نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زلف کی مقدار کتنی ہے؟

 



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ

کیا فرماتے ہیں علمإ کرام مسٸلہ ذیل میں کہ زلف کی مقدار کتنی ہونی چاہیے بعض کاندھے تک بعض کان کی لو تک کہتے ہیں تو سنت کیا ہے مرید کو اگر کبھی پیر کے ایمان پر شک ہوتو اس سے اسکی بیعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ معتبر جواب سے نوازے

 المستفتی محمد سجاد رضا رضوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارَک زُلفیں کبھی نصف یعنی آدھے کان مبارَک تک توخ کبھی کان مبارَک کی لَو تک اورخ بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴،۳۵،۱۸ ہمیں چاہئے کہ موقع بہ موقع تینوں سنتیں ادا کریں ،یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زلفیں رکھیں کندھوں کو چُھونے کی حد تک زلفیں بڑھانے والی سنَّت کی ادائیگی عُمُوماً نفس پرزیادہ شاق  یعنی بھاری ہوتی ہے مگر زندَگی میں ایک آدھ بار تو ہر ایک کویہ سنَّت ادا کرہی لینی چاہئے ، البتہ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ بال کندھوں سے نیچے نہ ہونے پائیں ، پانی سے اچّھی طرح بھیگ جانے کے بعد زُلفوں کی درازی یعنی لمبائی خوب نُمایاں ہو جاتی ہے لہٰذا جن دنوں بڑھائیں ان دنوں غسل کے بعدکنگھی کرکے غور سے دیکھ لیا کریں کہ بال کہیں کندھوں سے نیچے تو نہیں جا رہے میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : عورَتوں کی طرح  کندھوں سے نیچے بال رکھنا مَرد کیلئے حرام ہے فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۶۰۰ حضورصَدرُالشَّریعہ، حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں مرد کویہ جائز نہیں کہ عورَتوں کی طرح بال بڑھائے، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گدّی کی طرف گانٹھ بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خِلاف شَرع ہیں اور رہی بات شک کی بنیاد پر پیر سے رشتہ منقطع کرنا یہ جاٸز نہیں ہے جب تک پیر کا کوٸی خلاف شرع کام ثابت نہ ہوجاے اس پر حکم لگانا مناسب نہیں
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ دولھاپور گونڈہ پوپی

 (٨)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (٢٩) جولائی ٠٢٠٢؁ء
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.