*🌹جن اسکولوں میں شرکیہ تعلیم ہو وہاں بچوں کو پڑھنے کے لئے بھیجنا کیسا؟🌹*
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ!*
*مسئلہ:*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ انگریزی تعلیم کے لیے بچوں کو اسکول میں بھیجنا کیسا ہے؟
جہاں قرآن و حدیث کے خلاف اور اولیائے کرام کی شان کے برعکس پڑھایا جاتا ہو مثلاً: (معاذاللہ)
۱. پرتھوی (دنیا) گھوم رہی ہے
۲. انسان پہلے بندر تھے
۳. حضرت اورنگ زیب (رضی اللہ عنہ) کی شان میں گستاخیاں کرنا
۴. کافروں کے بتوں کی جئے بلوانا؛ لکھوانا
۵. کافر استاد کے لیے یا انکی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا. البتہ کافروں کی تعظیم کرنا
۶. موہنداس کرم چند گاندھی کے نام کے آگے مہاآتمہ جیسے تعظیمی الفاظ کا استعمال کرنا.
مہاتمہ (روح القدس)
۷. جن گن من پڑھنا
۸. وندے ماترم پڑھنا
۹. سنسکرت زبان میں شامل اشلوک پڑھنا. جن میں بتوں کی تعریف اور اوصاف ہوں.
۱۰. غرض کہ ایسی بہت سی مشرکانہ چیزیں جن میں پرارتھنا کروانا. ہاتھ جوڑکر اور بہت سی ایسی باتیں ہیں.
تو ایسی صورت میں بچوں کو اسکول بھیجنا کیسا؟ اور جو بھیجتا ہے اس پر شریعت میں کیا حکم ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں یا ائمۂِ مجتہدین کے اجتمع کی روشنی میں حوالجات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں اور تحریری نسخہ بھی عنایت فرمائیں...
*🌹سائل: محمد عرفان رضا جام نگر گجرات🌹*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب ؛*
*ایسے اسکول میں بچوں کو تعلیم کے لئے بھیجنا اشد حرام ہے اور منجرالی الکفر ہے*
*🏷پوجا سرسوتی کی ہو یا کسی دیوی دیوتا کی شرک ہے*
*اور وندے ماترم کا گانا خود مشرکانہ ہے*
*ماتھے پر ٹیکا لگانا کفر ہے یہ خاص ہندوں کا مذہبی شعار ہے اور ہندو ہونے کی علامت*
*بچے تو غیر مکلف بھی ہیں اور ناسمجھ اور ماں باپ کے تابع ہیں ماں باپ جہاں بھیجیں گے چلے جائیں گے*
*لیکن جب معلوم ہے کہ ان اسکولوں میں پوجا ہوتی ہے وندے ماترم کا گانا بچوں کو سکھایا جاتا ہے پیشانی پر قشقہ ٹیکا لگایا جاتا ہے*
*📿ان اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا کفر پر راضی ہونا ہے اور رضابالکفر کفر ہے*
*ارشاد ہے انکم اذامثلھم لوگوں کو سمجھایا جاے*
*اور یہ فتوی دکھایا جاے مان جائیں تو بہتر ہے*
*🍢سمجھانے اور فتوی دکھانے پر جو لوگ نہ مانیں پھر بھی بچوں کو بھیجیں*
*وہ لوگ اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد ہوجائیں گے*
*انکی بیویاں انکے نکاح سے خارج ہوجائیں گی*
*ان کے سارے اعمال حسنہ اکارت ہوجائیں گے*
*اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے*
*📕فتاوی شارح بخاری جلددوم ص591*
*🌹واللہ اعلم🌹*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*۱۵ بومبر بروز جمعرات ۲۰۱۸*
*رابطہ* *919918562794+📞*
*🌹فـیضــان غـوث و خـواجـہ گــروپ میں ایڈکے لئے🌹*👇
*📞+917800878771*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*🖥المـرتـب گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ!*
*مسئلہ:*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ انگریزی تعلیم کے لیے بچوں کو اسکول میں بھیجنا کیسا ہے؟
جہاں قرآن و حدیث کے خلاف اور اولیائے کرام کی شان کے برعکس پڑھایا جاتا ہو مثلاً: (معاذاللہ)
۱. پرتھوی (دنیا) گھوم رہی ہے
۲. انسان پہلے بندر تھے
۳. حضرت اورنگ زیب (رضی اللہ عنہ) کی شان میں گستاخیاں کرنا
۴. کافروں کے بتوں کی جئے بلوانا؛ لکھوانا
۵. کافر استاد کے لیے یا انکی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا. البتہ کافروں کی تعظیم کرنا
۶. موہنداس کرم چند گاندھی کے نام کے آگے مہاآتمہ جیسے تعظیمی الفاظ کا استعمال کرنا.
مہاتمہ (روح القدس)
۷. جن گن من پڑھنا
۸. وندے ماترم پڑھنا
۹. سنسکرت زبان میں شامل اشلوک پڑھنا. جن میں بتوں کی تعریف اور اوصاف ہوں.
۱۰. غرض کہ ایسی بہت سی مشرکانہ چیزیں جن میں پرارتھنا کروانا. ہاتھ جوڑکر اور بہت سی ایسی باتیں ہیں.
تو ایسی صورت میں بچوں کو اسکول بھیجنا کیسا؟ اور جو بھیجتا ہے اس پر شریعت میں کیا حکم ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں یا ائمۂِ مجتہدین کے اجتمع کی روشنی میں حوالجات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں اور تحریری نسخہ بھی عنایت فرمائیں...
*🌹سائل: محمد عرفان رضا جام نگر گجرات🌹*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب ؛*
*ایسے اسکول میں بچوں کو تعلیم کے لئے بھیجنا اشد حرام ہے اور منجرالی الکفر ہے*
*🏷پوجا سرسوتی کی ہو یا کسی دیوی دیوتا کی شرک ہے*
*اور وندے ماترم کا گانا خود مشرکانہ ہے*
*ماتھے پر ٹیکا لگانا کفر ہے یہ خاص ہندوں کا مذہبی شعار ہے اور ہندو ہونے کی علامت*
*بچے تو غیر مکلف بھی ہیں اور ناسمجھ اور ماں باپ کے تابع ہیں ماں باپ جہاں بھیجیں گے چلے جائیں گے*
*لیکن جب معلوم ہے کہ ان اسکولوں میں پوجا ہوتی ہے وندے ماترم کا گانا بچوں کو سکھایا جاتا ہے پیشانی پر قشقہ ٹیکا لگایا جاتا ہے*
*📿ان اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا کفر پر راضی ہونا ہے اور رضابالکفر کفر ہے*
*ارشاد ہے انکم اذامثلھم لوگوں کو سمجھایا جاے*
*اور یہ فتوی دکھایا جاے مان جائیں تو بہتر ہے*
*🍢سمجھانے اور فتوی دکھانے پر جو لوگ نہ مانیں پھر بھی بچوں کو بھیجیں*
*وہ لوگ اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد ہوجائیں گے*
*انکی بیویاں انکے نکاح سے خارج ہوجائیں گی*
*ان کے سارے اعمال حسنہ اکارت ہوجائیں گے*
*اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے*
*📕فتاوی شارح بخاری جلددوم ص591*
*🌹واللہ اعلم🌹*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*۱۵ بومبر بروز جمعرات ۲۰۱۸*
*رابطہ* *919918562794+📞*
*🌹فـیضــان غـوث و خـواجـہ گــروپ میں ایڈکے لئے🌹*👇
*📞+917800878771*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*🖥المـرتـب گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
تبصرے