نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جنازے کی نماز ہورہی ہے اور وضوبھی نہیں ہے تو جنازے میں کیسے شامل ہو؟

 

الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ

السوال اگرجنازے کی نماز ہورہی ہے اور ایک انسان وضونہیی کیا اور وقت بھی نہیں ہے ایک تکبیر ہو گئی تو وہ کیا کرے کیا وہ جنازے میں شامل ہو سکتا ہے

  المستفتی no name

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ

 الجواب بعون الملڪ الوالھاب 

جنازہ تیار ہے جانتا ہے کہ وضو یا غسل کرے گا تو نماز ہو جائے گی تیمم کر کے پڑھے بہارشریعت حصہ چہارم جنازہ کابیان ص 829 البتّہ جس ولی کو حَقِّ تَقَدُّم حاصل ہو(مثلاََبادشاہ اسلام        پھر قاضی، پھر امام جمعہ، پھر امام محلہ یا ولی ) اس کے لیے جائز نہیں ایسا ہی ہدایہ ، خانیہ اور کافی وغیرہ میں  ہے۔و جد المختارکتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱،ص۳۹۴ غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں   تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے ولی نے جس کو نماز پڑھانے کی اجازت دی ہو اسے تیمم جائز نہیں اور ولی کو اس صورت میں اگر نماز فوت ہونے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے۔ یوہیں   اگر دوسرا ولی اس سے بڑھ کر موجود ہے تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ خوف فوت کے یہ معنی ہیں   کہ چاروں   تکبیریں   جاتی رہنے کا اندیشہ ہو اور اگر یہ معلوم ہو کہ ایک تکبیر بھی مل جائے گی تو تیمم جائز نہیں ایک جنازہ کے لیے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر دوسرا جنازہ آیا اگر درمیان میں   اتنا وقت ملا کہ وُضو کرتا تو کر لیتا مگر نہ کیا اور اب وُضو کرے تو نماز ہو چکے گی تو اس کے لیے اب دوبارہ تیمم کرے اور اگر اتنا وقفہ نہ ہو کہ وُضو کر سکے تو وہی پہلا تیمم کافی ہے بہار شریعت حصہ دوم تیمم کابیان ص553

واللہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ گونڈہ پوپی

 (۲۱)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۷) دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز. دوشنبہ

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.