السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شکل خراب کرنا کیسا ہے ؟؟
کوئی تحریر فتویٰ دے بھائی کی اصلاح کرنی ہے
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ولو كان المسافر فی طين وردغة لا يجد ماء ولا صعيدا وليس فی ثوبه وسرجه غبار يلطخ ثوبه أو بعض جسده بالطين فاذا جف تيمم به ولا ينبغی أن يتيمم ما لم يخف ذهاب الوقت لأن فيه تلطخ الوجه من غير ضرورة فيصير بمعنى المثلة “یعنی کوئی مسافرشخص کسی کیچڑ اور دلدل جیسی جگہ میں ہو ، جہاں نہ پانی دستیاب ہے نہ خشک مٹّی، نہ ہی کپڑے یازِین پرغبار ہے ، تواپنے کپڑے یاجسم کے کسی حصّے پرکیچڑ لگالے، جب خشک ہوجائے ، تو اس سے تیمم کرے اور جب تک وقت نکلنے کااندیشہ نہ ہو ، اس سے تیمم نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ اس میں بلاضرورت ،چہرہ آلودہ ہوکرمثلہ(صورت بگاڑنے) کے معنی میں ہوجاتاہے۔
(فتاویٰ عالمگیری،جلد1 صفحہ27،مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:’’منہ کیچڑ سے ساننا صورت بگاڑنا ہے اور صورت بگاڑنا مُثلہ اور مُثلہ حرام ہے ، یہاں تک کہ جہاد میں حربی کافروں کوبھی مُثلہ کرنا صحیح حدیث میں منع فرمایا،جن کے قتل کاحکم فرمایا اُن کے بھی مثلہ کی اجازت نہیں دی۔ افسوس اُن مسلمانوں پر کہ باہم کھیل میں ایک دوسرے کے منہ پر کیچڑ تھوپتے ہیں یاہنسی سے کسی کے سوتے میں اس کے منہ پر سیاہی لگاتے ہیں ، یہ سب حرام ہے اور اس سے پرہیز فرض۔
(فتاوٰی رضویہ ،جلد 3صفحہ667،رضافاؤنڈیشن لاھور)
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد اختر علی واجدالقادری عفی عنہ
25/12/2020/جمعہ

تبصرے