السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے ميں کہ عورت میک اپ کر کے نماز پڑھ سکتی ہیں یا نہیں
الســائــل:اسد جاوید
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھاب
اعضائے وضو پر اگر کسی چیز کی تہہ جمی ہو اور پانی جِلد تک نہ پہنچ پائے تو وضو نہیں ہوگا. قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ، اے ایمان والو. جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تَیَمُّمْ کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ ﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ، کنزالایمان سورۃالْمَآئِدَة،اگر میک اپ میں صرف رنگ ہوں اور وہ اعضائے وضو تک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہوں تو میک اپ پر وضو ہو جائے گا۔ لیکن اگر میک اپ کی تہہ جمی ہو جو پانی کو اعضائے وضو کی جلد تک نہ پہنچنے دے تو میک اپ پر وضو نہیں ہوگاجب وضونہ ہوگاتو نمازبھی نہ ہوگی، خواتین کا میک اپ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ غیر مردوں کے سامنے بے پردگی اور نمود ونمائش مقصود نہ ہو لپ اسٹک لگانا جائز ہے بشرطیکہ اس کے اجزاء ترکیبی میں کوئ ناپاک چیز شامل نہ ہو اور اگر لپ اسٹک واٹر پروف ہے اور اس کے لگے رہنے کی وجہ سے ہونٹوں کی جلد وضو کے دوران پانی سے تر نہیں ہوتی تو وضو ادا نہیں ہوگا اور ایسے نا تمام وضو سے نماز صحیح ادا نہیں ہوگی اور جو چیز کسی شرعی فرض کی صحت ادا میں مانع بن جائے وہ جائز نہیں ہے، ماخوذ از تفہیم المسائل جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 190, 191
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ گونڈہ پوپی
(۱۷) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۸) اگست ٠٢٠٢ء بروز شنبہ

تبصرے