نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتکاف کی فضیلت

*💎اعتکاف ماہ رمضان کی خصوصی عبادات میں سے ایک عبادت ہے*💎

*ہر طرف سے منقطع ہوکر، دل و دماغ کو دنیاوی کھیل تماشوں سے ہٹا کر اﷲ تعالیٰ کے در پر دھرنا مار کر بیٹھ جانا اور فقط اپنے مہربان پرودگار جل جلالہ سے لو لگائے بیٹھ جانے کا نام اعتکاف ہے*
*اس کا سب سے افضل وقت ماہ رمضان کا آخری عشرہ ہے*۔

*اعتکاف کا جو اجر و ثواب آخرت میں ملے گا وہ تو وہیں بندہ دیکھے گا مگر جس بندے کو اعتکاف کی اصل روح نصیب ہوجائے، مسجد میں قیام کی چاشنی نصیب ہوجائے اور اپنے رب کی محبت کا کوئی ذرہ نصیب ہوجائے جس کے سامنے ساری نعمتیں اور لذتیں ہیچ ہیں اس بندے کا کیا کہنا، یقیناوہ بندہ اﷲ تعالیٰ کا حقیقی مہمان ہے۔اگر معتکفین پر اعتکاف کی اصل لذت منکشف ہوجائے تو ہماری مسجدیں رمضان میں معتکفین سے بھری رہا کریں*۔

*اب آپ کے سامنے اعتکاف فضیلت احادیث کی روشنی میں پیش کرتا ہوں*۔

*حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے رمضان المبارک میں )دس دن( کا اعتکاف کرلیاوہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے* )

*📚شعب الایمان جلد 3ص 425*

*(حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم نور مجسم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لئے تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسے ان کے کرنے کے لئے ہوتی ہیں )*

*📚ابن ماجہ جلد 2ص 265*

*(حدیث شریف: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے )*

*📚جامع الصغیر ص 516*

*(رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف کیا جاتا ہے وہ اعتکاف مسنون ہے*۔

*اس اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ ختم ہونے کے وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند ہونے تک باقی رہتا ہے*۔
*چونکہ اس اعتکاف کاآغاز اکیسویں شب سے ہوتا ہے اور رات غروب آفتاب سے شروع ہوجاتی ہے، اس لئے اعتکاف کرنے والے کو چاہئے کہ بیسویں روز کو مغرب سے اتنے پہلے مسجد کی حدود میں پہنچ جائے کہ غروب آفتاب مسجد میں ہو*۔

*رمضان شریف کے عشرۂ اخیرہ کا یہ اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے*۔

 *یعنی ایک بستی یا محلے میں کوئی ایک شخص اعتکاف کرلے تو تمام اہل محلہ کی طرف سے سنت ادا ہوجائے گی*، *لیکن اگر سارے محلہ میں سے کسی ایک نے بھی اعتکاف نہ کیا تو سارے محلے والوں پر ترک سنت کا گناہ ہوگا )*

*📚فتاوی شامی*

*(اس سے واضح ہوگیا کہ یہ ہر محلے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے سے یہ تحقیق کریں کہ ہماری مسجد میں کوئی شخص اعتکاف میں بیٹھ رہا ہے یا نہیں*؟

 *اگر کوئی آدمی نہ بیٹھ رہا ہو تو فکرکرکے کسی کو بٹھائیں۔ لیکن کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف میں بٹھانا جائز نہیں*۔

 *کیونکہ عبادت کے لئے اجرت دینا اور لینا دونوں ناجائز ہیں )*

*📚فتاوی شامی*

*(اگر محلے والوں میں سے کوئی بھی کسی مجبوری کی وجہ سے اعتکاف میں بیٹھنے کے لئے تیار نہ ہوتو کسی دوسرے محلے کے آدمی کو اپنی مسجد میں اعتکاف کرنے کے لئے تیار کرلیں*۔

*دوسرے محلہ کے آدمی کے بیٹھنے سے بھی اس محلے والوں کی سنت ان شاء اﷲ ادا ہوجائے گی۔*

*اعتکاف کا رکن اعظم یہ ہے کہ انسان اعتکاف کے دوران مسجد کی حدود میں رہے اور حوائج ضروریہ کے سوا*

*💎واللہ تعالی واعلم*💎

☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄
*💎✍ازقلم حضرت علامہ ومولانامحمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی  خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*💎

*💎اعلی حضــرت زندہ بادگروپ اہل علم کےلئے*💎
*☎9918562794*
☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄
*💎المشتہـــر محمد ایــو رضـا خان*💎
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.