🕋🕋🕋🕋7⃣8⃣6⃣🕋🕋🕋🕋
*💚کہیں پڑا ہوا مال ملے تو اس کا حکم کیاہے 💚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
❓اگر کوئ شخص راستے میں پڑا کوئ چیز پاے مثلاً روپیہ تو کیا کرے
کیا وہ روپیہ خود استعمال کر سکتا ہے
جواب ایک پوسٹ کی شکل میں عنایت فرمائیں کرم ہوگاـ
*🌹محمد شکیل نظامی بستوی*
🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ برکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
صورت مسؤلہ میں پہلے عرض یہ ھیکہ جو مال کہیں پڑا ہوا ملے اور اس کا مالک معلوم نہ اصطلاح شرع میں اسے لقطہ کہتے ہیں" اور لقطہ امانت کے حکم میں ہے اٹھانے والے پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہدے کہ جو کوئی گمی چیز تلاش کرتا ہوا ملے اسے میرے پاس بھیج دینا اور جہاں وہ چیز پائی ہو وہاں اور بازاروں میں اور شارع عام اور مسجدوں میں اعلان کرے اگر مالک مل جائے تو اسے دیدیں ورنہ اتنا زمانہ گزرنے پر کہ ظن غالب ہو جائے کہ اب اس کا مالک تلاش نہیں کرے گا اسے اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرے یا اگر خود مسکین ہے تو اپنے اوپر صرف کرے ورنہ صدقہ کردے
بہر کیف اگر وہ اشیاء کھانے یا پھل کی قسم سے ہے تو یہ گمان ہونے پر کہ اب رکھی رہے گی تو خراب ہو جائیگی تو وہ شخص خود اپنے صرف میں لا سکتا ہے؛ یا غنی ہے تو فقیر کو تصدق کردے؛ پھر اگر مالک مل گیا اور وہ چیز صرف کر چکاہے تو مالک کو اختیار یے اس کے تصرف کو جائز کر دے تو مستحق ثواب ہوگا یا تاوان لے
فھکذا درمختار میں ہےفان اشھد علیه عرف ای نادی علءھا حیث وجدھا و فی المجامع الی ان علم ان صاحبھا لا یطلبھا او انھا تفسد ان بقیت کا لاطعمه والثمار کانت امانته فینتفع الرافع بھا لو فقیرا و الا تصدق بھا علی فقیر و لو علی اصله و فرعه و عرسه فان جاء مالکھا بعد التصدق خیر بین اجارۃ فعله و لو بعد ھلاکھا و له ثوابھا او تضمینه ھ۱ ملتقطا
نیز جانور کا بھی یہی حکم ہے اور اس کی تعریف بھی اس مدت تک کی جائے کہ اب اس میں اگر تصرف نہ کرے گا تو ضائع ہوجائے گا اسی میں ہے ندب الملتقاط البھیمۃ الضالۃ و تعریفھا مالا یخف ضیا عھا
اور غنی مال لقطہ کو مسجد میں نہیں صرف کر سکتا
*📚الدرالمختار فوق ردالمحتار جلد چہارم صفحہ 278*
*📚 فتاوی امجدیہ جلد دوم صفحہ 314*
*📚بہار شریعت حصہ دہم صفحہ 10*
*📚فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 120*
*♦واللـــہ تـعالـــیٰ اعلــم باالصــواب♦*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆*
*✍🏼ازقـــــلــم حضـــرت علامــــہ ومولانـــا*
*محمـــد اسمــاعیـل خـان امجـدی صاحـب*
*قبلــــہ مدظلــــہ العـــالــٰـی والنـــــورانــــی*
*دولـھـــــــاپورضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــــــــ
https://wa.me/+919918562794
*اگست 16/08/2019 عیسوی بروز جمعہ*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆
*🖥الـمــرتــب،محمد اسراءالحق قادری بہـار*
*رابطہ*
https://wa.me/+918425086470
*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*
*👈🏻میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👆🏻👆🏻*
*ٹیلی گرام گروپ 🔗لنک:👇*
https://t.me/AalahzratZindabadGroup*
*گوگل میں پڑھنے کے لنک پر کلک کریں👇🏻👇🏻*
https://amjadigroup.blogspot.com/
