نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیاقرض لیکر گھر کو رہن رکھنا درست ہے

*🌹کیا قرض لیکر گھر کو رہن ( گروی )رکھنا درست ہے یا نہیں?🌹*

*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*حضرت مہربانی کرکے اس جواب عنایت فرمائیں سوال یہ ہے کہ*
*ایک آدمی ایک شخص سے چار لاکھ روپے لیا اور اس کے بدلے وہ اپنا گھر اسکو دیا اور کہا کہ جب میں چار لاکھ روپے واپس کردوں گا تو میرا گھر چھوڑ دینا تو اس طرح سے پیسے لینا کیسا ہے برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں*

*🌹سائل طفیل رضا🌹*



*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب :*
*اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں فقیہ ملت مفتی جلال الدین علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں*
*کہ زید نے اپنا گھر بکر کو دیا اور کہا کہ مجھ کو چار لاکھ روپیہ دو جب تک میں روپئے واپس نہ کرو تم گھر سے فائدہ حاصل کرو*
*تو یہ معاملہ بظاہر رہن کاہے لیکن شرعی نقطہ نظر سے قرض بشرط نفع کا ہے*

*🏷یعنی اس میں روپیہ قرض دے کر مقروض کے گھر سے نفع حاصل کرنے کی شرط ہوتی ہے*
*جو سود و حرام ہے لھذا مسلمانوں کا آپس میں یہ معاملہ کرنا ناجائز وگناہ ہے*

*📄فتاوی مرکز تربیت افتاء*

*🏷حدیث شریف میں کل قرض جر منفعة فھو ربا*

*📕کنزالعمال جلد 6ص238*

*📿ردالمختار میں ہے*
*لایحل لہ ان ینتفع بشی منہ بوجہ من الوجوہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن لہ فی الربالانہ یستوفی دینہ کاملا فتبقی لہ المنفعة فتکون ربا وھذا امر عظیم اھ*
*رد المختار جلد 5ص166*

*📤ہاں اگر زید کو چار لاکھ کی سخت ضرورت ہے اور صورت مذکورہ کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں تو زید اپنی ضرورت اس طرح پوری کرسکتا ہے کہ جس سے قرض لے اسے گھر کرایہ پردے یعنی جہاں پر  گھر کا کرایہ پانچ سو روپیہ ملتا ہو یہ ڈھائی سو روپیہ مقرر کرکے یہ شرط لگادے کہ یہ رقم زر قرض سے مجرا ہوتی رہے گی جب کل رقم ادا ہوجاے گی اس وقت مکان یا کھیت واپس مل جاے گا اس سے قرض دینے والے کو بھی فائدہ ہوگا کہ پانچ سوکا گھر اسے ڈھائی سو میں مل جاے گا*

*📕ھکذا فتاوی مرکز تربیت افتاء*

*اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعتمیں ارشاد فرماتے ہیں*
 * ایک شخص سے روپیہ قرض لیا اوراُس نے اپنا مکان رہنے کو دے دیا کہ جب تک قرض ادا نہ کر دوں   تم اس میں   رہو یا کھیت اسی طرح دیا مثلاً  سو ۱۰۰ روپے قرض لے کر کھیت دے دیا کہ قرض دینے والا کھیت جوتے بوئے گا اور نفع اُٹھائے گایہ صورت رہن میں داخل نہیں   بلکہ یہ بمنزلہ اجارہ فاسدہ ہے۔ اُس شخص پر اجرت مثل لازم ہے کیونکہ مکان یاکھیت اُسے مفت نہیں   دے رہا ہے بلکہ قرض کی وجہ سے دے رہا ہے اور چونکہ قرض سے انتفاع حرام ہے*
*لہٰذا اُجرت مثل دینی ہوگی۔*

* (ردالمحتار)*
* بعض لوگ قرض لےکر مکان یا کھیت رہن رکھ دیتے ہیں   کہ مرتہن مکان میں   رہے اور کھیت کو جوتے بوئے اور مکان یا کھیت کی کچھ اُجرت مقرر کر دیتے ہیں   مثلاً مکان کا کرایہ پانچ روپے ماہوار یا کھیت کا پٹہ دس روپے سال ہونا چاہیے اور طے یہ پاتا ہے کہ یہ رقم زر قرض سے مجرا ہوتی رہے گی*

*جب کُل رقم ادا ہو جائے گی اُس وقت مکان یا کھیت واپس ہو جائے گا اس صورت میں   بظاہر کوئی قباحت نہیں   معلوم ہوتی اگرچہ کرایہ یا پٹہ واجبی اُجرت سے کم طے پایا ہو اور یہ صورت اجارہ میں   داخل ہے یعنی اتنے زمانہ کے لیے مکان یا کھیت اُجرت پر دیا اور زر اجرت پیشگی لے لیا*

*📚بہار شریعت حصہ ہفدہم رہن کا بیان*


*🌹واللہ اعلم🌹*

    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی  خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*۱۵ نومبر بروز جمعرات ۲۰۱۸*

*رابطہ* *919918562794+📞*

 *🌹فـخــر ازہـــر گــروپ میں ایڈکے لئے🌹*👇

*📞+917800878771*
    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*🖥المـرتـب     گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.