نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطإہوٸی اور خطاۓ اجتہادی گناہ نہیں ہوتی؟

 


الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ
الســـــــــــوال ↧↧*
تمام قابل قدر علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ ہے کہ فقیر کے دل میں ایک وسوسہ ہے کہ اگر انبیاء کرام معصوم ہے تو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کی نافرمانی کیسے کی اگرچہ پھر توبہ بھی کی*چونکہ توبہ گناہ سے معافی مانگنے کا نام ہے تو  برائے کرام اس* *وسوسہ کو ختم کریں اور جواب عنایت فرمائیں اسکی طرف تھوری سی رہنمائ*فرمادیں علماء کرام
الســائل  ریاض الدین مدھوبنی {بہار}۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↧↧ 
جب حضرت حوا  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے شجرہ ممنوعہ  میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا توانہوں نے بھی کھالیا اور یہ خیال کیا کہ اللہ  تعالٰی کی ممانعت تحریمی نہ تھی بلکہ تنزیہی تھی یعنی حرام قرار دینے کیلئے نہ تھی بلکہ ایک ناپسندیدگی کا اظہار تھا ۔یہاں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی گناہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ شیطان کے دھوکے کی وجہ سے انہوں نے اس ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا اور پھل کھاتے ہی ان کے پردے کے مقام بے پردہ ہوگئے اور وہ اسے چھپانے کیلئے ان پر پتے ڈالنے لگے الخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں ایک اہم مسئلہ یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ آج کل بیباکی کا دور ہے اور جس کا جو جی چاہتا ہے بول دیتا ہے یہاں تک کہ مذہبی معاملات میں اور اہم عقائد میں بھی زبان کی بے احتیاطیاں شمار سے باہر ہیں ، اس میں سب سے زیادہ بے باکی جس مسئلے میں دیکھنے میں آتی ہے وہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جنتی ممنوعہ درخت سے پھل کھانا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں
غیرِتِلاوت میں اپنی طرف سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمۂ دین  نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا (ہے)۔
(فتاوی رضویہ، ۱ / ۸۲۳)
لہٰذااپنے ایمان اور قبرو آخرت پر ترس کھاتے ہوئے اِن معاملات میں خاص طور پر اپنی زبان پر قابو رکھیں۔
وَ لَا تَقْرَبَا: اور قریب نہ جانا۔} آیت میں اصل ممانعت درخت کا پھل کھانے کی ہے لیکن اس کیلئے فرمایا کہ قریب نہ جانا۔ اس طرزِ خطاب سے علماء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اصل فعل کے ارتکاب سے بچانے کیلئے اس کے قریب جانے سے بھی روکنا چاہیے جیسے بچے کے سیڑھیوں سے گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اسے صرف سیڑھیوں پر کھڑا ہونے سے منع نہیں کرتے بلکہ سیڑھیوں کے قریب بھی نہیں جانے دیتے۔ اسی طرح بیسیوں کاموں میں علماء کرام اسی اندیشے سے منع فرماتے ہیں کہ کوئی فعل بذاتِ خود منع نہیں ہوتا لیکن اگر لوگ اس کے قریب جائیں گے تو ممنوع کا ارتکاب کربیٹھیں گے جیسے عورتوں کو قبرستان جانے سے منع کرنے میں یہی حکمت ہے۔ اسی سے پیر اور مشائخ کے فعل کا استدلال ہوسکتا ہے کہ وہ مریدوں کی تربیت کیلئے بعض اوقات کسی جائز کام سے بھی روک دیتے ہیں کیونکہ وہ جائز کام کسی برائی تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے
*فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ:ورنہ تم زیادتی کرنے والوں سے ہوجاؤ گے۔}’’ظلم ‘‘کا معنیٰ ہے’’ کسی شے کواس کی اپنی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ رکھنا‘‘ اور یہاں آیت میں ظلم خلافِ اَولیٰ کے معنی میں ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام *معصوم ہوتے ہیں اوران سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا،ان کے معصوم ہونے پربیسیوں دلائل ہیں

وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ
فقیـــر محمــــــــد اســـمــاعــیــل خــان الـقـــادری الرضـــــوی الامجــــدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـورانــی
  مقام دولـھـاپـور پـہـاڑی پـوسـٹ انـٹـیـاتـھـوک بـازار ضـلـــع گــونــڈہ یـــوپـــی
رابـطــہ کـریـں
*📲 +9 1 9 9 1 8 5 6 2 7 9 4

(١)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (٢٣) جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز  جمعرات

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.