اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی پہلی بیوی کا لڑکازید کی دوسری بیوی کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں؟
الـسائـل: حافظ ارباز عالم نظامی کشی نگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب
صورت مستفسرہ میں نکاح جائز ہے کہ باپ کی سالی جبکہ اپنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی یا سوتیلی یا مادری یا رضاعی بہن نہ ہو حلال ہے خواہ نسبی ہو خواہ رضاعی ۔قال اللہ تعالٰی واحل لکم ماوراء ذٰلکم، محرمات مذکورہ کے سوا تم کے لیے حلال ہیں۔القرآن ۴/۲۴، فتاوی رضویہ جلد 11 ۔ص ۔339،ھکذا فتاوی فیض الرسول جلد1ص578
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی
(٢٢) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (١٣) اگست ٠٢٠٢ء بروز جمعرات

تبصرے