہو گیا تکلیف کی شدت کے پیش نظر تیر نکلانا دشوار ہو گیا لیکن یہی تیر نماز کی حالت میں بآسانی سے نکال لیا گیا اور آپ نے جنبش تک نہ کی وجہ ظاہر ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت میں تن بدن کا ہوش نہیں رہتا تھا ایسی مستی کی کیفیت میں انسان مرفوع القلم ہوتا ہے
لہذا اس پر حالت صحو والے احکام نافذ نہیں ہو سکتے مغلوب الحال وفانی الصفت معذور باشد ایں چنیں کسے را عاصی نہ تواں گفت
یعنی مغلوب الحال فانی الصف لوگ معذور ہوتے ہیں ایسے شخص کو خطا کار نہیں کہا جا سکتا
دندان شکنی کے بارے میں ایک عجیب روایت مواردالشرعہ شرح شرعة الاسلام کی چالسویں فصل میں درج ہے چنانچہ جب یہ بات عام ہوگٸ کہ جنگ احد میں پتھر لگنے سے حضور ﷺ کے دانت مبارک شہید ہو گۓ تھے یہ خبر جب حضرت اویس قرنی نے سنی تو انھوں نے عالم جذب و کیف اور عشق و محبت میں اپنے تمام دانت توڑ ڈالے
ایک بزرگ کے مرید خانقاہ سے باہر بیٹھ کر یہ واقعہ آپس میں بیان کر رہے تھے بزرگ موصوف نے اپنے مریدوں کو اندر بلایا اور ان سے کہا کہ جب تم یہ واقعہ بیان کر رہے تھے اس وقت خواجہ اویس قرنی میرے پاس تشریف فرما تھے آپ سے اس واقعہ کی آپ سے تصدیق چاہی تو آپ نے فرمایا کہ میرے دانت ہاتھ لگاۓ بغیر ٹوٹ گۓ تھے
علامہ محمود بن احمد اس کے تحت لکھتے ہیں
لہذا ثابت ہوا کہ حضرت خواجہ اویس قرنی نے اپنے دندان مبارک خود نہیں توڑے بلکہ یہ اعجاز تھا اس تعلق خاص اور عشق کامل کا جو حضرت اویس قرنی کو حضور ﷺ سے تھا جب دونوں میں محبت کمال کو پہنچتی ہے تو محب پر محبوب کی تمام کیفیات طاری ہو جاتی ہیں ایسے حالات و واقعات عاشقان صادقان سے اکثر ظہور پزیر ہوتے ہیں
شنیدم کہ روزے کرد لیلی
بقصد فصد سوۓ نیش لیلی
چو زد لیلی بحی نیش از پۓ خوں
بوادی رفت خوں از دست مجنوں
میں نے سنا ہے کہ ایک روز لیلی نے فصد کھولنے کا لۓ نشتر ہاتھ میں لیا جیسے ہی لیلی نے خون نکالنے کے لیے چلایا تو جنگل میں مجنون کے ہاتھ سے خون جاری ہو گیا
*لطاٸفہ نفیسیہ در فضاٸل اویسیہ صفحہ 161 تا 162 مطبوعہ رضوی کتاب گھر دھلی*
اللہ ﷻ سید التابعین فنا فی الرسول خواجہ اویس قرنی کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے حق گوٸی و بے باکی ہر گام پر عطا فرمائے
واللہ اعلم
الامجدی
تبصرے