نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسجد کو سجانا، نیز لائٹ لگانا عندالشرع کیسا ہے؟

 


اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 

السوال علماء کرام کی بارگاہِ عالیہ میں عرض ہے کہ مسجد کو رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے لایٹ سے سجانا عندالشرع کیسا ہے جواب ارسال فرمائیں مہربانی ہوگی

المستفتی محمد امتیاز رضوی بہار

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ

الجواب بــعون الملڪ الوالھاب 

مذکورہ زیب وزینت شرعا جائز ہے اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے فرمادیجئے کہ اس زینت وزیبائش کو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی ہے، اسی طرح ضرورت اور مصلحت کے مطابق روشنی کا انتظام کرنا بھی جائز ہے مختلف حالات کے لحاظ سے ضرورت بدلتی رہتی ہے مثلا مکان کی تنگی اور کشادگی،  لوگوں کی قلت وکثرت ، منازل کی وحدت وتعدد وغیرہ ان صورتوں میں ضرورت اور حاجت میں تبدیل آجاتی ہے،  تنگ منزل اور تھوڑے مجمع میں دو تین چراغ بلکہ ایک بھی کافی ہوتاہے کشادہ اور بڑے گھر زیادہ لوگوں اور متعدد منزلوں کے لئے دس بیس بلکہ ان سے بھی زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے امیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ رمضان شریف میں رات کے وقت مسجد نبوی میں تشریف لائے تو مسجد کو چراغوں سے منور اور جگمگاتے ہوئے دیکھا کہ ہر سمت روشنی پھیل رہی تھی آپ نے امیر المومنین سیدناحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بذریعہ دعا یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے فرزند خطاب! تم نے ہماری مساجد کو منور وروشن کیا اللہ تعالٰی تمھاری قبر کو منور فرمائے حدیث میں قبروں پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی جانے والی روایت سے مخالفین جو استدلال اور سہارا لیتے ہیں اس کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس حدیث کی سند میں باذام نامی راوی ضعیف ہے۔ از روئے عقل بھی مخالفین کے لئے مفید نہیں، البتہ روشنی کا بے فائدہ اور فضول استعمال جیسا کہ بعض لوگ ختم قرآن والی رات یا بزرگوں کے عرسوں کے مواقع پر کرتے ہیں سیکڑوں چراغ عجیب وغریب وضع وترتیب کے ساتھ اوپر نیچے اور باہم برابر طریقوں سے رکھتے ہیں محل نظر ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ فقہائے کرام نے کتب فقہ مثلا غمز العیون وغیرہ میں اسراف فضول خرچی کی بنا پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اسراف صادق آئے گا وہاں پرہیز ضروری ہےالقرآن الکریم ۷/ ۳۲تاریخ الخلفاء فصل فی اولیات عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبع مجتبائی دہلی ص۹۷ مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس دارالفکر بیروت ۱/ ۲۲۹ جامع الترمذی باب کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا امین کمپنی دہلی ۱/ ۴۳ فتاوی رضویہ جلد 23 ص257 رسم ورواج ریاء وتفاخر وبدعت واسراف وغیرہ کا بیان

واللہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ گونڈہ یوپی

(۱۴)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۵) اگست ٠٢٠٢؁ء بروزبدھ

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.