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*💚کہیں پڑا ہوا مال ملے تو اس کا حکم کیاہے 💚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
❓اگر کوئ شخص راستے میں پڑا کوئ چیز پاے مثلاً روپیہ تو کیا کرے
کیا وہ روپیہ خود استعمال کر سکتا ہے
جواب ایک پوسٹ کی شکل میں عنایت فرمائیں کرم ہوگاـ
*🌹محمد شکیل نظامی بستوی*
🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽🔽
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ برکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
صورت مسؤلہ میں پہلے عرض یہ ھیکہ جو مال کہیں پڑا ہوا ملے اور اس کا مالک معلوم نہ اصطلاح شرع میں اسے لقطہ کہتے ہیں" اور لقطہ امانت کے حکم میں ہے اٹھانے والے پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہدے کہ جو کوئی گمی چیز تلاش کرتا ہوا ملے اسے میرے پاس بھیج دینا اور جہاں وہ چیز پائی ہو وہاں اور بازاروں میں اور شارع عام اور مسجدوں میں اعلان کرے اگر مالک مل جائے تو اسے دیدیں ورنہ اتنا زمانہ گزرنے پر کہ ظن غالب ہو جائے کہ اب اس کا مالک تلاش نہیں کرے گا اسے اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرے یا اگر خود مسکین ہے تو اپنے اوپر صرف کرے ورنہ صدقہ کردے
بہر کیف اگر وہ اشیاء کھانے یا پھل کی قسم سے ہے تو یہ گمان ہونے پر کہ اب رکھی رہے گی تو خراب ہو جائیگی تو وہ شخص خود اپنے صرف میں لا سکتا ہے؛ یا غنی ہے تو فقیر کو تصدق کردے؛ پھر اگر مالک مل گیا اور وہ چیز صرف کر چکاہے تو مالک کو اختیار یے اس کے تصرف کو جائز کر دے تو مستحق ثواب ہوگا یا تاوان لے
فھکذا درمختار میں ہےفان اشھد علیه عرف ای نادی علءھا حیث وجدھا و فی المجامع الی ان علم ان صاحبھا لا یطلبھا او انھا تفسد ان بقیت کا لاطعمه والثمار کانت امانته فینتفع الرافع بھا لو فقیرا و الا تصدق بھا علی فقیر و لو علی اصله و فرعه و عرسه فان جاء مالکھا بعد التصدق خیر بین اجارۃ فعله و لو بعد ھلاکھا و له ثوابھا او تضمینه ھ۱ ملتقطا
نیز جانور کا بھی یہی حکم ہے اور اس کی تعریف بھی اس مدت تک کی جائے کہ اب اس میں اگر تصرف نہ کرے گا تو ضائع ہوجائے گا اسی میں ہے ندب الملتقاط البھیمۃ الضالۃ و تعریفھا مالا یخف ضیا عھا
اور غنی مال لقطہ کو مسجد میں نہیں صرف کر سکتا
*📚الدرالمختار فوق ردالمحتار جلد چہارم صفحہ 278*
*📚 فتاوی امجدیہ جلد دوم صفحہ 314*
*📚بہار شریعت حصہ دہم صفحہ 10*
*📚فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 120*
*♦واللـــہ تـعالـــیٰ اعلــم باالصــواب♦*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆*
*✍🏼ازقـــــلــم حضـــرت علامــــہ ومولانـــا*
*محمـــد اسمــاعیـل خـان امجـدی صاحـب*
*قبلــــہ مدظلــــہ العـــالــٰـی والنـــــورانــــی*
*دولـھـــــــاپورضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــــــــ
https://wa.me/+919918562794
*اگست 16/08/2019 عیسوی بروز جمعہ*
*◆ـــــــــــــــــــــ♻💠♻ــــــــــــــــــــــ◆
*🖥الـمــرتــب،محمد اسراءالحق قادری بہـار*
*رابطہ*
https://wa.me/+918425086470
*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*
*👈🏻میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👆🏻👆🏻*
*ٹیلی گرام گروپ 🔗لنک:👇*
https://t.me/AalahzratZindabadGroup*
*گوگل میں پڑھنے کے لنک پر کلک کریں👇🏻👇🏻*
https://amjadigroup.blogspot.com/
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
تبصرے