السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بھی شخص کو خون دینا کیسا ہےالمستفتی، محمد اسلم رضا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھابکسی بھی انسان کا اپنے خون کا عطیہ کرنا ناجائز و گناہ ہے کہ انسان اپنے جسم کے کسی جز کا مالک نہیں اس لئے اپنے جسم کے کسی عضو کا عطیہ نہیں کر سکتا، قرآن مجید میں ہے، اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ، سورہ النحل آیت نمبر 115،البتہ اگر خون کی سخت کمی یا فساد کی وجہ سے ہلاک ہوجانے کا ظن غالب ہو تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت صالح خون چڑھانا جائز ہے , جبکہ خون چڑھانے پر جان بچ جانے کا غالب گمان ہو اور ایسے وقت میں خون دینا بھی جائز ہے، الاشباہ والنظائر میں ہے، الضرورات تبیح المحظورات اھ، الاشباہ والنظائرصفحہ نمبر 94،اور اگر بلڈ بینک والے اسلام کے مخالفین ہیں تو ان کی مدد کرنا اور ان کے بلڈ بینک میں خون دینا حرام سخت حرام ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان، سورہ المائدہ، فتاویٰ مرکز تربیت افتاءجلد دوم صفحہ نمبر 402
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
(۱۴) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۳۰) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز اتوار

تبصرے